کیا واقعی سب ختم ہو چکا, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر


 کیا واقعی سب کچھ ختم ہو چکا ہے؟


زابریافت | صاحبزادہ  زابر سعید بدر 



جنریشن زی کے بیانیے، تاریخ اور فکری فلٹریشن کا سوال


زورین نظامانی اپنے مضمون “It Is Over” میں پورے وثوق سے لکھتے ہیں کہ


“For the older men and women in power, it’s over. The young generation isn’t buying any of what you’re trying to sell.”


یہ جملہ صرف ایک رائے نہیں، بلکہ ایک تاریخی دعویٰ ہے — اور یہی وہ مقام ہے جہاں سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا واقعی یہ پہلا دور ہے جب نوجوان یہ سمجھ رہے ہوں کہ سب کچھ اب انہیں سمجھ آ گیا ہے اور اس سے پہلے سب ناکام تھے؟


اگر انسانیت کی ہزاروں سالہ تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ احساسِ برتری ہر دور کی نوجوان نسل کا المیہ رہا ہے۔ جنریشن گیپ کوئی نئی بیماری نہیں۔ ہم خود اپنے بچپن میں یہی سنتے اور کہتے رہے کہ پچھلی نسل ہمیں نہیں سمجھتی، اور اب وہی مکالمہ نئے الفاظ میں دہرایا جا رہا ہے۔


فرق صرف یہ ہے کہ آج کی جنریشن زی سوشل میڈیا ایج میں پیدا ہوئی ہے۔


نظامانی صاحب لکھتے ہیں:


 “Thanks to the internet… you have failed to tell people what to think; they are thinking for themselves.”


یہ بات جزوی طور پر درست ہے، مگر تاریخی طور پر نامکمل۔

انٹرنیٹ پہلا ذریعہ نہیں جس نے طاقت کے توازن کو بدلا ہو۔

جب پرنٹ میڈیا سے ریڈیو صحافت کا آغاز ہوا، تب بھی یہی شور تھا۔

جب ریڈیو سے ٹیلی وژن آیا، تب بھی یہی کہا گیا کہ اب سب کچھ بدل جائے گا، اقدار ٹوٹ جائیں گی، اور نئی نسل “زیادہ جاننے والی” ہو جائے گی۔


مرزا غالب کے خطوط اٹھا کر دیکھ لیجیے — وہاں بھی آپ کو نسلوں کے درمیان فکری تصادم، اقدار پر سوال، اور زمانے سے شکوہ صاف نظر آتا ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس وقت یہ بحث اعلیٰ دماغوں کی تحریروں میں ملتی تھی، اور لائبریریوں میں بیٹھ کر پڑھی جاتی تھی۔


آج وہی بحث ہر شخص کے فون پر ہے۔


یہی اصل مسئلہ ہے جسے زیرِ بحث مضمون نظرانداز کرتا ہے۔


نظامانی صاحب کے مضمون میں ایک اور جملہ ہے:


 “Half of them will leave, the other half will make you listen to their music.”


یہ مزاحمتی جملہ لگتا ضرور ہے، مگر درحقیقت یہ سماجی فرار اور شور کا اعلان ہے، تعمیر کا نہیں۔

قومیں نہ صرف سوال اٹھانے سے بنتی ہیں بلکہ ذمہ داری قبول کرنے سے بھی۔


یہ کہنا کہ “حب الوطنی بیچی جا رہی ہے” ایک پرکشش نعرہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ

کیا حب الوطنی کو صرف ریاستی ناکامیوں کے ردِعمل تک محدود کر دینا فکری دیانت ہے؟


یہ مضمون یہ تاثر دیتا ہے جیسے تمام نوجوان ایک ہی ذہنی خمار میں مبتلا ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی بڑی تعداد میں ایسے نوجوان موجود ہیں جو تاریخی شعور، اخلاقی پختگی اور سماجی ذمہ داری رکھتے ہیں۔

جب تک یہ نوجوان موجود ہیں، وہ اس ریوڑ کو — جو جہالت، فکری انتشار اور تہذیبی انہدام کی طرف بڑھ رہا ہے — اپنی سمت میں جانے نہیں دیں گے۔


ایک نہایت اہم پہلو جسے یہ مضمون نظرانداز کرتا ہے، وہ ہے گیٹ کیپنگ۔

پہلے ہر شخص کو بولنے کی اجازت نہیں تھی — اس لیے نہیں کہ آزادی سلب کی جائے، بلکہ اس لیے کہ سماج میں بگاڑ نہ پھیلے۔

کروڑوں سال کے ارتقا کے بعد انسان نے ایک سماجی ڈھانچہ بنایا تھا، اقدار وضع کی تھیں، اخلاقِ عامہ تشکیل دیا تھا۔


آج جنریشن زی کے نام پر اسی ڈھانچے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

ہر کم علم، تاریخ سے نابلد اور اخلاقیات سے عاری شخص کے ہاتھ میں وہی ٹول ہے جو کسی زمانے میں صرف اہلِ علم کے پاس تھا۔


اگر بعض سوشل میڈیا آوازوں کو سنیں تو واقعی یوں لگتا ہے کہ انسان کو دوبارہ جنگل کے دور میں دھکیلنے کی خواہش پائی جاتی ہے — جہاں جبلّت، شور اور بے لگامی ہی قانون تھے۔


مگر ایسا نہیں ہوگا۔

ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔


یہ مضمون دراصل علمیت، تاریخی شعور، کردار کی پختگی اور سماجی ذمہ داری کی نفی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ایک سنجیدہ اخبار نے ایسا مضمون شائع کرتے وقت اس کے سماجی اثرات پر کس حد تک غور کیا؟


تنقید ضروری ہے، مگر تاریخ سے کٹی ہوئی تنقید بغاوت نہیں — بدنظمی ہوتی ہے۔


یہ سب کچھ شاید ختم نہیں ہوا۔

خطرہ صرف یہ ہے کہ کہیں ہم ڈیجیٹل شور میں

انسانی تہذیب کے پورے سفر کو ہی رد نہ کر دیں۔


________

#زابرسعیدانسٹیٹیوٹ_آف_میڈیا_اسٹڈیز

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا