شہر افسوس کی ہر گز ر گاہ کا آئینہ بردار انتظار حسین
شہر افسوس کی ہر گز ر گاہ کا آئینہ بردار انتظار حسین
محمد زابر سعید بدر
انھوں نے ایک تہذیب کی تقلیب ماہیت ہوتے دیکھی تھی جس نے ان کے شعور کو ہمیشہ کے لیے الم سے بھر دیا تھا۔ان کے نزدیک اشیا و مظاہر کائنات کی ماہیت کچھ اور ہی طرح کی تھی۔ان کا انداز فکر کچھ اور ہی نوعیت کا تھا۔ ان کا بیانیہ کچھ اور ہی قسم کا تھا۔ان کا محزوں تفکر روح کی تاریک رات کو رہ رہ کر محسوس کرتا تھا۔وہ کائناتی مغائرت کے افسانہ گر تھے۔ یہ سادھو منش انسان ہماری اس حرص و ہوس کی دنیا میں زندہ تھا،اسے بہ نظر غائر دیکھتا تھا اور ایک اور ہی طرز سے زیست کرتا تھا۔انھوں نے اسی دنیاکو دیکھ کر افسانہ زرد کتا لکھا تھا۔ کیا وہ ایک صوفی تھے کہ نفس کی کثیرالجہت ہلاکتوں سے آگاہ تھے اور ہمیں ان سے مامون رکھنا چاہتے تھے۔وہ انسان کی نفسی کیفیات کی گرہ کشائی پر عبور رکھتے تھے۔وشنو بھگتی تحریک کا ان پر خاص اثر تھا۔
انتظار حسین نے جس انسان کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے وہ اپنی تہذیب کا زائیدہ اور اپنی ذات کے دھندلے عکس میں ڈوبا ہوا ایک لاچار انسان ہے جو ہمیشہ اپنے ااپ ہی کو اپنے روبرو پاتا ہے۔یہ ایک جبلتی حیوان کے ساتھ ساتھ ایک ثقافتی مظہر بھی ہے۔انتظار حسین نے اس انسان کو اس کی اپنی زبان میں پیش کیا ہے۔یہ انسان تہذیب کی ایک اکائی بھی ہے اور ایک علامت بھی۔
انتظار حسین اردو افسانے اور ناول کا نہایت معتبر حوالہ اور شناخت تھے،انھوں نے نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے تک اردو ادب کے گلستان کو سیراب کیا اور اس کی آب و تاب اور درخشانی میں بیش از بیش اضافہ کیا۔ان کی افسانوی نثر نے بے حد منفرد اور یکتا منظر نامہ تشکیل دیا۔اگر ہم ان کیتحریروں کا بہ غور جائزہ لیں تو ان میں ایک میں خاص طرز کے اسلوبیاتی دائرے بنتے دکھائی دیں گے۔ انتظار حسین کا اسلوب سر تا سر ان کا اپنا ذاتی اسلوب تھا جن پر ان کی ذات کی گہرائیوں کے ان مٹ نقوش مرتسم ہوئے ہیں۔انھوں نے اپنے لیے بالکل الگ تھلگ صوتیاتی ()، صرفیاتی،نحویاتی () اور معنویاتی() نظام مرتب کیے اور انھیں اپنی شناخت بنائے رکھا۔انھوں نے زیریں اور بالائی ساختیاتی سطحوں میں خاص تبدیلیاں پیدا کیں اوراپنا مخصوص بیانیہ تشکیل دیا۔ان کی زبان بے حد اختراعی اور تخلیقی ہے۔ان کے افسانے اپنے خاص تہذیبی حوالہ رکھتے ہیں۔ان کے ہاں ایک دلکش تہذیبی رچاؤ نظر آتا ہے۔ ان کا افسانوی جہاں اجنتا اور ایلورا کے غاروں کی نیم تاریک فضا سے تشکیل پاتا ہے۔وہ اپنا ایک الگ نقطہ نظر رکھتے تھے اور انھوں نے اپنے آپ کو تمام نظریاتی و گروہی وابستگیوں سے ماورا رکھتے ہوئے ایک خالص ادیب کی حیثیت سے اپنا آپ منوایا۔ان کے افسانوں کو اردو داستان کی روایت کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔
انتظار حسین نے اپنے افسانوں اور ناولوں کا مایہ خمیر اپنی دھرتی کے قدیم نقوش سے اٹھایا تھا۔ وزیر آغا نے میرا جی کو دھرتی پوجا کی ایک مثال قرار دیا تھا،دھرتی پوجا کی ایک دوسری بڑی مثال انتظار حسین ہیں۔وہ دھرتی اور اس کے مظاہر کو بڑی خوبی سے اپنے افسانوی ادب میں پیش کرتے ہیں بلکہ یہ ان کے ہا ں ایک عقیدے کا درجہ اختیار کر جاتے ہیں۔وہ مسلم اور ہندو دیو مالا کا خاص شعور رکھتے تھے اور ان دیومالائی عناصر کی ایک خاص آمیزش ان کے نظر آتی ہے۔ان کے کردار محض کردار نہیں بلکہ چلتی پھرتی تہذیبی علامتیں ہیں۔انھوں نے داستانوی علامتیت کو ایک نیا رنگ عطا کیا اور اپنے عصری منظر نامے میں اس کی معنویت کو اجاگر کیا۔ ان کی علامتیں محض ایک ذہنی بازی گری نہیں بلکہ اپنی تہذیب اور روایت میں گندھی ہوئی ہیں۔ان پر ناسٹیلجیا کا الزام بھی لگا مگر ماضی میں ان کی پیوستگی انھیں سر بر آوردہ ہی کرتی ہے۔وہ ماضی کو حال میں زندہ سمجھتے ہیں اور وقت کو ایک نامیاتی کل تصور کرتے ہیں چناں چہ ان کے افسانے ماضی کا ایک بامعنی اور مثبت احیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ماضی پرستی سے بھی گریز کرتے ہیں۔وہ وقت کا ایک خاص وجدانی شعور رکھتے تھے جو ان کے نزدیک خانوں میں بٹا ہوا نہیں۔وہ چراغوں کی روشنی میں اس کے دھوئیں کے مرغولوں کو فراموش نہیں کرتے۔وہ گزرے ہوئے زمانوں اور زمینوں کو یاد رکھنا چاہتے تھے اور انھیں امر کر دینا چاہتے تھے۔ ہجرت ان کے لیے ایک جاوداں کرب تھا جس نے ان کے رگ و پے کو المیاتی حسیات سے بھر دیا تھا۔ ان کا ایک افسانہ فراموش تھا۔ان کے نزدیک سب سے المناک تجربہ فراموش کر دیے جانے یا فراموش ہو جانے کا تجربہ تھا۔
انتظار حسین زندگی کے اصل المیوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر انھیں بیان کرتے ہوئے رجائیت کے نئے نئے چراغ روشن کرنا نہیں بھولتے۔ ان کے ہاں قنوطیت نام کو نہیں۔ ان کے شعور میں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی۔وہ زندگی کا سامنا اسی شعوری گہرائی سے کرنا چاہتے ہیں۔وہ الم کو علم کے مقابل رکھ کر دیکھنا چاہتے ہیں۔
انتظار حسین ایک زبردست مترجم بھی تھے۔انھوں نے ترجمے کو ایک نئی تخلیقی آب وتاب سے نوازا۔ ان کا غیر افسانوی ادب ان کی شخصیت کی تہ در تہ رمزیت کو آشکار کرتا ہے۔ بہ حییثیت ایک صحافی کے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان کے کالم صحافتی و ادبی نقطہ نظر سے بلند پایہ مقام کے حامل ہیں۔وہ نگار خانہ ادب کی ایک ممتاز اور ہشت پہلو شخصیت تھے اور ان کے جانے سے یہ نگار خانہ اجڑا اجڑا سا اور ویران ویران سا لگ رہا ہے۔انتظار حسین صاحب اس دنیا سے جا چکے ہیں مگر درحقیقت وہ اب بھی ہمارے ساتھ ہیں۔ وہ ابھی کوئی نیا افسانہ لکھیں گے اور ہمیں سنائیں گے۔

Comments