آج کا نوجوان،ثقافتی یلغار اور 2047
صحافیانے
آج کا نوجوان،ثقافتی یلغار اور 2047
محمد زابر سعید بدر
موجودہ دور بجاطور پر جدید ٹیکنالوجی کے عروج کا دور ہے‘ حیرت انگیز ایجادات اتنی تیزی سے ظہور پذیر ہو رہی ہیں کہ عقل حیران و پریشان ہے۔ ہمارے بزرگوں کے زمانے میں ریڈیو ایک زبردست ذریعہ ابلاغ تھا‘ جو تفریح بھی فراہم کرتا تھا اور خبریں بھی‘ پھر ٹیلی ویژن نے آکر گویا ”وہ آیا‘ اُس نے دیکھا اور فتح کر لیا“ کے مصداق میلہ ہی لوٹ لیا۔ ٹیلی ویژن تک ہی بات نہ ٹھہری وی سی آر‘ ڈش کلچر اور کیبل ٹی وی نے معاشرے کا چلن ہی بدل کر رکھ دیا لیکن کیا معاملہ یہیں تک رہا؟ ہرگز نہیں انٹرنیٹ کی آمد نے انسانی تاریخ کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ جام جم کے متعلق صرف سنا تھا‘ طلسم ہوش رُبا فقط ایک داستان تھی لیکن اب ایک حقیقت ہے‘ انٹرنیٹ کا جام جم اب ہمارے ہاتھوں میں ننھے منے موبائل فونز کی صورت میں موجود ہے۔ پلک جھپکنے میں ہم ہزاروں میل کی دوری کو دور کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ نے ہر چیز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ خط کا تصور بھی نئی نسل کے لئے گویا ایک عجیب سی بات ہے‘ ای میل نے سارے مسئلے حل کر دیئے۔ ای لرنگ‘ ای کامرس اور نہ جانے کیا کیا۔ ہمارے زمانے کی محبت جو کئی ماہ و سال لے لیتی تھی‘ اب ایس ایم ایس اور ایم ایم ایس کی صورت میں گویا مزاق ہی لگتی ہے۔ ہماری نئی نسل ہمارا مذاق اُڑانے میں حق بجانب نظر آتی ہے۔ یہ دور ابلاغ عامہ کا دور ہے‘ نئی نئی ایجادات ہر روز اس کی ایک نئی سمت متعین کر رہی ہیں۔ دنیا گویا ایک مٹھی میں سمٹ آئی ہے‘ انٹرنیٹ کی لامحدود وسعت موبائل فون کی سکرین پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے اور ابھی اس کی انتہا کیا ہے کوئی نہیں جانتا‘ الیکٹرانک میڈیا نے گویا ہر شے کو بدل کر رکھ دیا ہے‘ ماضی کے خوبصورت نرم لہجوں میں اب حلاوت اور شیرینی ختم ہو چکی ہے‘ ہر معاملے میں مادیت پرستی ہے۔ اقدار دم توڑ رہی ہیں‘ خلوص و محبت کی جگہ خودغرضی اور نام نہاد تیز رفتاری نے لے لی ہے لیکن انسان کو ان سب سے حاصل کیا ہوا‘ معلومات کا بیش بہا خزانہ تو مل گیا لیکن سکون و اطمینان ختم ہو گیا۔ کیا اسی نفسانفسی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لئے حضرت انسان نے یہ سب جتن کئے؟ لیکن ہم یہ سب نہیں سوچتے۔ ابلاغ عامہ کو نئی وسعتوں سے روشناس ضرور کروا دیا گیا ہے لیکن اپنی زبردست اقدار کو دفن کر کے انسانی نفس نے خودغرضی کی مٹی ڈال دی ہے‘ اس کا سب سے زیادہ نقصان ہمیں ہوا ہے۔ کہتے ہیں ”ہر انفارمیشن ہر ایک کے لئے نہیں ہوتی‘ اگر اس طرح ہو جائے تو بگاڑ پیدا ہوتا ہے“ کیونکہ علم کی تخصیص ضروری ہے‘ عمر بڑھنے کے ساتھ علم کا بڑھنا ضروری ہے۔ علم دراصل ایک روشنی کی مانند ہے‘ ایک نور ہے جو اندھیرے کو ختم کرتا ہے‘ اُجالا لاتا ہے لیکن کیا رات کو بھی سورج کی روشنی ہمیں بھلی لگے گی؟ سورج کی روشنی کا ایک وقت معین ہے پھر وہ دھیرے دھیرے بڑھتی ہے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دن کے سفر کا آغاز ہوتا ہے‘ عروج ہوتا ہے اور پھر زوال ہوتا ہے‘ روشنی مدہم ہوتی چلی جاتی ہے اور آخرکار ختم ہو جاتی ہے۔ علم بھی دھیرے دھیرے انسان کے مزاج‘ طبیعت اور عمر میں تبدیلی لاتا ہے‘ روشنی اُس میں تغیر پیدا کرتی ہے‘ ذہانت کا عروج ہوتا ہے اور آخرکار انسان اپنی ابدی منزل کی طرف بڑھ جاتا ہے جس کے متعلق دانائے راز علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں:
.موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام زندگی
ہےیہ شام زندگی‘ صبح دوام زندگی
مغرب تو اپنی روایات کو کب کا بھلا بیٹھا ہے۔ برطانیہ کی قدامت پرستی کی بھی امریکی ثقافتی یلغار نے دھجیاں بکھیر دیں۔ بھارت میں یورپی اور امریکی کلچر ہمارے ہاں سے چند سال پہلے یورپین ثقافتی یلغار کی صورت میں آ گیا تھا۔ جب 2000ء میں پاکستان میں کیبل کا آغاز ہوا‘ اس سے پہلے ڈش کلچر بھی موجود تھا لیکن ابھی تک وہ مہنگا ہونے کی وجہ سے سب کی دسترس میں نہیں تھا‘ کیبل سسٹم نے پچاس روپے میں یا سو دو سو روپے میں 80 ٹی وی چینلز دکھانے شروع کیے۔ اس سیلاب میں پاکستانیت بھی بہتی چلی گئی اور اب ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ بھارت کی کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے 1995ء میں کہا تھا: ”ہمیں پاکستان کو اپنی فوجوں سے فتح کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ پاکستانی قوم کو توہماری فلموں اور ثقافت نے مسخر کر لیا ہے۔“
واضح رہے سونیا گاندھی نے یہ بات 1995ء میں کہی تھی جب ابھی ڈش کلچر کا آغاز ہو رہا تھا۔ وی سی آر ہر ایک کے پاس نہیں تھا‘ کرائے پر دستیاب ہوتا تھا۔ نہ ہی انٹرنیٹ تھا اور نہ ہی کیبل‘ اب صورتحال کہاں سے کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے ہمارے یہاں کے معصوم بچے شادی کے موقع پر یہ سوال پوچھتے نظر آتے ہیں کہ ”پھیرے“ تو ہوئے نہیں اور شادی کیسے ہو گئی۔
یہ لمحہ فکریہ ہے؟ ہمارے ہاں کی خواتین بچیاں سٹار ٹی وی کے ڈراموں میں کھوئی رہیں‘ نہ ہی حکومت وقت کو خیال آیا کہ اس ثقافتی یلغار کو روکیں۔ اس وقت ”روشن خیالی“ ہمارے ہاں فروغ پاتی رہی۔ ہم نے 1999ء میں بھارتی پراپیگنڈے سے بچنے کے لیے ان کے نیوز چینلز سٹار نیوز‘ زی نیوز‘ دوردرشن وغیرہ پر تو پابندی لگا دی لیکن اصل چیز کو روکنے کا اہتمام نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بچوں کا والدین سے بدتمیزی کرنا‘ لڑکیوں کا محلے کے لڑکوں کے ساتھ گھروں سے ایڈونچر کے طور پر بھاگ جانا‘ نام نہادی خیالی محبت‘ توہم پرستی‘ شادیوں اور دیگر تقریبات میں بے جا اصراف‘ بزرگوں کا احترام‘ بہن بھائیوں کی محبت‘ مشرقی روایات‘ ہمارا مذہب اور اسکی روایات‘ غرض سب کچھ نہ جانے کہاں کھو گیا ہے۔ یہ سب ثقافتی یلغار کا نتیجہ ہے‘ ہمیں احساس کرنا چاہئے۔ یورپ تو اپنی اخلاقی پستی کی انتہاء کو چھو رہا ہے۔ وہاں ایسی ایسی بیماریاں پھیل رہی ہیں جن کا علاج ہی نہیں۔ بے راہ روی کی وجہ سے شادی کا تصور ختم ہو چکا ہے‘ طلاق کی شرح زیادہ ہے‘ اوّل تو شادی کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی‘ اُن کی اچھی باتوں کو تو اُجاگر کیا نہیں جا رہا‘ ہمیں اُن سے اُن کی اچھی روایات اور عادات لینی چاہئیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی خوبیاں ہم کو نظر نہیں آ رہیں‘ وہ ملاوٹ نہیں کرتے ہم کرتے ہیں۔ وہ اساتذہ کی عزت کرتے ہیں ہم تھانوں میں پکڑوا دیتے ہیں۔ وہ مساوات دیتے ہیں‘ وہ انصاف دیتے ہیں‘ بچوں کو مفت تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمکو نظر نہیں آتا‘ ہم نے ان کی آزاد خیالی کی نقالی کرکے عجیب شکل اختیار کر لی ہے۔ جو حیاء ہمارے معاشرے میں رہ گئی تھی‘ وہ بھی گئی۔ حمیت جس کا نام تھا‘ وہ گئی تیمور کے گھر سے۔مزید برآں ہم بھارتی ثقافت سے بہت متاثر ہیں۔ بھارتی فلمیں دیکھے بغیر ہمیں نیند نہیں آتی۔ہمارے بچے ہمارے ساتھ بیٹھ کر اُن کے ڈرامے اور پروگرام دیکھتے ہیں جن میں ہندی کے الفاظ بے حد زیادہ استعمال ہوتے ہیں لہٰذا ہم اپنی زبان اُردو کو ختم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اُردو میں انگریزی کا استعمال پہلے ہی بہت زیادہ تھا‘ دس بیس سال پہلے تک عربی اور فارسی کے الفاظ اُردو میں موجود تھے لیکن اب ان کا استعمال متروک ہو چکا اور تو اور اب تو درسی کتب میں بھی ہندی کا استعمال ہو رہا ہے۔اس ثقافتی یلغار نے پاکستانیت ہی کمزور کر دی ہے۔ ہماری بنیادیں ہی ہل چکی ہیں۔ نئی نسل کو نظریہئ پاکستان کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ پاکستان کیوں بنا؟ اس کے متعلق جاننے کی اب ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اسی ثقافتی یلغار کی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کا قیام ہی غلط تھا وہ تمام افراد جن کی عمریں 15-29 برس کے درمیان ہوں، یوتھ یعنی نوجوان کہلاتے ہیں۔ انھیں معاشرے کا سب سے فعال اور چاق و چوبند طبقہ سمجھاجاتا ہے کیونکہ عمر کے اس حصے میں انسان مسلسل زیادہ ذہنی وجسمانی محنت کرسکتا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ نوجوان نسل ملک و قوم کا بیش بہا اثاثہ ہوتا ہے۔ اسے فرض شناسی اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاکر صحیح سمت کی طرف رواں کیا جائے تو نہ صرف ہر شعبہ ہائے زندگی اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے بلکہ ملک کی معاشی و معاشرتی ترقی میں نئی تاریخ رقم کرسکتا ہے۔پاکستان کو یوتھ کی تعداد کے اعتبار سے خوش قسمت ملک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ملک کی کل بادی کا ایک بڑا حصہ یعنی 25 ملین نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یک اندازے کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یمن کے بعد پاکستان وہ دوسرا ملک ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد مختلف العمر افراد کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ایک سیمینار میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 20 کروڑ آبادی والے اس ملک میں تقریباً 60 فیصد نوجوان ہیں جنِ کی عمریں 15 سے 24 سال کے درمیان ہیں جبکہ 18 سے 29 سال کی عمر والے 5 کروڑ نوجوانوں میں 55 فیصد شہروں میں رہتے ہیں اور پڑھے لکھے نوجوان تقریباً 58 سے 60 فیصد ہیں۔پاکستان کے نوجوان کی ذمہ داری اس حوالے سے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ کل آبادی کا دو تہائی ہیں۔ انہیں معاشی، سیاسی اور سماجی ترقی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ منفرد اور باصلاحیت نوجوانوں کے جوش اور ولولے کو اگر درست سمت مل جائے تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کا شمار دنیا کی با عزت اور آبرو مند اقوام میں ہو گا کسی کی جرات نہیں ہو گی کہ وہ پاکستان کو میلی آنکھ سے بھی دیکھے، میرا یقین ہے کہ پاکستان کے پاس یہ ایک موقع ہے جو ایک نسل میں ملنے والا واحد موقع ہوتا ہے کہ وہ خود کو ایک ایسے ملک میں ڈھال سکے جو اس کیعوام چاہتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان کے نوجوان پاکستان کے اس تصور کے بارے میں وہ وسیع تر سوچ اپنائیں گے جو اس کے بانیان چاہتے تھیاور وہ 2047ء تک جب پاکستان اپنے قیام کے 100 سال اللہ کی رحمت سے مکمل کر چکا ہو گا اس کو بلندیوں کے اس مقام تک لیجائیں گے جہاں دنیا رشک کرے گی اور یہ آج کا نوجوان ہی کر سکتا ہے کیونکہ آج اس کے پاس وہ وسائیل موجود ہیں کہ جس سے وہ بلاشبہ ستاروں پہ کمندیں ڈال سکتا ہے2047 پاکستان کی تخلیق کا 100 واں سال ہوگا۔ اور یہ وہ وقت ہوگا جب آج کے نوجوان پاکستان کی قیادت کررہے ہونگے.
Website: zabirsaeed.com Phone No: 0300-4154040

Comments