ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
ڈیورنڈ لائن، تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات ---------------------------- ایک تجزیاتی جائزہ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے جو تاثر قائم کیا گیا ہے وہ اکثر تاریخی حقائق سے مختلف ہے۔ یہ دور پرسیپشن مینجمنٹ کا ہے؛ جو بیانیہ غالب آ جائے وہی سچ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایک تاثر یہ بنایا گیا کہ افغانستان کے مسائل کا ذمہ دار پاکستان ہے، حتیٰ کہ یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان کو تباہ کیا۔ نائن الیون کے بعد اس تاثر سازی پر خاص طور پر کام کیا گیا۔ تاہم تاریخی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کا پس منظر 1893 میں برٹش انڈیا گورنمنٹ اور افغانستان کے امیر عبد الرحمن خان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے دیباچے میں واضح طور پر لکھا گیا کہ سرحدی تنازعات کو باہمی رضامندی سے حل کیا جائے گا۔ سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا گیا۔ معاہدے کی اہم شقیں یہ تھیں:...
Comments