تشکیل شدہ فکری الگورتھم اور استاد | زابر سعید بدر | سنڈے کالم
سنڈے کالم | زابر سعیدبدر تشکیل شدہ فکری الگورتھم اور استاد استاد کسی بھی معاشرے کا سب سے اہم شخص ہوتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ اپنی زوال پذیری کے باعث استاد کو وہ مقام اور اختیار نہ دے سکے جس کا وہ حق دار ہے، یا استاد خود بھی اسی زوال پذیر نظام کا حصہ بن جانے کے باعث اپنے دائرۂ اثر اور اپنے منصب کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہو جائے تو یہ بھی ایک بڑی بدقسمتی ہے۔ کیونکہ استاد صرف ایک شخص نہیں ہوتا، وہ آنے والی نسل کے ذہن کی تشکیل کرنے والا انسان ہوتا ہے، اور ذہنوں کی تشکیل دراصل معاشروں کی تشکیل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنے گرد ایک ایسا پیچیدہ الگورتھم بنا لیا ہے جس میں ہم جو بتاتے ہیں، لوگ وہی سوچیں، جو دکھاتے ہیں، لوگ وہی دیکھیں، جو پڑھاتے ہیں، لوگ وہی پڑھیں اور جو سکھاتے ہیں، لوگ وہی سیکھیں۔ ہم ہر وقت لاکھوں کروڑوں الفاظ، تصاویر، آوازوں اور پیغامات کے درمیان رہتے ہیں۔ یہی مواد ہماری سوچوں کی بنیاد بنتا ہے۔ مختلف ایجنڈا سیٹنگ کے مقاصد کے تحت خیالات کو تشکیل دیا جاتا ہے، ترجیحات متعین کی جاتی ہیں اور پھر ایک پورے معاشرے کے ذہنی رویوں میں بتدریج تبدیلی پیدا کی جاتی ہے...