2026...کیا ہونے جا رہا ہے... صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
نیا سال 2026 .....کیا ہونے جا رہا
ایک جائزہ
صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر
میرے زیرِ مطالعہ اس وقت The Economist – The World Ahead 2026 کا تازہ شمارہ ہے۔ اس میں ایڈیٹر نے جو آئندہ سال کے بارے میں پیش گوئیاں کی ہیں، وہ نہ صرف چونکانے والی ہیں بلکہ سوچ کے کئی نئے در وا کرتی ہیں۔ پورا شمارہ اپنی جگہ قابلِ مطالعہ ہے، مگر ایڈیٹر کا مقالہ افتتاحیہ —یعنی اداریہ—خاص طور پر دل کو پکڑ لیتا ہے۔ اسی اداریے کے چند اہم نکات، چند نمایاں زاویے، میں یہاں آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں؛ وہ نکات جو آنے والے سال کے خدوخال کو ایک نئی روشنی میں دکھاتے ہیں۔
ایڈیٹر سب سے پہلے یہ تاثر دیتا ہے کہ دنیا ایک بار پھر طاقتوں کی سرد کشمکش کی طرف لوٹ رہی ہے، مگر یہ سرد جنگ پرانی نہیں، نئی ہے,جہاں نظریات کی جگہ سیمی کنڈکٹرز، ہتھیاروں کی جگہ الگورتھمز، اور جاسوسی کی جگہ ڈیٹا نے لے لی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی اب محض سفارتی بدگمانی نہیں، ایک مکمل حکمتِ عملی ہے جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کی تکنیکی برتری کو روکنے پر اُتر آئے ہیں۔ اور یہ کشمکش 2026 میں مزید تیز ہونے والی ہے۔
ایڈیٹر لکھتا ہے کہ “یہ ٹرمپ کی دنیا ہے”ایک ایسی دنیا جہاں پالیسی محض فیصلہ نہیں رہتی، جذبات، ردِعمل اور کبھی کبھی محض ذاتی انا کا مظہر بن جاتی ہے۔ ٹرمپ کی حکومت میں یہ بات بارہا دیکھی گئی کہ بعض اوقات “کچھ نہ کرنا” بھی ایک بھرپور فیصلہ ہوتا ہے۔ وہی کیفیت آنے والے سال پر بھی سایہ فگن ہوسکتی ہے: وہ فیصلے جو لیے جائیں گے، اور وہ بھی جو محض تاخیر کا شکار رہیں گے، دونوں عالمی منظرنامے کو غیر معمولی حد تک متاثر کریں گے۔
امریکی سیاست میں بڑھتی داخلی تقسیم بھی ایک اہم پوائنٹ کے طور پر سامنے آتی ہے۔ نسلی کھچاؤ، امیگریشن کا بحران، مہنگائی کا دباؤ، اور سیاسی انتہاپسندی,یہ سب امریکہ کو اندر سے کمزور کر رہے ہیں۔ جب ایک ملک اندرونی طور پر منتشر ہو جائے تو عالمی سطح پر اس کے قدم خود بخود ڈگمگا جاتے ہیں۔ اور یہی وہ خلا ہے جسے چین بڑی خاموشی سے بھر رہا ہے۔
چین کی صورتحال بھی دلچسپ ہے,ڈوبتی نہیں، مگر الجھتی ہوئی۔ معیشت کا دباؤ، نوجوانوں کی بے روزگاری، اندرونی بے چینی… لیکن اس کے باوجود اس کا عالمی اعتماد کم نہیں ہوا۔ وہ افریقہ سے مشرقِ وسطیٰ تک اپنا اثر جما رہا ہے، نئے اتحاد بنا رہا ہے، اور امریکی غفلت کے ہر موقع کو ایک نئی پیش قدمی میں بدل رہا ہے۔
اداریہ مصنوعی ذہانت کو ایک نئی قسم کی سلطنت کہتا
ہے,ایسی سلطنت جو سرحدوں کی قیدی نہیں، مگر تمام ریاستوں کو اپنے اندر قید کر سکتی ہے۔ AI کی دوڑ اب محض ٹیکنالوجی نہیں، غلبے کی جنگ بن گئی ہے۔ وہ قومیں جو ڈیٹا کو سنبھال لیں گی، وہ آنے والے برس میں طاقت کا نیا معیار طے کریں گی۔ اور جو پیچھے رہ گئیں، وہ خواہ سیاسی طور پر مضبوط ہوں، ٹیکنالوجی کے میدان میں محکوم رہیں گی۔
دنیا کی معیشت بھی اسی کشمکش کے سائے میں داخل ہو رہی ہے۔ ڈالر کا ممکنہ متبادل، نئی تجارتی راہیں، توانائی کی سیاست، اور خطوں میں اٹھتے نئے اقتصادی بلاکس,یہ سب آنے والے سال میں مزید واضح ہونے لگیں گے۔ دنیا اب دو حصوں میں نہیں، دو سوچوں میں تقسیم ہے:
ایک وہ سوچ جو کھلی منڈی، آزادی اور گلوبلائزیشن پر یقین رکھتی ہے؛
اور دوسری وہ سوچ جو ریاستی کنٹرول، نگرانی اور بند سرحدوں میں مستقبل تلاش کرتی ہے۔
یوں لگتا ہے کہ 2026 شاید کسی بڑی جنگ، بڑی ایجادات یا بڑے دھماکے کا سال نہ ہو,لیکن یہ وہ سال ضرور ہوگا جس میں طاقت کے پلڑے خاموشی سے بدلیں گے۔ دنیا شاید شور نہیں کرے گی، مگر اندر ہی اندر تبدیل ہو جائے گی۔ اور یہی وہ تبدیلی ہے جسے محسوس کرنا، سمجھنا اور لکھ رکھنا سب سے ضروری ہے۔

Comments