Posts

تشکیل شدہ فکری الگورتھم اور استاد | زابر سعید بدر | سنڈے کالم

Image
 سنڈے کالم |  زابر سعیدبدر تشکیل شدہ فکری الگورتھم اور استاد   استاد کسی بھی معاشرے کا سب سے اہم شخص ہوتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ اپنی زوال پذیری کے باعث استاد کو وہ مقام اور اختیار نہ دے سکے جس کا وہ حق دار ہے، یا استاد خود بھی اسی زوال پذیر نظام کا حصہ بن جانے کے باعث اپنے دائرۂ اثر اور اپنے منصب کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہو جائے تو یہ بھی ایک بڑی بدقسمتی ہے۔ کیونکہ استاد صرف ایک شخص نہیں ہوتا، وہ آنے والی نسل کے ذہن کی تشکیل کرنے والا انسان ہوتا ہے، اور ذہنوں کی تشکیل دراصل معاشروں کی تشکیل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنے گرد ایک ایسا پیچیدہ الگورتھم بنا لیا ہے جس میں ہم جو بتاتے ہیں، لوگ وہی سوچیں، جو دکھاتے ہیں، لوگ وہی دیکھیں، جو پڑھاتے ہیں، لوگ وہی پڑھیں اور جو سکھاتے ہیں، لوگ وہی سیکھیں۔ ہم ہر وقت لاکھوں کروڑوں الفاظ، تصاویر، آوازوں اور پیغامات کے درمیان رہتے ہیں۔ یہی مواد ہماری سوچوں کی بنیاد بنتا ہے۔ مختلف ایجنڈا سیٹنگ کے مقاصد کے تحت خیالات کو تشکیل دیا جاتا ہے، ترجیحات متعین کی جاتی ہیں اور پھر ایک پورے معاشرے کے ذہنی رویوں میں بتدریج تبدیلی پیدا کی جاتی ہے...

لڑکپن کی ایک فون کال | نوے کا لاہوری منظر نامہ | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image

شاہ دین بلڈنگ لاہور اور میرا بچپن | زابر سعید بدر

Image
  شاہ دین بلڈنگ اور میرے والد سعید بدر صاحبزادہ زابر سعید بدر کی لاہور سے جڑی بچپن کی یادیں شاہ دین بلڈنگ .... میاں فیملی آف باغبان پورہ کے جسٹس میاں محمد شاہ دین ہمایوں کی 1914 میں تعمیر کردہ..... بعد ازاں ان کے پوتے میاں منظر بشیر نے بی سی سی آئی کو پیچ دی.... اور آغا حسن عابدی کے زوال کے بعد الفلاح بنک کے پاس آئی..... ابا جی سعید بدر صاحب کا دفتر بھی یہیں تھا پہلا کمرہ انہی کا تھا.... یہ دفتر کسی زمانے میں میاں بشیر احمد صاحب مدیر یمایوں کا تھا جو بعد ازیں ابا جی کے پاس آ گیا.... ذوقی انکل کی شاپ نظر آ رہی ہے ابو کے پاس اکثر آتے تھے..... ابھی ہمارے ایک دوست نے یہ تصویر لگا کر پوچھا کہ لاہوریو یہ کون سی جگہ ہے ما سوائے ایک دوست کے سب نے غلط جواب دیا تو میرا جی چاہا کہ میں تصحیح کر دوں کیونکہ میری اس جگہ سے بچپن کی بہت یادیں ہیں بہت وقت شاہ دین بلڈنگ میں گزرا ہے سامنے ومٹو والے کی سبز رنگ کی گاڑی کھڑی ہوتی تھی جس میں وہ ومٹو اور اورنج جوس دیا کرتا جو میں اکثر ملا کر پیتا ذرا آگے فیروز سنز ہوا کرتا جس میں اکثر جا کر میں کتابیں لیتا وہاں انکل سعید لخت ہوا کرتے کبھی ڈاکٹر عبدا...

المنظر 32 لارنس روڈ لاہور کی یادیں | زابر سعید بدر

Image
 المنظر لاہور میں لی جانے والی اس تاریخی تصویر میں ال انڈیا  مسلم لیگ کے بانیان میں سے ایک جسٹس میاں محمد شاہدین کے صاحبزادے میاں بشیر احمد (ایڈیٹر ہمایوں) سر میاں محمد شفیع جنہوں نے مسلم لیگ کا نام تجویز کیا کی صاحب زادی بیگم گیتی ارا بشیر احمد جو میاں بشیر احمد کی اہلیہ ہیں.  میاں منظر بشیر جن کے دادا جسٹس میاں محمد شاہدین صاحب ہمایوں ہیں جن پہ علامہ اقبال نے نظم لکھی[ اے ہمایوں] اور ان کے نانا سر میاں محمد شفیع جن کے ذکر کے بغیر تحریک پاکستان ہی مکمل نہیں ہوتی بیگم گیتی ارا کی بڑی بہن بیگم جہاں ارا شاہنواز جن کا ذکر کیے بغیر پاکستان موومنٹ میں خواتین کا کردار مکمل نہیں ہوتا اور میرے والد گرامی جناب سعید بدر صاحب دائیں طرف پہلے تشریف فرما ہیں.

فطرت سے لڑتی قوم | بے ترتیب زندگی, بڑھتی بیماریاں | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 فطرت سے لڑتی قوم  بےترتیب زندگی | بڑھتی بیماریاں صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر   ہمارے معاشرے میں بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ صرف ہسپتالوں، ڈاکٹروں یا علاج کی سہولتوں کا مسئلہ نہیں۔ اس کے پیچھے ہماری خوراک، نیند، جسمانی سرگرمی، ذہنی دباؤ، کھانے کے اوقات، وزن، تمباکو نوشی، ماحولیاتی عوامل اور مجموعی طرزِ زندگی کا بہت بڑا کردار ہے۔ موروثی اور جینیاتی عوامل بھی اہم ہیں؛ بعض بیماریوں کا رجحان نسل در نسل منتقل ہوتا ہے، لیکن جینیاتی استعداد کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری لازماً پیدا ہو گی۔ بہت سے معاملات میں ہمارا طرزِ زندگی اس استعداد کو بیماری میں تبدیل کرنے یا اسے برسوں تک خاموش رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آج ہمارے شہروں میں رات دیر تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ رات کے دو، تین بجے بھی چائے کے ہوٹل آباد ہیں، کھانے پینے کی دکانوں پر رش ہے، نوجوان سڑک کنارے بیٹھے ہیں، کہیں تاش ہو رہی ہے، کہیں کھیل کے نام پر وقت گزر رہا ہے، کہیں موبائل فون ہاتھ میں ہے اور کہیں محض گپ شپ جاری ہے۔ لاہور کی گوالمنڈی سے گلبرگ تک اور دوسرے بڑے شہروں کی مختلف مارکیٹوں تک رات گئے تک زندگی جا...

The Cost of Never Saying ‘Well Done’ | Zabir Saeed Badar

Image
  The Cost of Never Saying ‘Well Done’ Zabir Saeed Badar A strange and regrettable tradition has taken root in Pakistan’s political and social history. Instead of praising those who do the work, we pull their legs. Instead of giving credit for performance, we subject them to baseless criticism. The current noise over the Punjab government’s use of aircraft and the Chief Minister’s visit to London is a case in point. Setting aside the question of what is right or wrong, a basic question arises: is the use of official resources or protocol happening for the first time in this country? Power and protocol have a long history here. Whoever comes to power makes grand claims about turning Governor Houses into universities and adopting a simple lifestyle. In practice it is never that easy. Serious security concerns and the practical demands of running the state keep those in office within a certain circle. The real question is whether we will keep arguing only about formalities, or whether...

ہماری قومی خود غرضی, کارکردگی اور تنقید کا المیہ | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  ہماری قومی خود غرضی، کارکردگی اور تنقید کا المیہ صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر   پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ایک عجیب اور افسوسناک روایت قائم ہو چکی ہے، کام کرنے والوں کو سراہنے کے بجائے ان کی ٹانگیں کھینچنا اور کارکردگی کی بنیاد پر داد دینے کے بجائے بلا جواز تنقید کا نشانہ بنانا۔ آج کل پنجاب حکومت کے طیارے کے استعمال اور وزیراعلیٰ کے دورۂ لندن کو لے کر جو شور مچایا جا رہا ہے، اس سے قطع نظر کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک میں سرکاری وسائل یا پروٹوکول کا استعمال پہلی بار ہوا ہے؟ ہمارے ملک میں اقتدار اور پروٹوکول کا ایک طویل سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ جو بھی اقتدار میں آتا ہے، وہ بلند و بانگ دعوے کرتا ہے کہ ہم گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیوں میں بدل دیں گے اور سادہ زیست اختیار کریں گے، مگر عملی طور پر یہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔ سیکیورٹی کے شدید مسائل اور ریاست کے انتظامی تقاضے حکمرانوں کو ایک خاص دائرہ کار میں محدود کر دیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف ان رسمی باتوں پر ہی الجھتے رہیں گے یا یہ بھی دیکھیں گے کہ کون ڈیلیور کر رہا ہے؟ اگ...