کیا پاکستان اتنا ہی ناکام ہے جتنا آپ سمجھتے ہیں, زابر سعید بدر
کیا پاکستان اتنا ہی ناکام ہے جتنا آپ سمجھتے ہیں--------
ایک جائزہ
#صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر
دنیا کے ہر معاشرے میں لوگ اپنے ملک کے بارے میں شکایت ضرور کرتے ہیں۔ کبھی وہ حکمرانوں کو برا کہتے ہیں، کبھی نظام پر انگلی اٹھاتے ہیں، کبھی میڈیا کی آزادی پر سوال کرتے ہیں، اور کبھی کہتے ہیں کہ جمہوریت کمزور ہے یا انسانی حقوق نظرانداز ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسی گفتگو عام ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ احساسِ مایوسی صرف ہمارا مسئلہ نہیں۔ دنیا کے تقریباً دو سو ممالک میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جہاں کے لوگ اپنی ریاست سے مطمئن ہوں۔ گلے شکوے انسانی تاریخ اور سماجی فطرت کا حصہ ہیں۔
جنوبی ایشیا کا جائزہ لیں تو ہم اکیلے نہیں کھڑے۔ بھارت جیسی بڑی جمہوریت میں لوگ آئے دن کہتے ہیں کہ میڈیا آزاد نہیں، حکومت آمرانہ ہوتی جا رہی ہے، اقلیتیں غیر محفوظ ہیں اور عدلیہ دباؤ میں ہے۔ بنگلہ دیش میں اپوزیشن کی آواز دبنے کی شکایت ہوتی ہے۔ سری لنکا اور نیپال میں کرپشن اور سیاسی خاندانوں کا اثر موضوعِ بحث رہتا ہے۔ یہ سب کچھ کچھ نہ کچھ ہمارے جیسا ہے، بلکہ بعض پہلوؤں سے زیادہ شدید ہے۔
اگر آپ چین کا رخ کریں تو وہاں دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت ہونے کے باوجود ایک پارٹی سسٹم، سنسرشپ، اور محدود سیاسی آزادی پر لوگ تنقید کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں عرب ریاستوں میں کوئی ووٹ کا نظام نہیں، میڈیا سرکاری کنٹرول میں ہے، اور عوامی حقوق محدود ہیں۔ ایران میں نوجوان نسل مسلسل احتجاج کرتی ہے کہ ریاست ان کی آزادیوں پر قدغن لگاتی ہے۔ مصر میں فوجی اثر و رسوخ پر عوام برسوں سے سوال اٹھا رہے ہیں۔
افریقہ تو شاید سب سے بڑی مثال ہے جہاں بغاوتیں، فوجی حکومتیں، مہنگائی اور بدعنوانی روزمرہ کی بحثیں ہیں۔ نائیجیریا ہو یا سوڈان، یوگنڈا ہو یا کینیا—لوگوں کے گلے شکوے ہمارے جیسے ہی ہیں۔ اسی طرح لاطینی امریکہ میں بھی یہی کہانیاں ملتی ہیں: برازیل، ارجنٹینا، چلی اور پیرو میں عوام آئے دن حکومت کے خلاف سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔
یہاں تک کہ جن ترقی یافتہ ملکوں کو ہم مثالی سمجھتے ہیں، وہاں بھی لوگ اپنے سسٹم کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ امریکہ میں “ڈیپ اسٹیٹ” کا بیانیہ عام ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اصل طاقت چند بڑی کارپوریشنوں اور اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔ پولیس بربریت، مہنگائی اور سیاسی تقسیم کے باعث مایوسی پھیل رہی ہے۔ برطانیہ میں مہنگائی، صحت کے نظام کی خرابی اور ناکام سیاسی قیادت پر روز شکایات ہوتی ہیں۔ فرانس میں ہر دوسرے سال بڑے احتجاج ہوتے ہیں اور لوگ حکومت کو آمرانہ کہہ دیتے ہیں۔ یورپ کے کئی ممالک یوکرین جنگ میں الجھنے پر اپنی قیادت سے ناراض ہیں۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ گلے شکوے کا اصل ماخذ کیا ہے؟ اس کے تین بڑے اسباب ہیں۔
پہلا، انسان کی توقعات ہمیشہ نظام سے بلند ہوتی ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ مسائل فوراً حل ہوں، حالانکہ ریاستی مشینری ہمیشہ آہستہ چلتی ہے۔
دوسرا، آج کے دور میں جمہوریت ہر جگہ دباؤ میں ہے۔ سوشل میڈیا، کارپوریٹ طاقت، پولرائزیشن اور ادارہ جاتی رسہ کشی نے ہر ملک میں بے چینی بڑھا دی ہے۔
تیسرا، انسانی فطرت شکایت سے بنی ہے۔ انسان بہتری چاہتا ہے مگر مایوسی جلد اس کا دامن پکڑ لیتی ہے۔
اس سچائی کو سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان کے مسائل حقیقی ضرور ہیں، مگر منفرد نہیں۔ جو کچھ ہم کہتے ہیں، یہی باتیں بھارت میں ہوتی ہیں، بنگلہ دیش میں ہوتی ہیں، افریقہ میں ہوتی ہیں، لاطینی امریکہ میں ہوتی ہیں، اور یورپ و امریکہ میں بھی ہوتی ہیں۔ ہم دنیا کے اس بڑے انسانی قافلے کا حصہ ہیں جو شکایت بھی کرتا ہے، تنقید بھی، اور پھر آگے بڑھنے کی کوشش بھی۔
لہٰذا اپنے ملک کو برا کہنا چھوڑ دیں۔ تنقید ضرور کریں، غلطیوں کی نشاندہی بھی، مگر اپنے وطن کو دوسرے ممالک کے تناظر میں رکھ کر دیکھیں۔ ہر جگہ خامیاں ہیں، ہر نظام ادھورا ہے، ہر ریاست میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے۔ ہمیں بھی اپنی اصلاح کرنی ہے، مگر خود کو کمتر سمجھنے کی ضرورت نہیں۔
پاکستان ناکام ملک نہیں—بس ہمارے خواب بڑے ہیں اور حالات پیچیدہ۔ مگر امید اور عمل ہی قوموں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ دنیا کے گِلے شکویوں کی کہانی پڑھ کر صرف ایک سبق ملتا ہے: مایوسی عالمی ہے، مگر ترقی اُن قوموں کی ہوتی ہے جو اپنے ملک سے مایوس نہیں ہوتیں۔

Comments