شہر افسوس کی ہر گز ر گاہ کا آئینہ بردار انتظار حسین

 شہر افسوس کی  ہر  گز ر گاہ  کا آئینہ بردار  انتظار  حسین

   محمد زابر سعید بدر


جب سے انتظار حسین صاحب ہمیں چھوڑ کر گئے ہیں دنیائے علم و ادب پر ایک ہو کا عالم طاری ہے۔ان کے پڑھے ہوئے افسانے اور پاک ٹی ہاؤس میں ہونے والی ملاقاتیں رہ رہ کر یاد آ رہی ہیں۔میں نے ان کا پہلا افسانہ فراموش بچپن میں پڑھا تھا اور ان سے پہلی ملاقات پاک ٹی ہاؤس میں نوجوانی کے زمانے میں ہوئی تھی،تب سے اب تک نہ میں ان کے افسانوں کے سحر سے باہر آسکا اور نہ ہی ان کی شخصیت کے طلسم سے آزاد ہو سکا۔ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ بیس سال تک رہا اور ان سے مل کر ہمیشہ مجھے یہ احساس ہوا کہ میں ایک فرد سے نہیں بلکہ ایک تہذیب سے ہم کلام ہوں۔ایک برگد کی ٹھنڈی چھایا تلے بیٹھا ہوں اور ایک اور ہی جہا ں میں پہنچ گیا ہوں، یہ پریم سرت ساگر کا جہاں تھا ، پنج تنتر کا جہاں، جاتک کہانیوں کا جہاں تھا ۔یہ جہاں میرے تخیل کو کتنا سیراب کرتا تھا۔جب سے ہوش سنبھالا میں اس ودیا ساگر میں ڈوبا تھا۔یہ سنسار میرے لیے دکھ کا استھان تھا جسے انتظارحسین صاحب نے آنند گیت سے بھرنے کی کوشش کی تھی۔خیمے کے اندر بھی ایک نراج تھا اور خیمے سے دور بھی ایک نراج،  تعزیے نکلتے تھے اور علم لہراتے تھے، وہ اسی نراجیت اسی بیگانگیت اسی مابعدالطبیعیاتی وحشت، اسی ازلی تنہائی کے نوحہ گر تھے۔ انسان ان کے لیے زمان ومکاں کی وسعتوں میں ایک افتادہ وجود تھا،ایک وجود برائے مرگ تھا۔ مظہریت کا جو ماورائی شعور انتظار صاحب کو حاصل تھا بہت کم اردو ادیبوں کے حصے میں آیا ہے۔ وہ شہر افسوس کی ہر گزر گاہ پر آئینہ بردار کھڑے رہے، اس آئینے میں نقوش بگڑتے ہی جا رہے تھے۔پرندہ جب ہجرت کر جائے تو پنجرہ خالی رہ جاتا ہے۔وہ دیو مالا کو کس ہنر سے برتتے تھے اور متھ بنانے پہ کس قدر قدرت رکھتے تھے۔ان کے پاس آنے والا ہر لفظ ایک حکایت اور ایک تمثیل بن جاتا تھا۔ انتظار صاھب ایک گیانی تھے ایک مہاتما تھے۔وہ پورا گیان پانے کے لیے بے تاب تھے اور گیان اور وجود کے ایک ہو جانے کی علمیاتی اور وجودیاتی معراج تک پہنچ جانے کی لپک رکھتے تھے۔ماضی ان کے لیے ایک بھیدوں بھرا کنواں تھا۔وہ اس کنویں سے ہمیں اوک اوک پانی پلاتے رہتے تھے۔ان کے نزدیک سب سے بڑا روگ آتما  کے  ہونے کا روگ تھا۔ آتما کی یہ بے کلی انھیں سادھووں اور سنتوں کی طرح بنوں میں لیے لیے پھرتی تھی۔وہ اس سنسار کو ایک تخلیقی شان سے مدھ بھرے نینوں سے دیکھتے رہے۔ گنگا جمنی اور فرات کی تہذیبوں نے ان کے ثنویتی شعور کی آبیاری کی تھی۔وہ کیا گلی کوچے تھے جہاں سے انھوں نے اپنی کہانیاں کشید کی تھیں،جہاں قیوما کی دکان تھی۔
 انھوں نے ایک تہذیب کی تقلیب ماہیت ہوتے دیکھی تھی جس نے ان کے شعور کو ہمیشہ کے لیے الم سے بھر دیا تھا۔ان کے نزدیک اشیا و مظاہر کائنات کی ماہیت کچھ اور ہی طرح کی تھی۔ان کا انداز فکر کچھ اور ہی نوعیت کا تھا۔ ان کا بیانیہ کچھ اور ہی قسم کا تھا۔ان کا محزوں تفکر روح کی تاریک رات کو رہ رہ کر محسوس کرتا تھا۔وہ کائناتی مغائرت کے افسانہ گر تھے۔ یہ سادھو منش انسان ہماری اس حرص و ہوس کی دنیا میں زندہ تھا،اسے بہ نظر غائر دیکھتا تھا اور ایک اور ہی طرز سے زیست کرتا تھا۔انھوں نے اسی دنیاکو دیکھ کر افسانہ زرد کتا لکھا تھا۔ کیا وہ ایک صوفی تھے کہ نفس کی کثیرالجہت ہلاکتوں سے آگاہ تھے اور ہمیں ان سے مامون رکھنا چاہتے تھے۔وہ انسان کی نفسی کیفیات کی گرہ کشائی پر عبور رکھتے تھے۔وشنو بھگتی تحریک کا ان پر خاص اثر تھا۔
انتظار حسین نے جس انسان کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے وہ اپنی تہذیب کا زائیدہ اور اپنی ذات کے دھندلے عکس میں ڈوبا ہوا ایک لاچار انسان ہے جو ہمیشہ اپنے ااپ ہی کو اپنے روبرو پاتا ہے۔یہ ایک جبلتی حیوان کے ساتھ ساتھ ایک ثقافتی مظہر بھی ہے۔انتظار حسین نے اس انسان کو اس کی اپنی زبان میں پیش کیا ہے۔یہ انسان تہذیب کی ایک اکائی بھی ہے اور ایک علامت بھی۔
  انتظار حسین اردو افسانے اور ناول کا نہایت معتبر حوالہ اور شناخت تھے،انھوں نے نصف صدی سے بھی  زیادہ  عرصے تک اردو ادب کے گلستان کو سیراب کیا اور اس کی آب و  تاب  اور درخشانی میں بیش از بیش اضافہ کیا۔ان کی افسانوی نثر نے بے حد منفرد اور یکتا منظر نامہ تشکیل دیا۔اگر ہم ان کیتحریروں کا بہ غور جائزہ لیں تو ان میں ایک میں خاص طرز کے اسلوبیاتی دائرے بنتے دکھائی دیں گے۔ انتظار حسین کا اسلوب سر تا سر ان کا اپنا ذاتی اسلوب تھا             جن پر ان کی ذات کی گہرائیوں کے ان مٹ نقوش مرتسم ہوئے ہیں۔انھوں نے اپنے لیے بالکل الگ تھلگ صوتیاتی ()، صرفیاتی،نحویاتی () اور معنویاتی() نظام مرتب کیے اور انھیں اپنی شناخت بنائے رکھا۔انھوں نے زیریں اور بالائی ساختیاتی سطحوں میں خاص تبدیلیاں پیدا کیں اوراپنا مخصوص بیانیہ تشکیل دیا۔ان کی زبان بے حد اختراعی اور تخلیقی ہے۔ان کے افسانے اپنے خاص تہذیبی حوالہ رکھتے ہیں۔ان کے ہاں ایک دلکش تہذیبی رچاؤ نظر آتا ہے۔ ان کا افسانوی جہاں اجنتا اور ایلورا کے غاروں کی نیم تاریک  فضا سے تشکیل پاتا ہے۔وہ اپنا ایک الگ نقطہ نظر رکھتے تھے اور انھوں نے اپنے آپ کو تمام نظریاتی و گروہی وابستگیوں سے ماورا رکھتے ہوئے ایک خالص ادیب کی حیثیت سے اپنا آپ منوایا۔ان کے افسانوں کو اردو داستان کی روایت کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔
انتظار حسین نے اپنے افسانوں اور ناولوں کا مایہ خمیر اپنی دھرتی کے قدیم نقوش سے اٹھایا تھا۔ وزیر آغا نے میرا جی کو دھرتی پوجا کی ایک مثال قرار دیا تھا،دھرتی پوجا کی ایک دوسری بڑی مثال انتظار حسین ہیں۔وہ دھرتی اور اس کے مظاہر کو بڑی خوبی سے اپنے افسانوی ادب میں پیش کرتے ہیں بلکہ یہ ان کے ہا ں ایک عقیدے کا درجہ اختیار کر جاتے ہیں۔وہ مسلم اور ہندو دیو مالا کا خاص شعور رکھتے تھے اور ان دیومالائی عناصر کی ایک خاص آمیزش  ان کے نظر آتی ہے۔ان کے کردار محض کردار نہیں بلکہ چلتی پھرتی تہذیبی علامتیں ہیں۔انھوں نے داستانوی علامتیت کو ایک نیا رنگ عطا کیا اور اپنے عصری منظر نامے میں اس کی معنویت کو اجاگر کیا۔ ان کی علامتیں محض ایک ذہنی بازی گری نہیں بلکہ اپنی تہذیب اور روایت میں گندھی ہوئی ہیں۔ان پر ناسٹیلجیا کا الزام بھی لگا مگر ماضی میں ان کی پیوستگی انھیں سر بر آوردہ ہی کرتی ہے۔وہ ماضی کو حال میں زندہ سمجھتے ہیں اور وقت کو ایک نامیاتی کل تصور کرتے ہیں چناں چہ ان کے افسانے ماضی کا ایک بامعنی اور مثبت احیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ماضی پرستی سے بھی گریز کرتے ہیں۔وہ وقت کا ایک خاص وجدانی شعور رکھتے  تھے جو ان کے نزدیک  خانوں میں بٹا ہوا نہیں۔وہ چراغوں کی روشنی میں اس کے دھوئیں کے مرغولوں کو فراموش نہیں کرتے۔وہ گزرے ہوئے زمانوں اور زمینوں کو یاد رکھنا چاہتے تھے اور انھیں امر کر دینا چاہتے تھے۔ ہجرت ان کے لیے ایک جاوداں کرب تھا جس نے ان کے رگ و پے کو المیاتی حسیات سے بھر دیا تھا۔ ان کا ایک افسانہ فراموش تھا۔ان کے نزدیک سب سے المناک تجربہ فراموش کر دیے جانے یا فراموش ہو جانے کا تجربہ تھا۔
  انتظار حسین زندگی کے اصل المیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر انھیں بیان کرتے ہوئے رجائیت کے نئے نئے چراغ روشن کرنا نہیں بھولتے۔ ان کے ہاں قنوطیت نام کو نہیں۔ ان کے شعور میں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی۔وہ زندگی کا سامنا اسی شعوری گہرائی سے کرنا چاہتے ہیں۔وہ الم کو علم کے مقابل رکھ کر دیکھنا چاہتے ہیں۔
  انتظار حسین ایک زبردست مترجم بھی تھے۔انھوں نے ترجمے کو ایک نئی تخلیقی آب وتاب سے نوازا۔ ان کا غیر افسانوی ادب ان کی شخصیت کی تہ در تہ رمزیت کو آشکار کرتا ہے۔ بہ حییثیت ایک صحافی کے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کے کالم صحافتی و ادبی نقطہ نظر سے بلند پایہ مقام کے حامل ہیں۔وہ نگار خانہ ادب کی ایک ممتاز اور ہشت پہلو شخصیت تھے اور ان کے جانے سے یہ نگار خانہ اجڑا اجڑا سا اور ویران ویران سا لگ رہا ہے۔انتظار حسین صاحب اس دنیا سے جا چکے ہیں مگر درحقیقت وہ اب بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ وہ ابھی کوئی نیا افسانہ لکھیں گے اور ہمیں سنائیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا