آہ! جو چمن سجا کر چلے گئے/محمد زابر سعید بدر
جناب ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر ایک جیالے کا نہیں بلکہ ایک پاکستانی کا نذرانہ عقیدت
آہ! جو چمن سجا کر چلے گئے
صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر
میری بیٹی فاطمہ کا آج تیرھواں جنم دن ہے اور اسے میں سالگرہ کی مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ یہ بتا رہا ہوں کہ آج ایک بہت بڑے انسان کا بھی جنم دن ہے جو آج اگر ہم میں ہوتےتو ان کی عمر 89 سال ہوتی پھر میں نے اسے بتایا کہ وہ عجیب لوگ تھے جنھوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کی جو نہ کبھی رکے اور نہ ہی ان کو جھکایا جو سکا یہ وہ لوگ ہیں جو صدیوں کی تاریخ لئے پیدا ہوتے ہیں اور اپنی جراتوں سے زمانے کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں ان کا ہونا ہی بہت مبارک ہوتا ہے ان کا خمیر بھی غیرت اور حمیت سے اٹھتا ہے ہیں ان کو کوئی مسخر نہیں کر سکتا لوگ مسخر ہو جاتے ہیں ان کی کرشماتی شخصیت کے آگے بڑے بڑے چھوٹے پڑ جاتے ہیں ان کی دھاڑ کے آگے وقت ٹھہر سا جاتا ہے صدیاں ان کے جانے کے بعد ماتم کناں رہتی ہیں پاکستان نے دو ایسی شخصیات دیکھی ہیں ایک اس کے بانی حضرت قائد اعظم محمد علی جناح اور دوسرے اہل پاکستان کو ایٹم بم کا تحفہ دینے کی پاداش میں اپنوں ہی کے ہاتھوں پھانسی کے پھندے پر جھولنے والے ذوالفقار علی بھٹو جن کی آج 89ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے آج اگر یہ عظیم انسان اس فانی دنیا میں ہوتا شائد پاکستان کی تاریخ کا دھارا کسی اور رخ بہہ رہا ہوتا افسوس ہنری کیسنجر کی دھمکی کو عملی جامہ بھی اپنوں کے ہاتھوں ہی پہنایا گیا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے اس مرد مجاہد کو سیکورٹی رسک کہا جاتا رہا اس مظلوم کا عدالتی قتل کیا گیا عدالت میں اس کی تذلیل کی گئی جسٹس نسیم حسن شاہ مرحوم اعتراف کر چکےہیں کہ حکومت کا بے حد دباؤ تھا آخر یہ کیسا انصاف تھا؟انصاف کا خون کیا گیا اور آج بھی ہر پاکستانی کی گردن پر اس مظلوم وزیر اعظم کے خون ناحق کے دھبے ہیں آہ اسکی کی بیٹی جو چاروں صوبوں کی زنجیر تھی وقت کا سب سے بڑا آمر اس سے خوفزدہ تھا اسے ہروانے کے لئے 9 ستارے جمع کئے گئے لیکن اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم
کا اعزاز اس کو مل گیا کوئی بھی اس بھٹو ازم کی قوت کو نہ سمجھ سکا اور نہ ہی روک سکا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے اور جب تک سورج اور چاند روشنی دیتے رہیں گے بھٹو کی کرشماتی شخصیت کا طلسمی حصار اہل دل کے ساتھ رہے گا کروڑوں دلوں کا شہنشاہ آج بھی ذوالفقار علی بھٹو ہے اور ہمیشہ رہے گا کہاں ہیں وہ آمر اور ان کے حواری جو بھٹو اور اسکی بیٹی کو ختم کرنے نکلے تھے آج ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں ہے.جو لوگ دلوں میں دھڑکنیں بن کر زندہ رہ رہتے ہیں وہ نسلوں کے ساتھ زمانوں کا سفر طے کرتے ہیں اور امر ہو جاتے ہیں محبت جب عقیدت بنتی ہے تو فاتح عالم بن جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج کروڑوں آنکھیں شہید جمہوریت قائد عوام کو یاد کر کے اشک بار ہیں لاکھوں افراد رب کائینات کے حضور اس مظلوم کے لئے دعا گو ہیں بقول احمد ندیم قاسمی
وہ عجیب لوگ وہ قافلے
جو نہ رُک سکے نہ بھٹک سکے
جو چمن سجا کے چلے گئے
جو وطن بنا کے چلے گئے
ہمیں یاد ہیں
ہمیں یاد ہیں
میری گڑیا اب میری آنکھوں سے آنسو پونچھ رہی ہے میں نے اسے بے اختیار اپنے سینے سے لگا لیا ہے اور دل میں ایک سکون کا احساس ہے جو جیسے ٹھہر گیا ہے مجھے اطمینان بھی ہے کہ میں نے اگلی نسل تک چمن سجانے والوں کی یاد منتقل کر دی ہے.
(مصنف محمد زابر سعید پچاس کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی،محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں)
Comments