جب بدکردار یحییٰ خان نے صلح کا موقع ضائع کر دیا... زابر سعید بدر
جب بدکردار یحییٰ خان نے صلح کا موقع ضائع کر دیا...
~~~~~
زابرسعید_انسٹیٹیوٹ_آف_میڈیا_اسٹڈیز
~~~~~
شاہ ایران نے ایران میں شہنشاہیت کے دو ہزار سالہ جشن کے دوران خاص ذاتی کاوش سے روسی لیڈر پڈگورنی PODGORNY اور یحییٰ خان کی ملاقات کا اہتمام کیا۔ مقصد اس ملاقات کرانے کا یہ تھا کہ یحییٰ خان کی روس کے ساتھ بلا وجہ تلخ کلامی سے جو بد مزگی پیدا ہو چکی ہے اس کا مدافع کیا جائے تاکہ مشرقی پاکستان کے مسئلے میں روس کی حمایت حاصل ہو سکے ۔
شاہ ایران نے کلکتہ میں مقیم عوامی لیگ لیڈروں خصوصا تاج الدین گروپ سے بھی رابطہ کیا کہ اگر پڈ گورنی کی ملاقات کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے تو ان کو ایران لے آیا جائے اور یحییٰ خان سے براہ راست مذاکرات کی تجدید ہو سکے۔
پڈگورنی سے ملاقات کا وقت صبح ساڑھے دس بجے کار کھا گیا تا کہ یحیی خان علی الصبح شراب کے نشے میں نہ ہو ۔
لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا اور اس ذات شریف کو سہارا دے کر روسی لیڈر کے خیمے تک لے جانا پڑا۔
پڈ گورنی نے اس کے استقبال میں اسے مسٹر پریذیڈنٹ کہہ کر خطاب کیا۔ یحیی خان نے کہا ” ایکسی لینسی
EXCELLENCY
آپ تو میرا ذ کر ہمیشہ مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر کہہ کر کرتے ہیں آج مسٹر پریذیڈنٹ کیسے کہہ دیا ؟
اس پر بڈگورنی نے بدستور خوشگوار لہجہ میں کہا ایکسی لینسی, آپ پریذیڈنٹ ہیں اس لئے آپ کو پریذیڈنٹ کہا.
یحییٰ نے اپنا ہاتھ سینے پر رکھا اور کہا یہاں سے کہو ( یعنی دل سے ) پھر ہاتھ گلے پر لے گیا اور کہا یہاں سے نہیں ( یعنی حلق سے )
پڈ گورنی نے اس طرز کلام کو ہتک آمیز سمجھا اور بغیر ایک لفظ کے خیمے سے باہر چلا گیا۔
چنانچہ یہ تاریخ ساز ملاقات اس طرح ختم ہوئی ۔ وزارت خارجہ کے افسران جو ہمراہ تھے سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
اس واقعے کے کچھ دن بعد ہی روس اور ہندوستان میں باہمی فوجی امداد کا معاہدہ ہو گیا اور اس کے بعد مشرقی پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسے نہیں معلوم
ایم اے کے چوہدری کی کتاب سے

Comments