ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے تعلیم سے محروم ہیں: ایک لمحۂ فکریہ,زابر سعید بدر
ا ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے تعلیم سے محروم
ایک لمحۂ فکریہ
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف داخلی سلامتی کے مسائل، دہشت گردی، انتہا پسندی، سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست ہمارے سامنے چیلنج بن کر کھڑی ہے، جبکہ دوسری طرف ایک ایسا خاموش بحران بھی موجود ہے جو ان تمام مسائل سے زیادہ سنگین ہے، مگر افسوس کہ اسے وہ توجہ کبھی نہیں ملی جس کا وہ حق دار تھا۔ یہ بحران پاکستان کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ (25.1 ملین) ایسے بچوں کا ہے جو آج بھی اسکول سے باہر ہیں۔ یونیسف کے مطابق یہ دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی سب سے بڑی آبادیوں میں سے ایک ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ جو بچے اسکول جاتے بھی ہیں، ان کی بڑی تعداد مطلوبہ تعلیمی معیار، تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تخلیقی ذہن اور تجزیاتی فہم سے محروم رہ جاتی ہے۔ گویا ہمارا بحران صرف Out-of-School Children کا نہیں بلکہ Out-of-Learning Children کا بھی ہے۔
تعلیم کے میدان میں معروف ماہرِ تعلیم، سابق ڈائریکٹر نیشنل کریکولم کونسل اور ہارورڈ یونیورسٹی سے وابستہ محقق ڈاکٹر مریم چغتائی مسلسل اس نکتے پر زور دیتی رہی ہیں کہ پاکستان کے تعلیمی نظام کو رٹے (Rote Learning) سے نکال کر Concept-Based Learning، Critical Thinking، Problem Solving، Creativity اور Inquiry-Based Learning کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق اکیسویں صدی کی دنیا میں وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو بچوں کو صرف معلومات یاد نہیں کرواتیں بلکہ انہیں سوال کرنا، دلیل دینا، تجزیہ کرنا، تحقیق کرنا اور نئے حل تلاش کرنا سکھاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نصاب، تدریس اور امتحانی نظام میں بنیادی تبدیلی نہ لائی گئی تو پاکستان عالمی علمی معیشت (Knowledge Economy) میں مزید پیچھے رہ جائے گا۔
اسی تناظر میں Brookings Institution کی پاکستان سے متعلق تحقیقی رپورٹس بھی نہایت اہم نتائج سامنے لاتی ہیں۔ بروکنگز کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا تعلیمی مسئلہ صرف اسکولوں کی کمی نہیں بلکہ Learning Crisis ہے۔ لاکھوں بچے کئی سال اسکول جانے کے باوجود بنیادی خواندگی، ریاضی، فہم اور تنقیدی صلاحیت حاصل نہیں کر پاتے۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ تعلیمی نظام کی کامیابی کا پیمانہ صرف داخلہ (Enrollment) نہیں بلکہ Learning Outcomes ہونے چاہئیں۔ بروکنگز اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ پاکستان کو اپنی تعلیمی پالیسی کا مرکز بچوں کے سیکھنے کے معیار کو بنانا ہوگا، نہ کہ صرف اسکولوں کی تعداد یا امتحانات کے نتائج کو۔
بروکنگز کی سفارشات نہایت واضح ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو سب سے پہلے ہر بچے کو معیاری تعلیم تک رسائی دینا ہوگی، اس کے بعد نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، اساتذہ کی تربیت کو بہتر بنانا ہوگا، امتحانی نظام کو رٹے سے نکال کر فہم، تجزیہ اور تخلیقی سوچ پر مبنی بنانا ہوگا، ابتدائی جماعتوں میں بچوں کی زبان اور ریاضی کی بنیاد مضبوط کرنا ہوگی، اور تعلیم کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔ رپورٹ اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ وفاق اور صوبوں کو طویل المدتی قومی تعلیمی حکمت عملی پر متفق ہونا چاہیے تاکہ حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود تعلیمی اصلاحات کا سفر رکے نہیں۔
یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ قیامِ پاکستان کو تقریباً اٹھہتر برس گزرنے کے باوجود تعلیم کبھی قومی ترجیح نہیں بن سکی۔ ہر دور میں سیاست، اقتدار، بحران، جنگیں، دہشت گردی، معاشی مسائل اور دیگر ہنگامی معاملات قومی ایجنڈے پر غالب رہے، جبکہ تعلیم مسلسل پس منظر میں چلی گئی۔ آج بھی جب دنیا مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)، روبوٹکس، بایوٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور علم پر مبنی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، پاکستان اب بھی بنیادی تعلیم کے بحران سے دوچار ہے۔
اگر ہم نے گزشتہ دہائیوں میں تعلیم کو اولین ترجیح دی ہوتی تو شاید آج پاکستان کو داخلی انتہا پسندی، سماجی تقسیم، نفرت انگیزی اور معاشی کمزوری جیسے بہت سے مسائل کا سامنا اس شدت سے نہ کرنا پڑتا۔ ممکن ہے انہی ڈھائی کروڑ بچوں میں مستقبل کا کوئی آئن اسٹائن، نیوٹن، عبدالسلام، بل گیٹس، ایلون مسک یا کوئی عظیم پاکستانی سائنس دان، موجد، مفکر یا عالمی ادارے کا سربراہ موجود ہو، مگر غربت، محرومی، ناقص تعلیمی نظام اور ریاستی بے توجہی اس صلاحیت کو پروان چڑھنے سے پہلے ہی ختم کر دیتی ہے۔
دنیا کے تقریباً تمام بڑے مفکرین اس حقیقت پر متفق ہیں کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس کا انسانی سرمایہ (Human Capital) ہوتا ہے، اور انسانی سرمائے کی تعمیر صرف معیاری تعلیم سے ممکن ہے۔ آج ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کے پیچھے ان کے تعلیمی نظام، تحقیق، اختراع اور تنقیدی سوچ پر مبنی ثقافت کارفرما ہے۔ پاکستان اگر واقعی اپنے معاشی، سیاسی، سائنسی اور سفارتی مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتا ہے تو اسے تعلیم کو قومی ترجیحات میں نمبر ایک مقام دینا ہوگا۔ جب تک ہر بچے کو معیاری تعلیم، تربیت، تحقیق، تنقیدی سوچ اور مساوی مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، تب تک ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہیں گے۔
— زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز

Comments