سائیں حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی, تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما بارے صاحب زادہ زابر سعید بدر کی تحریر


 تحریک پاکستان کے ممتاز راہ نما 

پیر سائیں حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی


صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر



تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما اور صوفی بزرگ پیر سائیں حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی قادری 1914ء کے لگ بھگ فیروز پور ( انڈیا ) کے قریب واقع صوبہ قدیم نامی بستی میں پیر کے دن دنیا میں تشریف لائے۔ ابتدائی تعلیم فیروز پور میں ہی حاصل کی تاہم حضرت کی والدہ ماجدہ جو بے حد جہاندیدہ اور نیک خاتون تھیں نے ان کو روحانی تعلیم کے لئے کھریپڑ شریف سائیں محمد عظیم پاک قادری کے پاس بھجوا دیا، جو صاحب کرامت بزرگ تھے سائیں عظیم قادری نے یہاں دینی درس گاہ قائم کر رکھی تھی جہاں درجنوں طلباء اپنی روحانی پیاس کی تسکین کا ساماں کرتے ۔ نوجوان سائیں محمد یعقوب نے جب اپنی تعلیم اس دینی درس گاہ سے مکمل کر لی تو فیروز پور واپس جا کر ممتاز حکیم احمد علی سے طب کی تعلیم حاصل کی ، چند برس بعد دہلی چلے گئے اور طبیہ کالج سے زبدۃ الحکماء کی سند حاصل کی ۔ حکیم محمد یعقوب کو اردو، فارسی، عربی اور پنجابی زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا ۔ انہوں نے اپنی پنجابی شاعری میں جگہ جگہ عربی اور فارسی کا بھر پور استعمال کیا ہے ۔ دہلی سے واپسی پر انہوں نے فیروز پور میں ہی شفا خانہ قادریہ" کے نام سے مطلب قائم کیا ۔ جلد ہی اطراف میں ان کی روحانی عظمت اور بزرگی کے چرچے ہونے لگے۔ حضرت پیر سائیں کو سائیں شیر محمد آف فتح پور شریف ضلع اوکاڑہ نے خلافت کی خلعت سے سرفراز فرمایا دریں اثناء سائیں محمد عظیم پاک قادری نے بھی حضرت کو  خلافت عطا فرمائی اس طرح سائیں محمد یعقوب اپنے استاد محترم قبلہ جناب بابا سائیں محمد عظیم پاک قادری کے پہلے خلیفہ نامزد ہوئے اور وہ ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ صحت اور احترام کے طور پر عظیمی ضروری لکھتے ۔



ان کے صاحبزادے سعید احمد بدر قادری فرماتے ہیں کہ میں نے بابا سائیں کی شاعری کی کتابیں معروف نعت گو محترم حفیظ تائب صاحب کو پڑھنے کے لئے دیں، اتفاق ایسا ہوا کہ وہ انہیں کہیں رکھ کر بھول گئے کئی سال گزر گئے لیکن کتا بیں نہ میں حفیظ تائب نے بتایا کہ میں


سخت پریشان تھا کہ سعید بدر کو کتا بیں کہاں سے لا کر دوں، بابا سائیں کا بہت زبردست اور گراں قدر کلام بھی انہیں کتابوں میں محفوظ تھا۔ کہنے لگے انہی دنوں کافی بارشیں ہوئیں کتابوں کا ایک بکس جو روشندان کے پاس پڑا تھا اس میں پانی چلا گیا میں نے وہ کھولا تو اس میں پڑی تمام کتابیں خراب ہو چکی تھیں لیکن بابا سائیں کی تمام کتا بیں بالکل محفوظ تھیں، حفیظ تائب مرحوم نے والد گرامی سے فرمایا کہ اس بات کا میں قائل ہو گیا ہوں کہ آپ کے والد گرامی صاحب کرامت شخصیت ہیں بابا سائیں بہت بڑے عالم دین نامور صوفی ، بزرگ عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم میں ڈوبی ہوئی شاعری کو تخلیق کرنے والے اور ممتاز طبیب تھے۔


بابا سائیں کی شاعری حضور اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ  کی محبت میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ بابا سائیں صاحب دیوان بھی تھے۔ تحریک پاکستان میں بابا سائیں نے گراں قدر خدمات سرانجام دیں ۔ دامے، قد مے، سخنے ہر طرح سے تحریک میں حصہ لیا لیکن بھی کسی قسم کا کوئی سیاسی اور مالی فائدہ نہ اٹھایا۔ قیام پاکستان کے بعد بے سرو سامانی کے عالم میں پاکستان چلے آئے لیکن یہاں آکر بھی نہ کوئی مکان اور نہ ہی دکان الاٹ کروائی حالانکہ فیروز پور میں اچھے خاصے گھر اور چلتے ہوئے مطب کے مالک تھے ۔ ڈاکٹر ضیغم جو زندگی کے آخری ایام میں ان کے پاس رہتے تھے ان سے بیعت بھی تھے بتاتے ہیں کہ ان کے والد کے سگے ماموں بے شمار فقراء اور درویشوں کے پاس گئے لیکن من کی مراد نہ ملی ۔ انہوں نے کہا اب میں آپ کے بابا


