Posts

سوئٹزرلینڈ: وہ سرزمین جہاں ریاست عمارتوں میں نہیں، انسانوں کے اندر رہتی ہے, زابر سعید بدر

Image
  سوئٹزرلینڈ: وہ سرزمین جہاں ریاست عمارتوں میں نہیں، انسانوں  میں  رہتی ہے زابرصاحبـــــــــزادہ کچھ دن پہلے دنیا کی نظریں ایک بار پھر سوئٹزرلینڈ کی طرف اٹھیں۔ پہاڑوں کے درمیان بسی ہوئی وہ خاموش سرزمین، جہاں عالمی سیاست کے دھاگے اکثر آ کر آپس میں الجھتے اور سلجھتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں کے پرچم وہاں لہرا رہے تھے۔ پاکستان کا پرچم بھی موجود تھا، امریکہ کا بھی، ایران کا بھی۔ کیمروں کی آنکھیں متوجہ تھیں، عالمی میڈیا متحرک تھا، اور ایک بار پھر یہ احساس تازہ ہوا کہ دنیا کے کئی بڑے فیصلوں کی بازگشت آخرکار انہی وادیوں میں سنائی دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیوں ایک نسبتاً چھوٹا سا ملک، جس کے پاس نہ کوئی بڑی فوجی طاقت ہے، نہ کوئی وسیع سلطنت، نہ دنیا کو فتح کرنے والے جرنیلوں کی داستانیں، آج بھی عالمی اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب نقشے میں نہیں ملتا۔ سوئٹزرلینڈ کو سمجھنے کے لیے پہلے انسان کو سمجھنا پڑتا ہے۔ وہاں ریاست کسی ایک ایوان، کسی ایک محل یا کسی ایک طاقتور شخصیت میں نہیں رہتی۔ وہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں بکھری ہوئی ہے۔ کبھی کسی...

موساد کا پچھتاوا: جب دنیا اسلام آباد کو دیکھ رہی تھی,زابر سعید بدر

Image
 موساد کا پچھتاوا: جب دنیا اسلام آباد کو دیکھ رہی تھی ___________ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   ذرا ایک لمحے کے لیے  تصور  کیجیے۔ دنیا ایک ایسی جنگ کے کنارے کھڑی تھی جس کے شعلے صرف ایران، اسرائیل یا امریکہ تک محدود نہیں رہنے تھے۔ تیل کی قیمتیں بے قابو ہو رہی تھیں۔ عالمی منڈیاں لرز رہی تھیں۔ تجزیہ کار تیسری عالمی جنگ کے خدشات پر گفتگو کر رہے تھے۔ لاکھوں نہیں، اربوں انسانوں کے گھروں میں خوف داخل ہو چکا تھا۔ ماں اپنے بچے کے دودھ کی قیمت دیکھ رہی تھی، مزدور پیٹرول کے بڑھتے نرخوں سے پریشان تھا، اور حکومتیں آنے والے بحران کا حساب لگا رہی تھیں۔ پھر دنیا کے ٹی وی سکرینوں پر ایک منظر ابھرا۔ سوئٹزرلینڈ کے پُرسکون پہاڑوں کے درمیان عالمی سفارت کاری کا ایک غیر معمولی منظر ترتیب پا رہا تھا۔ واشنگٹن، لندن، بیجنگ، ماسکو، دوحہ، ریاض، تہران، استنبول اور برسلز کے نیوز رومز میں ایک ہی خبر گردش کر رہی تھی۔ اسلام آباد۔ جی ہاں، اسلام آباد۔ وہی اسلام آباد جسے کبھی صرف ایک ترقی پذیر ملک کا دارالحکومت سمجھا جاتا تھا، اس دن عالمی سفارت کاری کے مرکز کے طور پر لیا جا رہا تھا۔ دنیا بھر ک...

فیس بک یا ذہنی فضلہ گاہ, یہ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
  وزیر اعلی پنجاب کی سرجری  کی خبر پر سوشل میڈیا کمنٹس کیا ظاہر کرتے ہیں....  ______ فیس بک [ذہنی فضلہ گاہ ]بن چکا ہے.  آپ کا خاندانی تعارف والدین کی تربیت  پاکیزہ نام لیکن تعفن زدہ دماغ بظاہر خوبصورت چہرہ لیکن پیچھے سڑی بوسیدہ نفرت کے زہر سے آلودہ زندہ لاش...  آپ کے کمنٹس یہ سب بتاتے ہیں.. آپ کا نسلی ڈین این اے, آپ کی اوقات, آپ کی تربیت, آپ کا وہ بھیانک چہرہ جو بظاہر خوشبودار جھونکے اچھے کپڑوں اور ڈگریوں کا سہارا لیے ہے....  لیکن یقین مانیے آپ قیامت کا گٹر ہیں جس میں اپ ہمیشہ رہیں گے...

دوسرا رخ /صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
 اختیار اور دولت اکثر “سچ” کی سماجی شکل بدل دیتے ہیں۔ جس کے پاس طاقت ہو، وہ اگر کوا بھی سفید کہہ دے تو بہت سے لوگ حقیقت نہیں، طاقت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ اور جو بے اختیار ہو، وہ سچ بھی کہے تو اس کی آواز اکثر دب جاتی ہے۔ یہی دنیا کا پرانا اور تلخ اصول ہے: حق سے زیادہ اثر بعض اوقات حیثیت کا چلتا ہے۔ مگر اس حقیقت کا دوسرا رخ بھی ہے: طاقت وقتی طور پر بیانیہ بدل سکتی ہے، حقیقت نہیں۔ کوا سفید نہیں ہو جاتا، صرف کچھ عرصے کے لیے لوگ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ تاریخ بارہا دکھاتی ہے کہ اختیار کا شور وقتی ہوتا ہے، جبکہ سچ کی عمر لمبی ہو سکتی ہے اگرچہ اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ اصل دانش شاید یہ ہے کہ دنیا کو دنیا کی طرح سمجھا جائے: یہاں بہت کچھ اصول سے نہیں، مفاد سے چلتا ہے۔ یہ سمجھ انسان کو کم حیران کرتی ہے، کم زخمی کرتی ہے۔ لیکن اگر انسان صرف اسی کو آخری سچ مان لے تو پھر اقدار، ضمیر، اور کردار بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یعنی: دنیا میں کامیابی کے کئی پیمانے طاقت اور پیسہ طے کرتے ہیں، لیکن انسان کی اصل قدر اکثر اس سے طے ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ کے ہجوم میں سچ کو پہچانتا ہے یا نہیں۔ زندگی شاید انہی دو حقیقتو...

پروپیگنڈہ جنگ میں ایران کی امریکہ پر برتری, زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز

Image
  پروپیگنڈا وارفیئر میں ایران کی سبقت [مصنوعی ذہانت کو ہتھیار بنا کر سپر پاور کے بیانیے کو چیلنج ] حالیہ شمارے میں عالمی شہرت یافتہ جریدے The Economist نے ایک غیر معمولی دعویٰ کیا ہے: ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پروپیگنڈا وارفیئر میں ایران، امریکہ پر سبقت لے گیا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک گہرا میڈیا تجزیہ ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک نسبتاً محدود وسائل رکھنے والی ریاست نے جدید ٹیکنالوجی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے عالمی بیانیے کی جنگ میں اثر پیدا کیا۔ 📗ZIMS زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی  اسٹڈیز کی پیشکش میڈیا اسٹوڈنٹس کے لیے رہنمائی زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کی جانب سے یہ تجزیہ میڈیا کے طلبہ کے لیے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ دنیا کا ایک معتبر جریدہ کس طرح امریکی اے آئی ماہرین اور پالیسی سازوں پر تنقید کر رہا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ: کیسے ایران جیسے ملک نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں پروپیگنڈا وارفیئر کے ذریعے ایک بڑی طاقت کے بیانیے کو چیلنج کر دیا؟ 📗ZIMS یہ مطالعہ اس لیے اہم ہے کہ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں ن...

ڈوپامائن دماغ کو فریب کیسے دیتا ہے صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  دور کے ڈھول سہانے کیوں لگتے ہیں؟ [ دماغ ہمیں فریب کیسے دیتا ہے زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز ] 📗ZIMS یہ صرف کہاوت نہیں، انسانی دماغ کا ایک گہرا فریب ہے۔ انسان کو ہمیشہ وہ چیز بہتر لگتی ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی۔ یہ احساس حقیقت نہیں بلکہ ذہنی دھوکہ ہوتا ہے۔  📗ZIMS دماغ میں ایک کیمیائی نظام کام کرتا ہے جسے خوشی کا پیغام رساں کہا جا سکتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے سائنس دان وولفرم شلٹز نے اپنے تجربات میں بتایا کہ یہ کیمیکل اصل خوشی پر نہیں بلکہ “امید” پر زیادہ خارج ہوتا ہے۔ یعنی نئی چیز دیکھ کر دماغ پہلے ہی خوشی کا سگنل دے دیتا ہے، چاہے وہ چیز بعد میں اتنی اچھی نہ نکلے۔  📗ZIMS ایک اور اہم نظریہ برک مین اور کیمبل کا ہے، جسے “عادت کا پہیہ” کہا جاتا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق انسان کسی بھی اچھی چیز کا جلد عادی ہو جاتا ہے۔ گھر کی دال روز ملتی ہے، اس لیے عام لگتی ہے۔ باہر کی مرغی کبھی کبھار ملتی ہے، اس لیے خاص محسوس ہوتی ہے—حالانکہ حقیقت میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔  📗ZIMS سماجی موازنہ بھی ایک بڑا سبب ہے۔ ماہرِ نفسیات لیون فسٹنگر نے اپنے تجربات میں ثابت کیا ...

مغلوں نے آخر ہمارے لیے کیا کیا اکانومسٹ کی رپورٹ, زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز

Image
    مغلوں نے ہمارے لیے آخر کیا کیا؟ مغل سلطنت کے قیام کی سال گرہ کو 500 برس مکمل ہونے  پر  اکانومسٹ کی ہے زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز کی پیشکش   انڈیا کی عظیم ترین مسلم سلطنت نے اس کے طاقتور ترین ہندو سیاسی دھڑے کو کیسے تشکیل دیا تقریروں میں چاہے وہ اپنے حامیوں سے ہوں، پارلیمان میں ہوں یا پوری قوم سے نریندر مودی بارہا بھارت کی صدیوں پر محیط غلامی کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔ ۲۰۱۴ میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ “بارہ سو برس کی غلامی کی ذہنیت آج بھی ہمیں جکڑے ہوئے ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذرا سی بھی بلند حیثیت رکھنے والے شخص سے گفتگو کرتے وقت ہمارے لیے سر اٹھا کر بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔” اس شکوے کا اصل ہدف وہ مسلم سلطنتیں ہیں جو برطانوی نوآبادیاتی دور سے پہلے یہاں قائم رہیں۔ ZIMS📗 ان میں مغل سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والی سلطنت تھی۔ ۲۱ اپریل کو پانی پت کی پہلی جنگ کو ٹھیک پانچ سو برس مکمل ہوئے، جب بابر—جو تیمور اور چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھنے والا ایک وسطی ایشیائی فاتح تھا (اسی نسبت سے “مغل”، جو “منگول” سے ما...