پاکستان افغانستان اور نیو ورلڈ آرڈر, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

_“علاقائی سیاست کا بدلتا منظرنامہ: پاکستان، افغانستان اور نئی گریٹ گیم___


صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 



سن 2000 میں جب صحافی اور تجزیہ نگار Ahmed Rashid نے اپنی کتاب Taliban: Islam, Oil and the New Great Game in Central Asia شائع کی، تب افغانستان ایک غیر یقینی کیفیت میں تھا۔ نہ نائن الیون ہوا تھا، نہ امریکہ نے افغانستان میں طویل مدتی مداخلت کی تھی، اور نہ نیٹو کی جنگ شروع ہوئی تھی۔ احمد رشید نے دو ممکنہ راستے واضح کیے: ایک امن اور اقتصادی ترقی کا راستہ، اور دوسرا مسلسل کشمکش اور عدم استحکام کا راستہ۔


انہوں نے لکھا کہ اگر افغانستان میں قیام امن ممکن ہوا تو پورے خطے کو بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔ اقتصادی تعمیرِ نو کے ذریعے منشیات، دہشت گردی، فرقہ واریت اور کالے دھن کے باعث پیدا شدہ مسائل پر قابو پایا جا سکے گا۔ خطے میں پاکستان کی تنہائی ختم ہوگی، وسطی ایشیائی ریاستوں کو سمندر تک رسائی کے نئے راستے ملیں گے، ایران عالمی برادری میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا، اور ترکی، چین اور روس اپنے علاقائی و تاریخی مفادات کے تحفظ میں کامیاب ہو سکیں گے۔ احمد رشید نے واضح کیا کہ اگر امن قائم نہ ہوا تو بدترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں پاکستان سمیت پورا خطہ غیر مستحکم رہ جائے گا۔


اب 26 سال بعد ہم دیکھ سکتے ہیں کہ احمد رشید کی پیش گوئیوں کی کچھ حقیقتیں درست ثابت ہوئیں اور کچھ میں ناکامی ہوئی۔


امن کی کوششیں اور ناکامیاں:

2001 سے 2021 تک امریکی و نیٹو کی مداخلت کے دوران افغانستان میں تعمیرِ نو ہوئی، لیکن سیاسی استحکام قائم نہ ہو سکا۔ توانائی اور پائپ لائن منصوبے (جیسے TAPI) عملی شکل نہ لے سکے، منشیات کی پیداوار میں کمی نہ آئی، اور دہشت گردی نے سرحدوں کی قید قبول نہیں کی۔ یوں احمد رشید کے "امن سے اقتصادی انضمام" کے خواب مکمل طور پر حقیقت میں تبدیل نہ ہو سکے۔


پاکستان کو داخلی انتہاپسندی اور طالبان تحریک کا سامنا رہا۔ ایران طویل عرصے تک عالمی پابندیوں اور سرحدی عدم استحکام کا شکار رہا۔ روس نے وسطی ایشیا میں اپنا اثر قائم رکھا، جبکہ چین نے سنکیانگ اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تناظر میں افغانستان کو اسٹریٹجک اہمیت دی، مگر مکمل استحکام نہ ہونے کی وجہ سے محتاط رویہ اپنایا۔


September 11 attacks نے عالمی منظرنامے کو بدل دیا۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں مداخلت کی، مگر 2021 میں امریکی انخلا کے بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے، اس بار بین الاقوامی تنہائی، مالی بحران اور سفارتی غیر یقینی کے ساتھ۔ یوں خطہ آج بھی اسی دوراہے پر کھڑا ہے: امن یا عدم استحکام؟


جیسا کہ کہا جاتا ہے: "ہم کمبل سے جان چھڑاتے ہیں، کمبل ہمیں نہیں چھوڑتا"۔ پاکستان کی افغان پالیسی بارہا یوٹرن لیتی رہی — اسٹریٹجک گہرائی سے لے کر مذاکرات اور عسکری آپریشنز تک۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ مکمل انخلا ممکن ہوا، نہ مکمل انضمام۔


آج خطے میں بڑے کھلاڑی براہِ راست جنگ سے زیادہ اقتصادی راہداریوں، توانائی کے وسائل، اور سفارتی اثر و رسوخ پر توجہ دے رہے ہیں۔ چین اقتصادی راہداریوں کے ذریعے اثر بڑھا رہا ہے، روس اپنی سلامتی کے دائرے میں سوچ رہا ہے، امریکہ سفارتی اور انٹیلیجنس سطح پر موجود ہے، جبکہ ایران اور ترکی علاقائی کردار چاہتے ہیں۔ لیکن افغانستان میں مستحکم، جامع اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے بغیر کوئی علاقائی خواب مکمل نہیں ہو پا رہا۔


احمد رشید نے 2000 میں جو سوال اٹھایا تھا وہ آج بھی زندہ ہے: افغانستان امن کا پل بنے گا یا عدم استحکام کا گڑھ؟ 26 برس بعد بھی خطہ اسی دوراہے پر کھڑا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ دنیا زیادہ تھکی ہوئی ہے، وسائل محدود ہیں، اور عوام کا صبر کم ہو چکا ہے۔ تاریخ کا المیہ یہی ہے: بعض اوقات دانشور وقت سے پہلے سچ لکھ دیتے ہیں، مگر ریاستیں وقت پر سن نہیں پاتیں۔

26 فروری 2026


#ZSB

#زابرسعیدانسٹیٹیوٹ 

#صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا