دنیا کی چند عظیم کتابیں, غازی صلاح الدین کی خوبصورت یادیں / زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا سٹڈیز
دنیا کی چند عظیم کتابیں
_____________
لیجنڈ ری صحافی غازی صلاح الدین کی خوبصورت یادیں
~~~~~~~~
زابر سعید بدر انسٹیٹیوٹ آف میڈیا ا سٹڈیز
لیجنڈری صحافی اور کتابوں سے محبت رکھنے والے خوبصورت انسان غازی صلاح الدین بہترین کتابوں اور کتاب دوست معاشروں کے بارے اپنی یادوں کو ہمارے ساتھ شیئر کرتے ہیں جسے زابر سعید انسٹیٹیوٹ اف میڈیا سٹڈیز اپ کے لیے پیش کرتا ہے.
___________
کتابوں کے بارے میں گفتگو ہو تو مجھے کچھ ایسی کتابیں یاد آتی ہیں جن کے ساتھ واقعات جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب دی برج آن دی ڈرینا ہے۔
1960 کی دہائی میں، میں کراچی کے اخبار لیڈر میں ایک نوجوان رپورٹر تھا۔ وہاں یوگوسلاویہ کی ایمبیسی نے ایک کتاب بھیجی، کیونکہ اس کتاب کے مصنف کو ادب کا نوبیل انعام ملا تھا۔ میں نے وہ کتاب پڑھی — دی برج آن دی ڈرینا — اور مجھے یوں لگا جیسے کسی طلسماتی دنیا کی کہانی ہو۔ ایک دریا پر ایک پل بن رہا ہے، اور جہاں وہ پل بن رہا ہے وہاں کیسی سیاسی کشمکش ہے، کیسے لوگ رہتے ہیں۔ پل بنتا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے لوگوں کی کہانیاں بھی بیان ہوتی جاتی ہیں۔ میں بہت متاثر ہوا اور واقعی لگا جیسے کوئی طلسم ہوش رُبا چیز ہے۔
پھر اتفاق ہوا کہ سال گزر گئے اور 1980 کی دہائی میں، جب میں ڈان اخبار میں تھا تو مجھے یوگوسلاویہ جانے کا موقع ملا، اخبار کی طرف سے، اس ملک کے بارے میں لکھنے کے لیے۔ جب میں بلغراد میں وزارتِ خارجہ کے لوگوں سے ملا تو انہوں نے پوچھا: آپ یہاں اتنے دن رہیں گے، کیا دیکھنا چاہیں گے؟ میں نے کہا: میں ڈرینا کا پل دیکھنا چاہتا ہوں۔
وہ بہت خوش ہوئے۔ کہنے لگے: آپ نے کتاب پڑھی ہے؟
میں نے کہا: جی ہاں۔
وہ بولے: یہاں لوگ بہت خوش ہوتے ہیں جب کوئی کہتا ہے کہ اس نے کتاب پڑھی ہے۔ اکثر لوگ کہتے ہیں ہم نے کتاب نہیں پڑھی، ہم نے پل دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا اس کے لیے آپ کو سرائیوو جانا ہوگا۔ سرائیوو خود بھی ایک خوابوں کی جگہ تھی۔ پھر مجھے وہاں لے جایا گیا، اور سرائیوو سے ہم بس میں گئے، اور میں نے ڈرینا کا وہ پل دیکھا۔ وہ واقعی ایک غیر معمولی پل تھا۔
بعد میں جب میں نے اس کے بارے میں پڑھا تو معلوم ہوا کہ یہ پل اس معمار نے بنایا تھا جس نے استنبول کی مشہور بلیو مسجد بھی تعمیر کی تھی۔
وہ کتاب بعد میں مجھ سے کھو گئی، یا شاید کوئی لے گیا۔
چند سال پہلے، جب وبا کا زمانہ تھا اور کچھ خاندانی مصروفیات کے باعث ہمیں زاگرب جانا پڑا، تو میں نے وہاں اس کتاب کو تلاش کیا۔ وہ آسانی سے مل گئی، انگریزی ترجمے میں، صرف عنوان میں معمولی فرق تھا۔
اسی طرح ایک اور کتاب مجھے یاد آتی تھی، ایک روسی ناول، جس کا نام بیفور دی ڈیلوژ تھا۔ اس میں انقلاب سے پہلے کے روس کا ذکر تھا۔ میں سوچتا تھا کہ جیسے ہمارے حالات ہیں، ویسی ہی کشمکش شاید وہاں بھی تھی، کسی بڑی تبدیلی سے پہلے۔
میں نے گوگل پر تلاش کیا مگر کتاب آسانی سے نہ ملی۔ پھر میں نے اس پر ایک کالم لکھ دیا۔ مجھے امریکہ سے ایک پاکستانی کا ای میل آیا۔ اس نے لکھا: یہ کتاب میرے پاس ہے، 1947 کا ترجمہ ہے، آپ کو پہلا ایڈیشن چاہیے یا نیا؟
پھر اتفاق سے وہ کتاب مجھے بھجوا دی گئی۔ میں نے اسے دوبارہ پڑھا اور بہت پسند کیا۔
جب ہم نوجوان تھے، کراچی میں چند دوست مل کر بڑے خواب دیکھتے تھے۔ ہم نے ایک کتاب پڑھی تھی — لسٹ فار لائف — جو وان گوگ کی زندگی پر مبنی ناول ہے۔ وہ کتاب ہمیں بہت متاثر کر گئی۔ وان گوگ کی زندگی بہت دردناک تھی، مگر بعض اوقات اداس چیزیں بھی انسان کو بہت متاثر اور متاثر کن انداز میں متاثر کرتی ہیں۔
اسی طرح نئی نئی کتابیں ملتی رہیں۔ ایک بار میں نے اسلم اظہر کا انٹرویو کیا تو انہوں نے پوچھا: کیا تم نے سمرقند پڑھی ہے؟ میں نے کہا نہیں۔
انہوں نے کہا: تم کیسے قاری ہو؟
پھر جب میں نے وہ ناول پڑھا تو مجھے لگا جیسے ایک نئی دنیا دریافت ہو گئی ہو۔
کتابوں کے ساتھ میرا تعلق صرف پڑھنے تک محدود نہیں رہا، بلکہ لائبریریوں سے بھی رہا۔ کراچی کی برٹش کونسل لائبریری میری درسگاہ تھی۔ میں وہاں جا کر کتابیں پڑھتا تھا، انگریزی سیکھی، اور وہ جگہ میرے لیے ایک پناہ گاہ بھی تھی۔
بعد میں جب میں نے مختلف ممالک کا سفر کیا تو ہر جگہ کی قومی لائبریریاں دیکھیں۔ ٹورنٹو میں سو سے زیادہ برانچز ہیں۔ امریکہ میں ہر محلے میں لائبریری ہے، جو کمیونٹی سینٹر بھی ہوتی ہے۔
برازیل، انڈونیشیا اور دیگر ممالک میں بھی شاندار لائبریریاں دیکھیں۔
یہ سب دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے یہاں ایسی سہولیات کم ہیں، اور لوگ کم پڑھتے ہیں۔
حالانکہ آج بھی دنیا میں چھپی ہوئی کتاب کی اہمیت برقرار ہے۔
اگر آپ کسی بڑے ادیب کا انتقال دیکھیں، جیسے فرانس میں وکٹر ہیوگو کا، تو لاکھوں لوگ جنازے میں شریک ہوئے۔
اسی طرح ہیری پوٹر کی کتابیں آدھی رات کو جاری ہوتی تھیں اور لوگ قطاروں میں کھڑے ہوتے تھے۔
شہر اور کتابوں کا بھی گہرا تعلق ہے۔
استنبول، پیرس، لندن، دہلی، لکھنؤ — سب پر عظیم ناول لکھے گئے ہیں۔
جب آپ بڑھاپے میں کسی کتاب کو دوبارہ پڑھتے ہیں تو وہ بالکل نئی لگتی ہے، جیسے کسی پرانے دوست سے ملاقات ہو گئی ہو۔
کتاب صرف یہ نہیں ہوتی کہ اس میں کیا لکھا ہے — بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ نے اسے کہاں پڑھا، کب پڑھا، اور اس وقت آپ کی زندگی کیسی تھی
میرے پاس بھی بہت سی کتابیں ہیں، بکھری ہوئی۔ کبھی کبھی میں یونہی انہیں دیکھتے ہوئے کوئی پرانی کتاب اٹھا لیتا ہوں اور پڑھنا شروع کر دیتا ہوں، اور پھر اسی میں کھو جاتا ہوں۔
پڑھی ہوئی کتابوں کو دوبارہ پڑھنا میرے لیے ایک نئی جہت رکھتا ہے۔
اور کچھ کتابیں ایسی بھی ہیں جو ابھی تک میرا انتظار کر رہی ہیں — جیسے وار اینڈ پیس اور مڈل مارچ — جیسے وہ مجھے بلا رہی ہوں کہ آؤ، ہمیں دوبارہ پڑھو۔
زابر سعید انسٹیٹیوٹ اف میڈیا سٹڈیز نے معروف صحافی اور کتابوں کے قدردان جناب غازی صلاح الدین کی اس دلچسپ اور معلومات سے بھرپور گفتگو کو طالب علم و کتاب سے محبت کرنے والوں اور مفاد عامہ کے لیے جاری کیا

Comments