پاکستان کو پکارتی کشمیرکی وادیاں
پاکستان کو پکارتی کشمیرکی وادیاں
محمد زابر سعید بدر
مقبوضہ جموں و کشمیر کی وادیاں پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گ ونج رہی ہیں اور بھارتی فوج نہت ے کشمیریوں پر تاریخ کا بدترین تشدر کر رہی ہے اور پاکستان زند ہ بادکہنے والی معصوم آوازوں کو نفرت میں بجھے ہوئے نیزوں اور گولیوں کی بوچھار میں ختم کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہے ل یکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ کشمی ر کیسرزمین اب پاکستان کا حصہ بننے کے لئے بےچین ہے اور بے صبر ہو رہی ہے چند دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلب بہت دی کھا جا رہا تھا جس میں کشمیری خ واتینکی ایک بڑی تعداد پاکستان کے پرچم اٹھائے پاکستان زندہ با د کے نعرے لگا رہی تھی میں نے ا س کلپ کو اپنے گروپ میں شئیر کر دیا کچھ دیر بعد ہی ہمارے ایک صحافیدوست جن کا تعلق برطانیہ ک ے ایک معروف روزنامہ سے ہے نے ک منٹ کیا کہ زابر صاحب! جس وقت ی ہ خواتین نعرے لگا رہی تھیں میں بھی وہاں موجود تھا اور اج مقب وضہوادی کا ہر بچہ جوان اور بزر گ اپنے گھروں کی خواتین سمیت بھ ارت سے آزادی کے لئے سڑکوں پر آ چکے ہیں اور بھارت اپنے پروپیگ نڈا اور نفسیاتی جنگ کے روائتیہ تھکنڈوں کو استعمال کر رہا ہے ا ڑی کا واقعہ بھی اسی حکمت عملی کا شاخسانہ ہے۔یہ پروپیگنڈہ سائ ینس کی پاپولر حکمت عملی ہے جس کا استعمال ہٹلر کے دست راست ڈا کٹرگوئیبلز نے بھی کیا اور اسرا ئیل کافی عرصے سے کر رہا ہے آرم ی چیف جنرل راحیل شریف اور کور کمانڈرز نے بھی اپنے حالیہ اجلا سوں میں اس پر غور کیا ہے اسصور تحال میں ہمارے میڈیا کو بہت ذم ہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے کے ضرورت ہے
موجودہ دور ابلاغ عامہ کا ہے او ر اس کے تصورات اس تیزی سے بدل رہے ہیں کہ بیس سال پہلے کے ذرا ئع ابلاغ کا تصور بھی اب عجیب س ا لگتا ہے‘ بے شمار ٹیلی ویژنچی نل‘ لاتعداد ریڈیو سٹیشن‘ انٹرن یٹ کا اب ایک ہتھیلی میں سما جا نا اور ہر دن ایک نئی سائنسی ای جاد‘ پوری دنیا گویا جام جم کی صورت میں اب ہر گھر میں بلکہ ہر کمرے میںتقریباً ہر فرد کے ہات ھ میں سما گئی ہے۔ ابلاغ عامہ ک ے ماہرین اب ہر حکومت‘ ادارے‘ م حکمے کی ضرورت بن چکے ہیں۔ ابلا غ عامہ کے ماہرین کی ضرورت صرف پرنٹ یاالیکٹرانک میڈیا کو ہی ن ہیں ہے بلکہ ممالک کے صدور اور وزراء اعظم بھی ان کے مشوروں پر عمل کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ رائے عامہ معاشرے میں کیا کردا ر ادا کرتیہے‘ دنیا کا ہر بااثر اور اہم شخص تو ایک طرف رہا‘ ا ب عام آدمی بھی اس کی اہمیت سے آگاہ ہو چکا ہے۔ ابلاغ عامہ کے یہ ماہرین رائے عامہ ہموار کرتے ہیں‘ رائے عامہکے رہنما تیار ک رتے ہیں اور پروپیگنڈا کی مختلف تکنیکوں کی مدد سے بڑی مضبوط ا ور مستحکم حکومتوں کو اُڑا کر ر کھ دیتے ہیں۔ ابلاغ عامہ کا دائ رہ کار اب بہت وسیع ہوچکا ہے‘ م اضی کے تصورات دھندلا رہے ہیں ل یکن ہم بحیثیت ایک قوم کے ابھی بہت پیچھے ہیں۔ مغربی میڈیا کی تو بات ہی چھوڑیں ہم اپنے ازلی دشمن بھارت کے پروپیگنڈاکا مؤثر توڑ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ب ھارت نے اپنی فلموں اور بعدازیں ڈراموں کی مدد سے ہمارے معاشرے کا چلن ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اُردو میں فارسی اور عربی کےالف اظ نئی نسل کو سمجھ نہیں آتے بل کہ ہندی الفاظ اُن کی جگہ لے چک ے ہیں۔ پاکستانی ثقافت جو ابھی نوزائیدہ ہی تھی‘ دم توڑ چکی ہے ۔ ہماری پاکستانیت بھارت کے مؤث رپروپیگنڈے اور ثقافتی یلغار کے سامنے گھٹنے ٹیک کر بااَدب ہو کرحسرت بھرے انداز میں بیٹھی ہے اور اُس کو سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر کس طرح وہ اپنے آپ کو منوا سکےگی؟پروپیگنڈا کی سرگرمیاں ا تنی ہی پرانی ہیں جتنی خود اقوا م عالم کی تاریخ ہے۔ تاریخ کی ت مام جنگوں میں رزم نگاری اور رز میہ شاعری کو ماہرین اس عہد کا پروپیگنڈا ہیقرار دیتے ہیں۔ پرو پیگنڈا کا سب سے پہلا باضابطہ ث بوت عہدنامہ عتیق سے ملتا ہے۔ ی ہ ابتدائی ثبوت جنگی پروپیگنڈا ہے۔ اس کے بعد چندرگپت موریہ کے عہد میں چانکیہ نےجو ارتھ شاست ر ترتیب دیا اس میں سیاسی پروپی گنڈے کے واضح ثبوت ملتے ہیں۔ اس ی طرح عیسوی سال کے آغاز سے عہد نامہ جدید میں اور اس کے بعد ان قلاب فرانس تکمذہبی پروپیگنڈا و اضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ انق لاب فرانس کے دوران ہی میں عالم ی پروپیگنڈے کا آغاز ہو گیا۔ بھارت ہمارے ساتھ یہی تو کر رہا ہے‘ اس نے ۹۶ سال سےپاکستان کے خلاف‘ مسلم تاریخ کے خلاف عملاً پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے۔ اُ س نے تکنیکی اور فنی لحاظ سے اپ نی فوج کا مورال بلند کرنے کے ل ئے بہترین فلمیں بنائیںجس میں پ اکستانی فوج کو کم ہمت ثابت کیا گیا ہے اور اپنی بھگوڑہ فوج کو بڑا بہادر ثابت کیا گیا ہے اور ہم ہیں کہ ایسی فلموں کو پاکست ان میں آنے دیتے ہیں۔ ایسی فلمی ں بینہونی چاہئیں کیونکہ یہ پرو پیگنڈا پر مبنی فلمیں ہیں۔ مزیدبرآں بھارت نے آج تک جتنی ب ھی تاریخی فلمیں بنائی ہیں‘ اُن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان حکمران عیاشی میںڈوبے رہتے تھے خصوصاً مغل شہنشاہ زیادہ تختہ مشق بنے۔ شہنشاہ اکبر کے بارے م یں یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ راجپ وتوں کی مدد سے مغل اعظم بنا او ر وہ درحقیقت ہندو ہوچکا تھا۔ ش ہنشاہ جہانگیر گویا صرف شراب پی تا رہتا تھا اور عیاشی میں مشغو لر ہتا تھا اور ایک کنیز انارک لی کی زلفوں کا اسیر تھا۔ شہنشا ہ شاہجہان ایک عاشق مزاج حکمرا نتھا۔ اورنگزیب نے ہندوؤں کے من در گرائے‘ یہ سب پروپیگنڈا ہے۔ ذرا غور کریں پاکستان‘ افغانستا ن‘ ہندوستان‘ بنگلہ دیش پر پھیل ی حکومت کیا یہ عیاش حکمران قاب و رکھسکتے تھے۔ اگر یہ اتنے ہی غافل اور ناکام حکمران تھے تو ج نگیں آسمان سے اُتر کر فرشتے کر تے رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مغل ش ہنشاہیت روئے زمین کی سب سے زیا دہخوشحال اور باوسائل سلطنت تھی اور 1707ء تک وہ پورے کروفر کے ساتھ دشمنوں کے دلوں پر ہیبت ط اری کرتی رہی۔ ہاں یہ الگ بات ہ ے کہ 1707ء کے بعد اپنوں ہی کیب ے وفائیوں کی داستانیں ہیں۔ سیّ د برادران نے نااہل شہزادوں کوت خت پر بٹھایا‘ اہل شہزادوں کو ق تل کروا دیا۔ جب نادر شاہ نے173 9ٓٓٓء میں حملہ کیا تو نظام الم لک آصف جاہ تواسے 20 کروڑ کے عو ض واپس بھیج چلا تھا لیکن نواب آف اودھ سعادت خان نے اسے دہلی جانے کو کہا اور پھر جو ہوا سار ا زمانہ جانتا ہے کہ صدیوں کی د ولت کو یہ لٹیراایران لے گیا‘ ت خت طاؤس کروڑوں روپے مالیت کے ج ہانگیر‘ اکبر‘ شاہجہان کے 9 تخت ‘ 3 کروڑ روپے کے جواہرات‘ کوہ نو ر ہیرا اور تقریباً 60 کروڑ روپ ے نقد۔ مزیدبرآںلاتعداد ہاتھی‘ گھوڑے‘ ٹکسال بھی لیتا گیا۔ تین برس تک مغل سلطنت کے پاس ٹکسال ہی نہیں تھے کہ وہ سکے ڈھال سک تی۔ سلطنت مغلیہ زخموں سے چور ا ور بے بس ہو کررہ گئی اور پھر غ یر بھی میدان میں آ گئے۔ انگریز ‘ پرتگیز‘ ہندو‘ سکھ‘ مرہٹے سب نے اپنا اپنا کردار ادا کیا اور مسلمانوں کی یہ عظیم سلطنت 1857ء میں ماضی کا سایہ بنکر رہ گئی۔موجودہ دور تو گویا پروپیگ نڈے کے عروج کا دور ہے‘ ہر طرف پروپیگنڈا چل رہا ہے۔ ہمارے اوپ ر چاروں طرف سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پروپیگنڈا کی بارشبرس رہی ہے اور ہم آخر کس طرح اس سے خو د کو محفوظ کر سکتے ہیں۔دور جدی د میں مواصلات کی روزافزوں ترقی ‘ ریڈیائی لہروں کی عالمی وسعت اور ٹیلی ویژن کی ایجادکے بعد ت و پورا خطہ ہی پروپیگنڈا کے زد میں آ گیا۔ آج دنیا جہاں کے ذرا ئع ابلاغ سے ہر ملک امن کی حالت میں بھی اندرون ملک اور کسی نہ کسی سطح پر بیرون ملکپروپیگنڈے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ اس ل ئے مسلح جنگ کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں پروپیگنڈے کے ذریعے بھی تباہی پھیلائی جا رہی ہے۔ د نیا جہاں میں امریکیپروپیگنڈا ا پنے عروج پر ہے۔ عراق جنگ بعداز یں افغان جنگ میں اعلیٰ پیمانے پر پروپیگنڈا کا استعمال کیا گی ا۔ ہمارے میڈیا کو اب ایک موثر کاونٹر حکمت عملی بنانے کیضرورت ہےجو بھارتی ڈراموں اور فلموں کی نمائیش کی بجائے اس ثقافتی یلغار لا موثر توڑ کر سکے اس مر تبہ عید پر بھارتی فلموں کی بجا ئے ملکی فلموں کی نمائیشخوش آئی ند ہے۔

Comments