سائیں سے ملنا چاہتا ہوں ۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں ہم اپنے والد کے ماموں کو بابا سائیں کے پاس لے گئے ، بابا سائیں نے انہیں دیکھتے ہی کہا جاؤ ضیغم چائے لے آؤ، ڈاکٹر ضیغم نے مجھے بتایا کہ ہم حیران رہ گئے کیونکہ قبلہ سرکار بابا سائیں نے کبھی چائے کا اس طرح نہیں کہا تھا۔ محفل میں ہم چار پانچ لوگ تھے چائے بھی اتنے ہی لوگوں کے لئے آئی اسی دوران اور بھی لوگ آگئے میں نے سوچا کہ چائے تو کم پڑ جائے گی لوگ زیادہ ہو گئے ہیں لیکن چائے صرف چار پانچ لوگوں کے لئے منگوائی گئی تھی میں دوبارہ آرڈر دینے کے لئے اٹھنے لگا تو قبلہ سرکار بابا سائیں نے ہاتھ کے اشارے سے منع فرمایا اور مجھے حکم دیا کہ سب کے لئے چائے ڈالو، میں حیران تھا ڈھکن اٹھا کر دیکھنے لگا تو سرکار نے سختی سے منع فرمایا اور کہا چائے کافی ہے تم مہمانوں کو دو۔ ڈاکٹر ضیغم بتاتے ہیں کہ چائے تمام مہمانوں کو پوری ہوگئی اسی دوران والد صاحب کے ماموں نے بابا سائیں کی بیعت کر لی۔ اس محفل کے بعد قبلہ سرکا ر بابا سائیں نے مجھے کہا کہ درویشوں کے لنگروں کو چیک نہیں کیا کرتے۔ آپ ڈالتے جائیں اللہ تعالی برکت ڈالتے جائیں گے۔


جب ہم اس محفل کے بعد گھر پہنچے تو والد گرامی کے ماموں نے مجھے بتایا کہ میں آپ کے سرکار سائیں بابا کی کرامت کا قائل ہو گیا ہوں کیونکہ میں نے اپنے دل میں سوچی رکھا تھا کہ


اگر آپ کے بابا سائیں جاتے ہی سلام دعا کے بغیر مجھے چائے پلائیں گے تو پھر ان کو بزرگ تسلیم کروں گا، ڈاکٹر ضیغم بتاتے ہیں اس وقت ہمیں سمجھ آ گئی کہ قبلہ سرکار بابا سائیں نے ہمیں چائے کا فوری حکم کیوں دیا تھا میں نے اپنے والد کے ماموں کو بتایا کہ بابا سائیں کبھی بھی اس طرح چائے نہیں منگواتے آج خصوصی طور پر انہوں نے حکم دیا تھا۔


بابا سائیں کے مریدین اس طرح کے سینکڑوں واقعات بتلاتے ہیں جن کو سن کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ ایک واقعہ میری دادی جان مجھے اکثر بتاتی تھیں کہ بابا سائیں میری دادی جان سے کم عمر تھے لیکن شادی کے شروع ہی میں دادی جان سے فرمایا کہ ہم آپ سے پہلے اس دنیا سے جائیں گے اور وفات سے ایک سال پہلے بھی دادی جان سے کہا، ہمارا بلاوا آگیا ہے ہم جا رہے ہیں ۔ بابا سائیں کے ایک اور مرید شہباز بتاتے ہیں کہ وہ اور ان کے بھائی خاصے کمزور تھے ایک مرتبہ بابا سائیں نے پوچھا آپ لوگ کسی کلب کو جوائن کیوں نہیں کرتے ، آپ کی صحت تشویشناک حد تک کمزور ہے ہم نے ہچکچاتے ہوئے بتایا کہ ہم افورڈ نہیں کر سکتے ۔ اس پر انہوں نے کہا چلو اللہ تعالیٰ وسیلہ بنائے گا شہباز نے مجھے بتایا کہ میں اور میرا بھائی گورنمنٹ کالج لاہور کی گراؤنڈ میں جاگنگ کیا کرتے تھے اگلے روز صبح جب ہم گراؤنڈ میں گئے تو گورنمنٹ کالج کلب کا کوچ  آتا ہوا دکھائی دیا اور آتے ہی کہا آپ دونوں کو میں روزانہ بڑی محنت سے ورزش کرتے اور جاگنگ کرتے ہوئے دیکھتا ہوں میرے کلب کو جوائن کرو ہم نے کہانی الحال کلب جوائن نہیں کر سکتے ہم نے اپنی مجبوری سے کوچ کو آگاہ کیا تو اس نے کہا پیسے کون مانگ رہا ہے آپ دونوں آؤ اور ٹریننگ کرو. اقبال کیا خوب فرماتے ہیں۔

نہ پُوچھ ان خرقہ پوشوں کی، ارادت ہو تو دیکھ ان کو

 یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

_____________________

سائیں محمد یعقوب منیر عظیمی قادری کی شخصیت اور شاعری پر ان کے پوتے جناب صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر نے ایک کتاب مرتب فرمائی ہے جس کا عکس پیش کیا جا رہا ہے اس کتاب میں بابا سائیں کی ہاتھ کی تحریر کو ہی چھاپا گیا ہے جو انتہائی خوبصورت اور باوقار ہے

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر کا روزنامہ جنگ لاہور میں سائیں حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی کے حالات زندگی پر خصوصی آرٹیکل 

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر کی تصنیف کردہ کتاب کا ٹائٹل 



Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا