پاکستان اب برمنگھم کو صفائی کرنا سکھائے گا, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
پاکستان اب برمنگھم کو سکھائے گا کہ کوڑا کیسے صاف کرنا ہے
~~~~~~~~~
زابرسعید_انسٹیٹیوٹ_آف_میڈیا_اسٹڈیز
~~~~~~~~
پنجاب یہاں بھی عزم ہمت اور لگن سے بازی لے گیا
______
پاکستان کے بارے میں ایک مخصوص طبقہ برسوں سے ایک ہی عینک لگا کر بیٹھا ہے—ایسی عینک جس میں ہر اچھی خبر بھی بُری نظر آتی ہے۔ اگر ملک میں کوئی مثبت کام ہو جائے تو یا تو اس پر یقین نہیں کیا جاتا، یا پھر فوراً طنز، تمسخر اور تضحیک کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے۔
یہ رویہ اختلافِ رائے نہیں، بلکہ احساسِ کمتری کی بدترین شکل ہے۔
بی بی سی اردو کی تازہ رپورٹ، جس میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹی کے ماہرین نے برطانیہ کے شہر برمنگھم کو صفائی کے نظام سے متعلق رہنمائی دی، ان تمام مفروضوں کو چیلنج کرتی ہے جن کے مطابق پاکستان “کچھ دینے کے قابل نہیں”۔
یہ خبر کسی سرکاری اشتہار یا دعوے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک معتبر عالمی ادارے کی رپورٹ ہے—اور یہی بات بعض لوگوں کو سب سے زیادہ ناگوار گزرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ برمنگھم جیسے بڑے شہر کو کوڑا اٹھانے والوں کی ہڑتال، اُبلتے کوڑے دانوں اور کمیونٹی نظم و ضبط کے مسائل کا سامنا تھا۔ ایسے میں پنجاب کا ایک سادہ مگر مؤثر ماڈل—جس کی بنیاد کمیونٹی شمولیت، آگاہی، کچرے کی درجہ بندی اور فضلے کو قابلِ استعمال وسائل میں بدلنے پر ہے—وہاں قابلِ توجہ سمجھا گیا۔
یہ رہنمائی ڈیجیٹل رابطوں کے ذریعے دی گئی اور اس کے نتائج عملی سطح پر محسوس کیے گئے۔
مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی، سوشل میڈیا پر وہی پرانی سوچ متحرک ہو گئی۔
ایسے لوگ جنہیں اپنے ذہن کے گند کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا، فوراً متحرک ہو گئے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تعصب کی ایسی عینک لگائے بیٹھے ہیں جس میں صفائی، نظم، محنت اور کامیابی بھی بدنظمی نظر آتی ہے۔
اپنی اندرونی محرومی، ناکامی اور مایوسی کو یہ لوگ دوسروں پر انڈیلنے کی کوشش کرتے ہیں—اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو اس ذہنی کچرے کی ڈمپنگ گراؤنڈ بنا دیتے ہیں۔
یہ رویہ دراصل خود احتسابی سے فرار ہے۔
جب انسان کو خود پر یقین نہ رہے تو وہ اپنے ملک، اپنے اداروں اور اپنے لوگوں پر بھی یقین کھو دیتا ہے۔ پھر اگر کوئی اچھی خبر آ جائے تو وہ اسے قبول کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتا ہے—تاکہ اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈال سکے۔
بی بی سی کی رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ ماحولیاتی اور شہری مسائل کا حل کسی ایک خطے کی میراث نہیں ہوتا۔ دنیا سیکھنے اور سکھانے کا ایک مشترکہ دائرہ ہے، اور اگر پاکستان اس دائرے میں ایک مثبت کردار ادا کر رہا ہے تو اسے ماننا چاہیے، نہ کہ جھٹلانا۔
یہ پیش رفت صرف صفائی کے نظام تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ذہنی تبدیلی کی علامت ہے—کہ پاکستان اب تجربات، ماڈلز اور حل دنیا کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔
جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، دراصل وہ پاکستان سے نہیں، اپنی ہی سوچ کی تنگی سے لڑ رہے ہیں۔
~~~~~~~
شکریہ: بی بی سی اردو
یہ ادارتی نوٹ مفادِ عامہ اور طالب علموں کی راہنمائی کے لیے
زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز
کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔


Comments