دوسرا رخ /صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
اختیار اور دولت اکثر “سچ” کی سماجی شکل بدل دیتے ہیں۔ جس کے پاس طاقت ہو، وہ اگر کوا بھی سفید کہہ دے تو بہت سے لوگ حقیقت نہیں، طاقت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ اور جو بے اختیار ہو، وہ سچ بھی کہے تو اس کی آواز اکثر دب جاتی ہے۔ یہی دنیا کا پرانا اور تلخ اصول ہے: حق سے زیادہ اثر بعض اوقات حیثیت کا چلتا ہے۔
مگر اس حقیقت کا دوسرا رخ بھی ہے: طاقت وقتی طور پر بیانیہ بدل سکتی ہے، حقیقت نہیں۔ کوا سفید نہیں ہو جاتا، صرف کچھ عرصے کے لیے لوگ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ تاریخ بارہا دکھاتی ہے کہ اختیار کا شور وقتی ہوتا ہے، جبکہ سچ کی عمر لمبی ہو سکتی ہے اگرچہ اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔
اصل دانش شاید یہ ہے کہ دنیا کو دنیا کی طرح سمجھا جائے: یہاں بہت کچھ اصول سے نہیں، مفاد سے چلتا ہے۔ یہ سمجھ انسان کو کم حیران کرتی ہے، کم زخمی کرتی ہے۔ لیکن اگر انسان صرف اسی کو آخری سچ مان لے تو پھر اقدار، ضمیر، اور کردار بے معنی ہو جاتے ہیں۔
یعنی: دنیا میں کامیابی کے کئی پیمانے طاقت اور پیسہ طے کرتے ہیں، لیکن انسان کی اصل قدر اکثر اس سے طے ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ کے ہجوم میں سچ کو پہچانتا ہے یا نہیں۔
زندگی شاید انہی دو حقیقتوں کے درمیان چلتی ہے: ایک، دنیا جیسی ہے۔ دوسرا، انسان خود کیسا رہنا چاہتا ہے۔
دنیا کو سمجھ لینا حکمت ہے، مگر صرف دنیا دار ہو جانا شاید
حکمت نہیں۔
صاحب زادہ
محمد زابر سعید بدر
7 مئی 2026
تزئین و آرائش
حفصہ زابر سعید بدر
میڈیا ہیڈ
زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز



Comments