کیا مرد بھی ہراسمنٹ کا شکار ہیں, ایک سنجیدہ سماجی سوال | صاحب زادہ زابر سعید بدر
کیا مرد بھی ہراسمنٹ کا شکار ہیں — ایک سنجیدہ سماجی سوال
صاحب زادہ محمد زابرسعیدبدر
حال ہی میں برطانیہ کے ایک مقدمے نے دنیا کو چونکا دیا۔ چیشائر کی ایک خاتون نے ایک نیک نیتی سے مدد کرنے والے شخص پر ریپ کا جھوٹا الزام لگا دیا۔ بعد ازاں عدالت میں سچ سامنے آیا، خاتون نے اعتراف کیا اور اسے دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جج نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایسے جھوٹے الزامات کے بعد مرد یہ سوچ سکتے ہیں کہ وہ آئندہ کسی اکیلی عورت کی مدد کے لیے نہیں رکیں گے — اور یہ معاشرے کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
یہ واقعہ ہمیں ایک بڑے سوال کی طرف لے جاتا ہے:
کیا ہر الزام فوراً سچ مان لیا جانا چاہیے؟
چند برس قبل پاکستان میں بھی اس حوالے سے بحث ہوئی تھی۔ سابق چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کشمالہ طارق نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہراسمنٹ کے کئی کیسز تحقیقات کے بعد غلط یا مبالغہ آمیز ثابت ہوئے۔ اسی تناظر میں حالیہ دنوں ایک کالج پروفیسر کی خودکشی کا واقعہ بھی زیر بحث آیا، جہاں ان پر لگنے والے الزام کو بعد میں متنازع قرار دیا گیا۔ ایسے واقعات محض خبریں نہیں ہوتے، یہ انسانی زندگیاں ہوتی ہیں۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ خواتین کے ساتھ ہراسمنٹ اور ظلم کے حقیقی واقعات بھی ہوتے ہیں — اور وہ سنگین ہوتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات جھوٹے یا غلط الزامات بھی سامنے آتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اکثر توازن کھو دیتا ہے۔
قرآن مجید میں حضرت یوسفؑ اور زلیخا کا واقعہ ایک گہرا انسانی اور نفسیاتی سبق دیتا ہے۔ زلیخا نے اپنی خواہش کے تحت الزام لگایا، اور یوسفؑ کو قید کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں حقیقت سامنے آئی۔ اس قصے میں ایک اصولی بات پوشیدہ ہے:
الزام اور حقیقت ہمیشہ ایک نہیں ہوتے — اور تحقیق کے بغیر فیصلہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں عمومی رویہ یہ ہے کہ اگر کوئی خاتون کہے کہ "مجھے چھیڑا گیا"، تو فوراً پورا سماج جذبات میں آ جاتا ہے۔ بعض اوقات سوشل میڈیا عدالت بن جاتا ہے اور خاندان تباہ ہو جاتے ہیں، جبکہ قانونی تحقیق ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی ہوتی۔
یہ بھی ایک غلط رویہ ہے کہ عورت کو یا تو مکمل معصوم اور فرشتہ سمجھ لیا جائے، یا پھر انتہائی بدگمانی کی نظر سے دیکھا جائے۔ دونوں انتہائیں نقصان دہ ہیں۔ انسان، انسان ہوتا ہے — نہ مکمل فرشتہ، نہ مکمل شیطان۔ یہی اصول مرد پر بھی لاگو ہوتا ہے اور عورت پر بھی۔
اگر ہم واقعی جینڈر جسٹس چاہتے ہیں تو ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ:
خواتین ہراسمنٹ کا شکار ہوتی ہیں — اور انہیں تحفظ ملنا چاہیے۔
مرد بھی جھوٹے الزامات کا شکار ہو سکتے ہیں — اور انہیں بھی انصاف ملنا چاہیے۔
برطانوی عدالت کے جج کا یہ کہنا کہ ایسے واقعات معاشرے میں مدد کے جذبے کو کمزور کرتے ہیں، دراصل ایک سماجی انتباہ ہے۔ اگر ہر الزام کو بغیر تحقیق کے سچ مان لیا جائے تو انصاف کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
انسانی دماغ اور انسانی رویہ سادہ نہیں ہوتے۔ حسد، انا، خواہش، خوف، سماجی دباؤ — یہ سب عوامل کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے قانون میں تحقیق، ثبوت اور سماعت کا اصول رکھا گیا ہے۔
ہمیں بطور معاشرہ یہ سیکھنا ہوگا کہ:
نہ ہر الزام کو فوراً رد کریں،
نہ ہر الزام کو فوراً سچ مان لیں۔
تحقیق کریں، سنیں، توازن رکھیں — اور خود جج بننے سے پہلے قانون کو اپنا کام کرنے دیں۔
انصاف جذبات سے نہیں، شواہد سے قائم ہوتا ہے۔
#صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر
#ZSB
______________
نیکی کا صلہ الزام: ایک جھوٹ جس نے زندگی بدل دی
برطانیہ کے علاقے چیشائر (Cheshire) میں پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جھوٹا الزام نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے خاندان کو تباہی کے دہانے پر لا سکتا ہے۔
38 سالہ پانچ بچوں کی ماں ریچل جونز (Rachael Jones) نے نشے کی حالت میں ایک نیک دل شخص پر ریپ کا سنگین اور جھوٹا الزام لگا دیا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب 33 سالہ سلیم اللہ (Salim Ullah) نے ایک عورت کو سڑک کنارے روتے، پریشان اور ننگے پاؤں کھڑے دیکھا۔ وہ شدید نشے میں تھی اور غیر متوازن حالت میں دکھائی دے رہی تھی۔ انسانی ہمدردی کے تحت سلیم اللہ نے اسے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور گھر چھوڑنے کی پیشکش کی۔ وہ اسے بحفاظت اس کے گھر تک پہنچا کر واپس جانے لگا۔
مگر صورتحال اس وقت پلٹ گئی جب خاتون نے سلیم اللہ سے گلے ملنے کی خواہش ظاہر کی، جسے اس نے مؤدبانہ انداز میں مسترد کر دیا۔ اس انکار کے فوراً بعد وہ گھر کے اندر گئی اور پولیس کو فون کر کے یہ جھوٹا الزام لگا دیا کہ سلیم اللہ نے دو پاکستانی افراد کے ساتھ مل کر اسے ایک سنسان مقام پر لے جا کر اجتماعی زیادتی (گینگ ریپ) کا نشانہ بنایا۔
یہ الزام انتہائی سنگین تھا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سلیم اللہ کو گرفتار کر لیا۔ ایک باعزت شہری پر اچانک لگنے والے اس الزام نے اس کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کی بیوی اس وقت چھ ماہ کی حاملہ تھی، اور پورا خاندان شدید ذہنی اذیت اور سماجی دباؤ کا شکار ہو گیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو ایسے شواہد ملے جنہوں نے خاتون کے بیان کو جھوٹ ثابت کر دیا۔ بالآخر ریچل جونز نے اعتراف کیا کہ اس نے من گھڑت کہانی بنائی تھی۔ عدالت میں اس نے کہا:
"میں نے خود کو ایک انتہائی احمقانہ صورتحال میں ڈال دیا۔ یہ سب ایک بےوقوفانہ اور گھٹیا حرکت تھی۔"
چیسٹر کراؤن کورٹ (Chester Crown Court) میں سماعت کے دوران ریچل جونز نے "انصاف کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے" (Perverting the Course of Justice) کے جرم کا اعتراف کیا۔
جج نے اسے دو سال قید کی سزا سنائی۔ سزا سناتے ہوئے جج نے سخت ریمارکس دیے کہ ایسے جھوٹے الزامات معاشرے میں خوف پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کے بعد مرد یہ سوچنے پر مجبور ہو سکتے ہیں کہ "اب میں کبھی کسی اکیلی عورت کی مدد کے لیے نہیں رکوں گا" — اور یہ رجحان معاشرتی اعتبار سے نہایت خطرناک ہے۔
ریچل جونز کو عدالت سے سیدھا جیل بھیج دیا گیا جبکہ سلیم اللہ کو مکمل طور پر بے گناہ قرار دے دیا گیا اور اس کی ساکھ بحال ہوئی۔
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ ایک جھوٹا الزام کس طرح ایک نیک نیتی والے شخص کی عزت، سکون اور خاندانی زندگی کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عدالت کا فیصلہ نہ صرف انصاف کی بحالی تھا بلکہ معاشرے کے لیے ایک واضح پیغام بھی — کہ جھوٹے الزامات کسی صورت قابلِ برداشت نہیں۔

Comments