کیا یہ پہلی بغاوت ہے؟ زورین نظامانی کے مضمون کا جائزہ | زابر سعید بدر

 کیا یہ پہلی بغاوت ہے؟


زابریافت | صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 


جنریشن زی، میڈیا کا فریب اور تاریخ کا بھولا ہوا سبق



ہر دور کی ایک نوجوان نسل رہی ہے جو یہ سمجھتی رہی کہ اس سے پہلے سب اندھیر تھا اور اب روشنی اس کے ہاتھ لگی ہے۔ یہ کوئی نیا المیہ نہیں، بلکہ انسانیت کی ہزاروں سالہ تاریخ کا مستقل باب ہے۔ جنریشن زی اگر یہ گمان کرتی ہے کہ “اب سب کچھ ہمیں آ چکا ہے”، تو یہ احساسِ برتری ماضی کی ہر نسل میں کسی نہ کسی صورت موجود رہا ہے۔


ہم اگر انسانی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات صاف دکھائی دیتی ہے کہ جنریشن گیپ ہمیشہ رہا ہے۔ ہم نے خود اپنے بچپن میں یہی جملے سنے:

“یہ نئی نسل بگڑ گئی ہے”

اور ہم خود بھی یہی سمجھتے تھے کہ پچھلی نسل ہمیں نہیں سمجھتی۔


فرق صرف یہ ہے کہ آج کی جنریشن زی سوشل میڈیا ایج کی پیداوار ہے۔

لیکن کیا یہ پہلا میڈیا شاک ہے؟


ذرا پیچھے جا کر دیکھیے۔

جب پرنٹ میڈیا سے ریڈیو صحافت کا آغاز ہوا، تو سماج میں شدید ہلچل مچی۔

پھر ریڈیو سے ٹیلی وژن آیا، تو کہا گیا کہ یہ نئی نسل کو تباہ کر دے گا۔

اخلاقیات، اقدار، حب الوطنی — سب پر اس وقت بھی سوال اٹھے۔

تبدیلی تیز تھی، مگر اتنی اچانک نہیں جتنی آج محسوس ہوتی ہے۔


مرزا غالب کے خطوط پڑھ لیجیے — وہاں بھی آپ کو نسلوں کے درمیان فکری تصادم، اقدار پر بحث، اور زمانے سے شکوہ ملتا ہے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس دور میں یہ تنقید اعلیٰ دماغوں کی کتابوں میں محفوظ ہوتی تھی، اور لائبریریوں میں بیٹھ کر پڑھی جاتی تھی۔


آج یہ تنقید ہر شخص کے موبائل فون میں ہے۔


یہی اصل مسئلہ ہے۔


یہ کہنا درست ہے کہ یہ انسانی الجھنوں کی داستان ہر دور میں موجود رہی ہے، کیونکہ یہ انسان کے ارتقا سے جڑی ہوئی ہے۔

لیکن آج ایک خطرناک تبدیلی یہ آئی ہے کہ وہی ٹول — جو کسی زمانے میں اہلِ علم، مفکرین اور سنجیدہ اذہان کے پاس تھا — اب ہر کم علم، نیم خواندہ، تاریخ سے نابلد، اخلاقیات سے بے خبر اور فکری تربیت سے محروم شخص کے ہاتھ میں بھی ہے۔


ہر شخص بول سکتا ہے۔

ہر شخص لکھ سکتا ہے۔

ہر شخص بیانیہ بنا سکتا ہے۔


جبکہ پہلے گیٹ کیپنگ ہوتی تھی — فلٹریشن کے تحت بات کی جاتی تھی — تاکہ سماج میں بگاڑ نہ پیدا ہو۔

یہ اس لیے نہیں تھا کہ آزادی دبائی جائے، بلکہ اس لیے کہ کروڑوں سال کے ارتقا کے بعد جو سماجی ڈھانچہ بنا تھا، اسے قائم رکھا جا سکے۔


آج جنریشن زی کے نام پر اسی ڈھانچے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔

اخلاقِ عامہ کو مذاق بنایا جا رہا ہے۔

انسان کو دوبارہ اس دور کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں وہ جنگل میں ننگا، جبلّتی اور بے لگام تھا۔


اگر آپ بعض سوشل میڈیا آوازوں کو غور سے سنیں تو واقعی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ لوگ تہذیب سے پہلے کے دور میں واپس جانا چاہتے ہوں۔

مگر ایسا نہیں ہوگا۔


ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔


یہ بات بھی پوری ذمہ داری سے کہی جانی چاہیے کہ تمام نوجوان ایسے نہیں ہیں۔

زورین نظامانی کا  مضمون جس تاثر کو پیدا کرتا ہے، وہ یہ ہے جیسے پوری نوجوان نسل ایک ہی خمار میں مبتلا ہو — جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔


آج بھی بے شمار نوجوان موجود ہیں جو

سوچ رکھتے ہیں،

تاریخی شعور رکھتے ہیں،

کردار کی پختگی رکھتے ہیں،

اور سماج کو تعمیر کرنا چاہتے ہیں، توڑنا نہیں۔


جب تک ایسے نوجوان موجود ہیں، وہ اس ریوڑ کو — جو جہالت کے ممبئی، فکری انتشار اور اخلاقی بربادی کی طرف جا رہا ہے — اپنی سمت میں ہانکنے نہیں دیں گے۔


اصل میں زیرِ بحث مضمون علمیت، تاریخی شعور، کردار کی پختگی اور سماجی ذمہ داری جیسی علامتوں کی نفی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسے غصے کی نمائندگی کرتا ہے جس کے پاس زبان تو ہے، مگر سمت نہیں۔


یہی وجہ ہے کہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے — اور بجا طور پر — کہ اخبار کے اداریاتی عملے نے ایسا مضمون شائع کرتے وقت سماجی اثرات پر غور کیوں نہیں کیا؟

کیونکہ ہر شائع ہونے والی تحریر صرف رائے نہیں ہوتی، وہ سماج پر اثر بھی ڈالتی ہے۔


تنقید ضروری ہے۔

سوال اٹھانا صحت مند عمل ہے۔

مگر تاریخ، اخلاق اور سماجی ارتقا سے کٹ کر کی گئی تنقید، بغاوت نہیں — بدنظمی ہوتی ہے۔


یہ سب کچھ شاید “ختم” نہیں ہوا۔

خطرہ صرف یہ ہے کہ کہیں ہم جذبات، جہالت اور ڈیجیٹل شور میں

انسانی تہذیب کے اس سفر کو ہی ختم نہ کر دیں

جو ہزاروں برس میں طے ہوا ہے۔


#زابریافت | #صاحبزادہ_زابرسعیدبدر 


#zabirsaeedbadar

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا