اصلاح معاشرہ اور ذرائع ابلاغ
| اصلاح معاشرہ اور ذرائع ابلاغ محمد زابر سعید بدر |
.... تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انسانوں اور معاشروں کی اصلاح کے لئے دو طریقے استعمال کئے گئے: ایک تبلیغ اور دوسرا تعزیر۔ یعنی یا تو وعظ و نصیحت کے ذریعے اصلاح احوال کی کوشش کی گئی یا پھر سختی سے کام لیا گیا۔ انسانوں کے طرزعمل کے سلسلے میں قوانین اور ضابطے وضع کئے گئے اور ان کی خلاف ورزی کی سزا مقرر کی گئی۔
انسان اشرف المخلوقات ہے۔ خدا تعالیٰ نے اسے سوچنے‘ سمجھنے اور نیکی و بدی اور غلط و صحیح میں تمیز کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ اس لئے اگر اسے صحیح انداز میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو وہ کارگر ثابت ہوتی ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے بگڑے ہوئے انسانی معاشروں کی اصلاح کے لئے تبلیغ کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کی۔ بعض انبیائے کرام علیہم السلام نے تبلیغ کے ذریعے بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح میں مکمل کامیابی حاصل کر لی۔ بعض کی تبلیغ سے کچھ لوگوں نے اپنی اصلاح کی اور کچھ بدستور گمراہی کے اندھیروں میں گم رہے۔ بعض پیغمبران عظام کے مخاطب معاشرے اپنے آپ کو تبدیل کرنے پر تیار نہ ہوئے اور انجام کار اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل کر دیا۔ یہ مثالیں مختلف معاشروں اور اقوام کی ہدایت اور راہنمائی حاصل کرنے کی استعداد کی نشاندہی کرتی ہیں۔
بہرحال اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اصلاح احوال کا پہلا طریقہ تبلیغ ہی ہے۔ موجودہ دور میڈیا کا دور ہے۔ ریڈیو‘ ٹی وی‘ انٹرنیٹ‘ اخبارات و جرائد کے ذریعے لوگوں کو جو کچھ دیا جاتا ہے اس کی مثال معلومات کے ایک سیل بے پناہ کی سی ہے۔ گویا موجودہ دور میں انسان الفاظ کے زبردست دباؤ کی زد میں ہیں۔ وہ الفاظ پڑھتے ہیں‘ الفاظ سنتے ہیں اور الفاظ دیکھتے بھی ہیں۔ الفاظ کے علاوہ وہ علامات‘ کرداروں اور حرکات و سکنات کی صورت میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ بھی ”ابلاغ“ ہی کی کوئی نہ کوئی صورت ہوتی ہے اور زیادہ تر مؤثر ہوتی ہے۔ تحریر کی ایجاد سے قبل ”ابلاغ“ بولے جانے والے الفاظ یا پھر اشارات اور حرکات و سکنات کی صورت میں ہوتا تھا۔ تحریر ایجاد ہوئی تو ابلاغ کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ اب صورت یہ ہے کہ ابلاغ کی نئی نئی صورتیں وجود میں آ چکی ہیں اور انسان خود شعوری کوشش نہ بھی کرے تو وہ ابلاغ کے بہاؤ کی زد میں رہتا ہے۔ گویا موجودہ دور میں تبلیغ کا عمل آسان ہو گیا ہے۔ ایک مبلغ ابلاغ عامہ کے ایک ذریعہ سے لاکھوں کروڑوں انسانوں تک اپنی بات پہنچا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں تبلیغ کی مؤثر صورتیں بھی وضع ہو چکی ہیں۔ اچھی بات خشک وعظ کی صورت میں کہنے کی بجائے تمثیل کی صورت میں پیش کی جا سکتی ہے یا دوسرے دلکش پیراؤں میں بیان کی جا سکتی ہے۔ ابلاغ عام کے ذرائع کی ترقی اور تبلیغ کی جدید اور مؤثر صورتوں کی موجودگی میں کسی معاشرے میں خرابیاں موجود ہیں تو بظاہر اس کے دو ہی سبب ہوسکتے ہیں۔ اوّل یہ کہ معاشرہ کا بگاڑ انتہاء کو پہنچ چکا ہے اور پند و نصیحت سے اصلاح ممکن نہیں۔ دوم یہ کہ ابلاغ عام کے ذرائع کو اصلاح احوال کے لئے استعمال نہیں کیا گیا یا صحیح طور پر استعمال نہیں کیا گیا اور اس ضمن میں بھرپور کوششیں نہیں ہوئیں۔
پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے‘ اس کا اساسی نظریہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ایک منفرد سانچے میں ڈھالنے کا متقاضی ہے لہٰذا اس اساسی نظریہ سے وفاداری اور وابستگی یہ تقاضا کرتی ہے کہ ابلاغ عام کے ذرائع اس مقصد کی تکمیل کے لئے کام کریں جو ہمارے نظریہئ حیات کی بنیاد ہے۔ ابلاغ کی تحریری‘ بصری اور سمعی صورتوں میں جو کچھ پیش کیا جائے اس کا محور وہی بنیادی مقصد ہو۔
یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ بعض دوسرے نظریاتی معاشروں نے اپنے نظام تعلیم اور ابلاغ عام کے ذرائع کو اپنے نظریہ کے تحفظ اور فروغ کے لئے استعمال کیا ہے۔ اس ضمن میں سوشلسٹ معاشروں کی مثال دی جا سکتی ہے۔ ان معاشروں میں ممکن ہی نہیں کہ کسی بھی ذریعہ ابلاغ سے کوئی ایسی بات کہی جا سکتی ہو جو متعلقہ نظریہ اور نظام کے منافی ہو یا وہ ایسا اثر پید اکرے جو متعلقہ نظریہ کی روح سے ہم آہنگ نہ ہو۔ یہ درست ہے کہ ذرائع ابلاغ کو اس نوع کی کسی پابندی میں جکڑنا ایک انتہا ہے لیکن نظریہ پر یقین اور اس کے مطابق عمل کرنے کا اوّلین تقاضا تو یہی ہے کہ کسی بھی صورت میں اس کی نفی نہ کی جائے اور نہ ہونے دی جائے۔
ہمارے ہاں ذرائع ابلاغ کو جن حالات میں کام کرنا پڑا‘ ان میں کاروباری تقاضوں کو کسی نہ کسی حد تک مدنظر رکھنا ضروری تھا۔ کاروبار مطمع نظر بن جائے تو عوام کی پسند اہمیت اختیار کر جاتی ہے بلکہ نئے مال کی مانگ پیدا کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ان حالات میں کوئی ذریعہ ابلاغ راہنمائی اور قیادت کا فریضہ ادا نہیں کر سکتا بلکہ قارئین یا سامعین و ناظرین کی خوشنودی اور پسند اوّلین ٹھہرتی ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ابلاغ عام کے ذرائع پر قابض افراد یا ادارے ان ذرائع کو لوگوں کے لئے تفریح فراہم کرنے کے لئے وقف کر دیتے ہیں تاکہ لوگ تفریح ہی میں کھوئے رہیں اور حکمرانوں کے لئے مسائل پیدا نہ کریں۔ ماضی میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے استعمال کی یہ مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔ ایک نظریاتی ملک میں اس صورت حال کے جواز یا عدم جواز کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔
ذرائع ابلاغ معاشرے کی اصلاح میں اہم اور نتیجہ خیز کردار ادا کر سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی نہج وہی ہو جو اصلاح کے لئے ضروری ہے۔ فرد ہو یا معاشرہ‘ اس کی اصلاح کا مطلب اس کی فکر اور طرزعمل میں تبدیلی ہے۔ تبدیلی لانے کے سلسلے میں اوّلین ضرورت صحیح و غلط درست و نادرست میں تمیز کا شعور پیدا کرنا ہے۔ گویا پہلے یہ بتایا جائے کہ خرابیاں کیا ہیں‘ ان کے مضمرات اور اثرات کیا ہیں۔ ان سے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لئے کیا نقصانات پیدا ہو رہے ہیں؟ سماجی‘ قومی‘ اخلاقیاور دینی لحاظ سے کیا کیا قباحتیں رونما ہو رہی ہیں؟ حتیٰ کہ معاشرہ کا شعور یہ تسلیم کر لے کہ یہ واقعی خرابیاں ہیں اور ان کو ختم ہونا چاہئے۔
دوسری ضرورت یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو یہ خرابیاں ترک کرنے پر آمادہ کیا جائے۔ اس کے لئے سعی پیہم اور مختلف طریقوں سے مؤثر اظہار کی ضرورت ہوتی ہے۔ تبلیغ کی مختلف صورتیں بروئے کار لا کر ایسی فضاء پیدا کر دی جائے کہ لوگ خرابیاں ترک کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔
تیسری اور آخری ضرورت یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کی سوچ اور طرزعمل اس سانچے میں ڈھل جائیں جو متعلقہ نظریہ کا مقصد ہو اور اس طرح گفتار و کردار کا فرق مٹ جائے۔
جہاں تک ہمارے یہاں برائیوں اور خرابیوں کے شعور کا تعلق ہے وہ موجود ہے۔ مساجد بھی یہ شعور پیدا کرتی ہیں۔ ابلاغ عام کے ذرائع اخبارات‘ ریڈیو‘ ٹی وی‘ انٹرنیٹ‘ رسائل کے ذریعے بھی لوگوں کو شعور دیا جاتا ہے۔ شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جسے یہ معلوم نہ ہو کہ رشوت‘ بدعنوانی‘ چوری‘ حق تلفی‘ سمگلنگ‘ اقربا نوازی‘ فضول خرچی اور ملاوٹ وغیرہ بُری باتیں ہیں۔ یا خودکش دھماکے اور دہشت گردی کی دیگر صورتیں ناقابل برداشت ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ان برائیوں کو ترک کرنے پر آمادگی اور عملی طور پر اچھائیوں کو اختیار کرنے کی نوبت نہیں آ رہی۔ برائیوں اور خرابیوں سے آگاہ ہونے اور ان کو ترک نہ کرنے کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے بہت سے لوگ سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہ ہونے کے باوجود اسے ترک نہیں کرتے۔ برائیوں اور معاشرتی خرابیوں کو معاشرے میں رائج کرنے میں بیرونی اثرات اور ابلاغ عام کے ذرائع نے ہی مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ مغربی لٹریچر بیرونی اور ملکی فلموں اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے جو کچھ پیش کیا گیا اس کا بالواسطہ اثر یہ مرتب ہوا کہ خواہشات کی بھوک تیز ہو گئی۔ آسان ذرائع سے دولت کا حصول مطمع نظر بن گیا۔ اچھی اقدار کی پامالی کو ایک برائی سمجھ کر قبول کر لیا گیا۔ ابلاغ عام کے کس ذریعہ نے معاشرے پر کیا اثرات مرتب کئے اور ان اثرات نے کیا نتائج پیدا کئے؟ یہاں ان تفصیلات کے بیان کی ضرورت ہے نہ گنجائش لیکن یہ مسلم ہے کہ بیرونی اثرات اور ابلاغ عام کے ذرائع نے جو فضاء تیار کی اس میں اچھائیوں‘ برائیوں اور خرابیوں کی تمیز معدوم ہوتی گئی۔ یہ بات قابل یقین ہے کہ ایسی فضاء ازخود قائم ہو گئی اور ابلاغ عام کے ذرائع اس بارے میں کچھ نہ کر سکے۔ معاشرے کی اصلاح کے ضمن میں ابلاغ عام کے کردار کو ایک مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ دوسروں کو سادگی اور سچائی کی تلقین کرنے والے شخص کی باتیں اسی صورت میں اثر کریں گی جب اس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ اس کا اپنا عمل ان باتوں سے مطابقت رکھتا ہو جو وہ کہتا ہے۔ اس کے قول و فعل کا تھوڑا سا تضاد بھی اس کی گفتار یا تبلیغ کا اثر زائل کر دے گا۔ اسی طرح ابلاغ عام کے ذرائع معاشرے کی اصلاح میں اسی صورت میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں کہ وہ مختلف صورتوں اور پیرایوں میں جو کچھ پیش کریں اس کے نتیجہ میں برائیاں ترک کرنے اور اچھائیاں اختیار کرنے کی تحریک ہونی چاہئے۔ اگر ایکذریعہ ابلاغ سے سادگی اختیار کرنے کی تلقین کی جائے لیکن ساتھ ہی دیگر مندرجات یا پروگراموں کی صورت میں اور زیادہ دلکش انداز میں ایسی چیزیں پیش کی جائیں جو جلد سے جلد معیار زندگی بلند کرنے اور طرح طرح کی مہنگی اشیاء سے گھر بھر لینے کی خواہش پیدا کر دیں تو سادگی کا درس غیر مؤثر ہو جاتا ہے بلکہ بے محل معلوم ہوتا ہے۔
”اصلاح معاشرہ“ کا ذکر ہوتا ہے تو بعض افراد اس سے بدکتے ہیں وہ اسے قدامت پسندی یا رجعت پسندی قرار دیتے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اصلاح سے مراد کردار کی اصلاح ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سائنس و ٹیکنالوجی میں پیش رفت نہ کی جائے‘ خلاؤں کو مسخر نہ کیا جائے اور سمندروں کو کھنگالا نہ جائے۔ جدید لوازم سے اجتناب کیا جائے۔ رشوت‘ ظلم‘ زیادتی‘ ملاوٹ‘ حق تلفی‘ ناانصافی‘ چوری‘ ڈکیتی‘ سمگلنگ‘ جھوٹ‘ اقرباء پروری‘ فرائض کی ادائیگی سے گریز اور غلط اقدار کا خاتمہ ”ترقی“ کے خلاف نہیں ہے اور ان ساری چیزوں کو اپنا لینا ترقی پسندی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں اصلاح معاشرہ کا مفہوم یہی ہے کہ جن برائیوں کو معاشرتی خرابیاں قرار دیا جاتا ہے‘ ان کو ختم کیا جائے۔ اپنی اخلاقی اقدار کی لفظاً اور معناً پابندی کی جائے۔

Comments