کیا انسان موت کو شکست دینے والا ہے؟؟؟ایلون مسک کیا کہتے ہیں.. صاحب زادہ زابر سعید بدر

 زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز 

__________

ایلون مسک کے خیالات: انسان، مشین اور مستقبل کی دنیا



صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 

حفصہ زابر سعید بدر 

::::::::::::::::::

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایلون مسک کا نام صرف ایک صنعت کار یا ارب پتی کا نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کا ہے جو مستقبل کو موجودہ آنکھ سے دیکھنے کے بجائے آنے والی صدیوں کے زاویے سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ حال ہی میں معروف جریدے Fortune کو دیے گئے انٹرویو میں ایلون مسک نے انسانی زندگی، صحت، مشینوں اور مصنوعی ذہانت (AI) کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے جو نہ صرف سائنسی حلقوں بلکہ سماجی اور اخلاقی مباحث میں بھی ہلچل پیدا کر رہے ہیں۔


ایلون مسک کے مطابق انسان قدرتی طور پر نہیں بلکہ حیاتیاتی طور پر “مرنے کے لیے پروگرام” کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انسانی جسم میں موجود اس پروگرام یا نظام کو سمجھ لیا جائے اور اس میں تبدیلی کی جا سکے، تو انسانی عمر کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔ مسک کے نزدیک بڑھاپا کوئی ناقابلِ تغیر تقدیر نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے سائنس اور انجینئرنگ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔


وہ اس بات کی مثال دیتے ہیں کہ انسانی جسم کے تمام اعضا تقریباً ایک ہی رفتار سے بوڑھے ہوتے ہیں۔ نہ کوئی بازو جوان رہ جاتا ہے اور نہ کوئی عضو پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس ہم آہنگی کے پیچھے یقیناً کوئی مرکزی حیاتیاتی گھڑی موجود ہے، جسے شناخت کر کے بدلا جا سکتا ہے۔ یہی سوچ مسک کو اس نتیجے تک لے جاتی ہے کہ انسانی عمر میں اضافہ “ناممکن نہیں بلکہ قابلِ حصول” ہدف ہے۔


مسک کے خیالات صرف انسانی عمر تک محدود نہیں۔ وہ مستقبل کے صحت کے نظام کو بھی یکسر مختلف دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیں گے۔ وہ پیش گوئی کرتے ہیں کہ روبوٹ سرجن انسانوں کے مقابلے میں زیادہ درست، زیادہ محفوظ اور زیادہ مؤثر علاج فراہم کریں گے، کیونکہ ان میں انسانی غلطی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوگا۔


ایلون مسک یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ مستقبل میں ہر انسان کو ایسی طبی سہولت میسر ہوگی جو آج کے طاقتور ترین سربراہانِ مملکت کو بھی حاصل نہیں۔ ان کے نزدیک ٹیکنالوجی صحت کو ایک اشرافیہ کی سہولت کے بجائے عوامی حق بنا دے گی۔


تاہم، یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایلون مسک خود طویل العمر معاشرے کے سماجی اثرات پر مکمل طور پر مطمئن نہیں۔ وہ اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ اگر انسان بہت زیادہ عرصہ زندہ رہنے لگے تو معاشرہ جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔ قیادت تبدیل نہیں ہوگی، نئے خیالات کی راہ رک سکتی ہے، اور طاقت چند ہاتھوں میں طویل عرصے تک سمٹ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لمبی عمر کو ایک سائنسی امکان تو سمجھتے ہیں، مگر اسے سماجی لحاظ سے ایک نازک مسئلہ بھی مانتے ہیں۔


زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایلون مسک کے یہ خیالات میڈیا کے طلبہ اور محققین کے لیے ایک اہم سوال چھوڑتے ہیں:

کیا ٹیکنالوجی انسان کی خادم رہے گی یا انسان خود مشینوں کے نظام کا حصہ بن جائے گا؟

کیا صحت، عمر اور کام کا تصور بدلنے کے بعد انسانی شناخت بھی وہی رہے گی؟


ایلون مسک کا مستقبل بلاشبہ روشن، تیز رفتار اور ٹیکنالوجی سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے، مگر اس میں انسان کا کردار کیا ہوگا—یہ سوال ابھی کھلا ہے۔ میڈیا کا فرض ہے کہ وہ اس بحث کو محض حیرت یا خوف تک محدود نہ رکھے، بلکہ شعور، اخلاق اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھائے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا