Posts

بین الاقوامی پالیسی ساز کیا سوچ رہے | فارن افئیرز | اگست 2026 | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  تازہ شمارۂ فارن افیئرز  | بدلتی ہوئی عالمی طاقت کا فکری منظرنامہ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر #زابرسعیدانسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز کی جانب سے عالمی سطح کے اہم جرائد میں شائع ہونے والے مضامین اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق تازہ فکری مباحث کو اردو قارئین کے لیے نمایاں کرنا اس مقصد کا حصہ ہے کہ ہمارے طلبہ، اساتذہ، محققین اور عام قارئین دنیا میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو صرف خبروں کے ذریعے نہیں بلکہ ان کے پسِ پشت موجود فکری رجحانات کے ذریعے بھی سمجھ سکیں۔ اسی سلسلے میں تازہ شمارۂ فارن افیئرز کا مطالعہ ایک دلچسپ اور اہم عالمی منظرنامہ ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ اس شمارے کے مختلف مضامین کو اگر الگ الگ پڑھا جائے تو ان میں مصنوعی ذہانت، چین کی صنعتی پیداوار، نایاب معدنیات، حیاتیاتی ہتھیار، امریکی عسکری ٹیکنالوجی، حکومتی کارکردگی، جمہوری نظام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے موضوعات نظر آتے ہیں۔ لیکن جب ان تمام مباحث کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک وسیع تر تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ تصویر اس دنیا کی ہے جہاں طاقت کے پرانے مراکز اب بھی مضبوط ہیں، لیکن ان کی برتری پہلے جیسی ...

مشین سے خدا تک | فارن افئیرز اگست 2026 | تجزیہ:صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 مشین سے خدا تک | انسان اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا سوال صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر زابرسعیدانسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دنیا کے اہم فکری اور علمی مراکز میں جاری مباحث کو پاکستانی قارئین، بالخصوص طلبہ، اساتذہ، محققین اور پالیسی سے دلچسپی رکھنے والے افراد تک آسان، رواں اور قابلِ فہم اردو میں پہنچایا جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ آج کی دنیا کو سمجھنے کے لیے صرف روزمرہ کی خبریں کافی نہیں۔ اصل ضرورت یہ جاننے کی ہے کہ دنیا کے سنجیدہ اہلِ فکر آنے والے کل کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں، کن سوالات سے دوچار ہیں اور بدلتے ہوئے حالات کو کس فکری زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت عالمی سطح کے معروف جریدے فارن افیئرز کے ستمبر اور اکتوبر دو ہزار چھبیس کے تازہ شمارے کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس شمارے میں عالمی معیشت، چین کے بڑھتے ہوئے اثرات، عسکری ٹیکنالوجی، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست کے ساتھ ایک ایسا موضوع بھی نمایاں ہے جس کا تعلق براہِ راست ہماری آنے والی زندگی سے ہے: مصنوعی ذہانت اور انسانیت کا مستقبل۔ "مشین سے خدا تک" کے عنوان سے سامنے آنے والی یہ بحث ہمیں ای...

صاحب زادہ زابر سعید واپڈا ہاؤس میں جنرل فضل رازق کے ہم راہ | لاہور کی یادیں

Image
لاہور کی یادیں صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر واپڈا ہاؤس کی چھت سے لاہور کا نظارہ لارنس گارڈن کے جگنو شاہ دین بلڈنگ کی ومٹو فیروز سنز  کی کتابیں سعید لخت سے ملاقاتیں   والدِ گرامی، جناب سعید بدر صاحب، ان دنوں واپڈا کے ایڈیٹر  خبرنامہ و برقاب تھے سامنے شاہ دین بلڈنگ میں، ایڈورٹائزنگ کمپنی کمرشل سروسز اینڈ پبلسٹی کے مالک تھے۔ ہم دونوں بہن بھائیوں کو وہ اکثر واپڈا ہاؤس میں فنکشنز میں لے جاتے اور عظیم شخصیات سے ملنے کا موقع ملتا۔ یہ وہ دور ہے جب واپڈا واقعی واپڈا تھا۔ پاکستان کے  چند ایک بڑے ادارے تھے، ان میں ایک واپڈا بھی تھا۔ واپڈا آڈیٹوریم میں مہینے میں ایک مرتبہ دنیا کی بہترین فلمیں دکھانے کا بھی اہتمام ہوتا۔ تمام فیملی، میری والدہ اور چھوٹی بہن، ہم سب وہاں جاتے۔ مجھے یاد ہے کہ واپڈا کی چھت پر جا کر پورا لاہور  دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا۔ اس وقت لاہور میں بہت زیادہ  بلند و بالا عمارتیں نہیں تھیں۔ سامنے سمٹ مینار تھا، شاہ دین بلڈنگ تھی اور باقی لاہور، بس روشنیاں نظر آتی تھیں۔ ابو کے پاس ان دنوں سفید رنگ کی ٹویوٹا گاڑی تھی۔اکثر میں اور بہن  ابو کے ڈرائی...

انسان: جبلت، تہذیب اور استحصال,زابر سعید بدر

Image
انسان: جبلت، تہذیب اور استحصال ذیلی سطر: مشرق و مغرب کے فریم ورک سے آگے ایک علمی و فکری بحث   ڈاکٹر زابر سعید بدر  آج فیس بک پر ایک صاحبِ مطالعہ شخص کی ایک طویل تحریر  نظر سے گزری۔ تحریر کا بنیادی تھیسس یہ تھا کہ مدارس میں جنسی بے اعتدالی اور بعض دوسرے انحرافات کے پسِ پشت بنیادی عامل ’’جنسی گھٹن‘‘ اور طویل محرومی ہے۔ مصنف نے یہ مؤقف بھی پیش کیا کہ جب انسانی جذبات، خواہشات اور اظہار کو مسلسل دبایا جائے تو وہ کسی نہ کسی صورت میں پھٹ کر سامنے آتے ہیں۔ یہ ایک قابلِ غور نکتہ ہے، لیکن اس کا ایک اہم antithesis بھی سامنے آتا ہے۔ اگر جنسی گھٹن ہی جنسی استحصال کی بنیادی وجہ ہے تو پھر یورپ اور دوسرے نسبتاً آزاد معاشروں میں بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ وہاں بھی اساتذہ، تعلیمی اداروں کے کارکنوں، مذہبی شخصیات، کوچز اور دوسرے بااختیار افراد کی طرف سے بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ برطانیہ کی Independent Inquiry into Child Sexual Abuse نے اسکولوں میں ایسے واقعات کی تفصیلی تحقیقات کیں، جبکہ WHO اور دیگر عالمی ادارے بھی مختلف معاشروں میں بچوں کے خلاف جنسی ت...

انسان تہذیب یافتہ درندہ, کانٹ سے عصر حاضر تک, زابر سعید بدر

Image
  انسان: تہذیب یافتہ درندہ؟ صاحب زادہ زابر سعید بدر   دنیا کے اسٹیج پر انسان نے جو کردار ادا کیا ہے، اسے دیکھ کر کبھی کبھی حیرت سے زیادہ کراہت محسوس ہوتی ہے۔ کہیں کہیں افراد نے عقل و فراست، ایثار اور انسان دوستی کا شاندار مظاہرہ بھی کیا، لیکن انسانی تاریخ کا مجموعی منظرنامہ دیکھیں تو اس میں حماقت، طفلانہ خود پسندی، حرص، اقتدار کی ہوس، بدکاری، ظلم اور تخریب پسندی کے رنگ بھی بہت گہرے دکھائی دیتے ہیں۔ تقریباً ڈھائی سو سال پہلے جرمن فلسفی امانوئل کانٹ نے انسانی تاریخ کے اسی تضاد کو محسوس کرتے ہوئے ایک بنیادی سوال اٹھایا تھا۔ W. H. Walsh نے اپنی کتاب An Introduction to the Philosophy of History میں کانٹ کے الفاظ نقل کیے ہیں: “One cannot avoid a certain feeling of disgust, when one observes the actions of man displayed on the great stage of the world. Wisdom is manifested by individuals here and there; but the web of human history as a whole appears to be woven from folly and childish vanity, often, too, from puerile wickedness and love of destruction.” یعنی دنیا کے عظیم اسٹی...

ابلاغ عامہ میں تحقیق کی اہمیت | صاحب زابر سعید بدر

Image
 ابلاغ عامہ میں تحقیق کی اہمیت صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر ابلاغی تحقیق کے طریقۂ کار میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران غیر معمولی تبدیلی آئی ہے۔ یہ تبدیلی محض تحقیق کے طریقوں تک محدود نہیں بلکہ خود ابلاغ کی ماہیت اور انسانی زندگی میں اس کے کردار کے بارے میں بدلتے ہوئے تصورات سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔ پہلے ابلاغی تحقیق میں چند مخصوص طریقوں کو بنیادی حیثیت حاصل تھی، خصوصاً انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں تجرباتی طریقۂ کار پر تقریباً مکمل انحصار کیا جاتا تھا۔ محققین انسانی ابلاغ کو سمجھنے کے لیے زیادہ تر ایسے تجربات پر توجہ دیتے تھے جن میں مخصوص حالات پیدا کرکے انسانی رویوں اور ابلاغی عمل کا مشاہدہ کیا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ احساس مضبوط ہوا کہ انسانی ابلاغ کو صرف تجربہ گاہ کے محدود ماحول میں سمجھنا ممکن نہیں۔ ابلاغ انسانی زندگی کا روزمرہ اور مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں، اپنے معاملات طے کرتے ہیں، تعلقات قائم کرتے ہیں، اپنے خیالات اور احساسات کا اظہار کرتے ہیں اور باہمی تعامل کے ذریعے اپنے مستقبل کی صورت گری کرتے ہیں۔ اس لیے ابلاغ کو سمجھنے ک...

ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے تعلیم سے محروم ہیں: ایک لمحۂ فکریہ,زابر سعید بدر

Image
ا  ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے تعلیم سے محروم    ایک لمحۂ فکریہ صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف داخلی سلامتی کے مسائل، دہشت گردی، انتہا پسندی، سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور عالمی سطح پر تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست ہمارے سامنے چیلنج بن کر کھڑی ہے، جبکہ دوسری طرف ایک ایسا خاموش بحران بھی موجود ہے جو ان تمام مسائل سے زیادہ سنگین ہے، مگر افسوس کہ اسے وہ توجہ کبھی نہیں ملی جس کا وہ حق دار تھا۔ یہ بحران پاکستان کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ (25.1 ملین) ایسے بچوں کا ہے جو آج بھی اسکول سے باہر ہیں۔ یونیسف کے مطابق یہ دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی سب سے بڑی آبادیوں میں سے ایک ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ جو بچے اسکول جاتے بھی ہیں، ان کی بڑی تعداد مطلوبہ تعلیمی معیار، تنقیدی سوچ (Critical Thinking)، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تخلیقی ذہن اور تجزیاتی فہم سے محروم رہ جاتی ہے۔ گویا ہمارا بحران صرف Out-of-School Children کا نہیں بلکہ Out-of-Learning Children کا بھی ہے۔ تعلیم کے میدان میں معروف ماہرِ تعلیم، سابق ...