جنریشن زی کی محبت, ایک نیا تناظر صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
جنریشن زی اور محبت
جب محبت میں ’میں‘ باقی رہ جائے
تحریر: ڈاکٹر زابر سعید بدر
محبت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی کی قوت رہی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس نے انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار تک پہنچایا، نفرت کو رحم میں بدلا، اور بکھرے ہوئے انسانوں کو ایک قوم بنا دیا۔ محبت کا اصل سفر "میں" سے "ہم" تک کا سفر ہوتا ہے۔ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو پیچھے رکھ کر کسی دوسرے کو آگے لے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی تربیت بھی ہوتی ہے۔
مگر آج کی جنریشن زی ایک عجیب نفسیاتی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ یہ نسل صرف دنیا ہی کے بارے میں نہیں بلکہ محبت کے بارے میں بھی تشکیک کا شکار ہے۔ وہ ہر چیز کو مادیت کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔ وہ تعلق کو بھی ایک تجربہ سمجھ کر شروع کرتی ہے اور ایک فیصلے کی طرح ختم کر دیتی ہے۔ وہ محبت میں بھی اپنے "میں" کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے، جبکہ محبت تو خود "میں" کی نفی سے شروع ہوتی ہے۔
حال ہی میں BBC News اردو کی ایک تفصیلی رپورٹ نے اسی حقیقت کو نمایاں کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جنریشن زی نے تعلقات کے نئے انداز اور نئی اصطلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ان میں ایک اصطلاح "Situationship" ہے۔ یہ ایسا تعلق ہوتا ہے جس میں قربت تو ہوتی ہے مگر اس کا کوئی واضح نام، وعدہ یا مستقبل نہیں ہوتا۔ دونوں افراد ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں مگر ایک غیر یقینی کیفیت میں رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور رجحان "Clear Coding" کا سامنے آیا ہے، جس میں نوجوان تعلق کے آغاز میں ہی اپنی شرائط واضح کر دیتے ہیں۔ وہ پہلے ہی طے کر لیتے ہیں کہ یہ تعلق کتنا گہرا ہوگا اور کتنا نہیں ہوگا، تاکہ بعد میں انہیں جذباتی تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔
بظاہر یہ ایک محفوظ طریقہ لگتا ہے، مگر اس کا نتیجہ وہی نکلا جس کا انسانی فطرت کے حوالے سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔
بی بی سی کی رپورٹ میں شامل ایک نوجوان لڑکی نے اعتراف کیا کہ ایک ہی وقت میں کئی لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنا "بہت تھکا دینے والا" عمل ہے۔ اس نے جذبات سے بچنے کی کوشش کی، تعلق کو نام دینے سے گریز کیا، مگر وہ اس تھکن سے نہ بچ سکی جو بے یقینی پیدا کرتی ہے۔
یہ اس لیے ہوا کیونکہ انسان کا دل ایک وقت میں کئی سمتوں میں مکمل طور پر تقسیم نہیں ہو سکتا۔
ٹیکنالوجی نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ڈیٹنگ ایپس جیسے Tinder نے تعلق کو ایک انتخابی فہرست بنا دیا ہے۔ اب تعلق بھی ایک آپشن بن گیا ہے۔ اگر ایک میں مشکل پیش آئے تو دوسرا موجود ہے۔ اس آسانی نے تعلق کو مضبوط بنانے کے بجائے اسے عارضی بنا دیا ہے۔
جنریشن زی دراصل خود کو بچانا چاہتی ہے۔ وہ ٹوٹنے سے بچنا چاہتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو جذباتی نقصان سے محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔ مگر وہ یہ بھول گئی ہے کہ محبت حفاظت سے نہیں بلکہ اعتماد سے پیدا ہوتی ہے۔
محبت میں انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا، مگر وہ اپنے "میں" کو نرم ضرور کر دیتا ہے۔ وہ اپنی انا کو پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ وہ دوسرے کے لیے جگہ بناتا ہے۔
جب محبت میں صرف "میں" باقی رہ جائے تو پھر تعلق نہیں رہتا، صرف ساتھ رہ جاتا ہے۔
اسی رپورٹ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ان تمام تجربات کے باوجود اس نسل کے نوجوانوں کے دل میں اب بھی ایک مستقل اور سچے تعلق کی خواہش موجود ہے۔ وہ اب بھی کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا چاہتے ہیں جس پر وہ مکمل یقین کر سکیں۔ وہ اب بھی استحکام چاہتے ہیں۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی فطرت نہیں بدلی۔
انسان آج بھی محبت چاہتا ہے۔
مگر محبت کی ایک اپنی شرط ہوتی ہے۔
محبت وہاں شروع ہوتی ہے جہاں "میں" کمزور پڑ جاتا ہے اور "ہم" مضبوط ہو جاتا ہے۔
__________________
زابر سعید بدر انسٹیٹیوٹ آف میڈیا ا سٹڈیز کی طرف سے جاری کیا گیا
ایڈیٹر :حفصہ زابر سعید بدر
حفصہ زابر سعید بدر اسپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے معروف ہیں. زمز کی میڈیا ہیڈ اور صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر کی تمام میڈیا سرگرمیوں کی نگران اور منتظم ہیں. ان کی کتاب بے یقینی سے یقین کا سفر زیر طبع ہے. مزید براں صاحب زادہ زابر سعید بدر کی نئی کتابوں جو صحافت سے متعلق ہیں کی کو رائیٹر بھی ہیں.

Comments