وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ,صاحب زادہ زابر سعید بدر
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
""""""""""""""""""""""""""""""""""
#صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر
دنیا بھر میں خواتین کو جن مشکلات کا سامنا ہے اور ان کے حقوق کی جس انداز میں خلاف ورزی ہو رہی ہے اس سے انکار ممکن نہیں،اقوام متحدہ کی مختلف عالمی کانفرنسوں میں خواتین کے مسائل کے حل، ترقی کی دوڑ میں ان کیلئے مواقع پیدا کرنے اور خاص طور پر تشدد کے بڑھتے ہوئے جس رجحان کا انہیں سامنا ہے اس پر بہت مرتبہ سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اس سے اتفاق کرتے ہوئے ان کے حل کی سفارشات کی بھی کی گئی ہیں۔
عورت کی ترقی کے بغیر دنیا کی ترقی کا تصور ہی ناممکن ہے اور دنیا کو معاشی مسائل سے نکالنے کیلئے دنیا کی آدھی آبادی کے کردار کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟جنسی تشدد کے خلاف سخت قوانین کا نفاذ بھی ضراوری ہے، امریکا میں بھی خواتین کے حقوق کیلئے بات کرنے والوں کو بعض حلقوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
خاص طور پر خواتین کے خلاف بعض امتیازی قوانین ختم کرنے کی بات ہوتی ہے تو کئی سینیٹرز ایسا کرنے سے منع کرتے ہیں، حالیہ امریکی انتخابات میں ہیلری کی شکست میں ایک وجہ ان کا خاتون ہونا بھی قرار دیا جا رہا ہے، امریکی 2016ء میں ایک عورت کا صدر بننا برداشت نہیں کر سکے لیکن ہم نے 1988ء میں محترمہ بینظیرکو عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنا دیا پھر بھی ہم پر صنفی امتیاز برتنے کا الزام ہے۔
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
انہی ہیلری کلنٹن نے یو این او کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خواتین کے حقوق پر تقریر کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کو ماضی کے مقابلہ میں بہت تیز قرار دیا، انہوں نے کہا کہ میں نے 1995ء میں بیجنگ میں خواتین کی چوتھی عالمی کانفرنس میں بھی شرکت کی تھی، اس کے بعد سے خواتین کے بارے میں حالات بہت بہتر ہو چکے ہیں۔
مختلف ممالک میں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر میں اضافہ کر دیا گیا ہے، بعض ممالک میں خواتین پر تشدد کو جرم قرار دے دیا گیا ہے اور خواتین کے نازک حصوں کی غیر قانونی سرجری پر پابندی لگا دی گئی ہے، اب بین الاقوامی جنگی عدالتوں نے بھی خواتین کی بے حرمتی کو جرم قرار دے دیا ہے،خواتین کو بینک قرضے اور کارڈ دینے لگے ہیں، وہ اپنی جائیداد بنا رہی ہیں، مگر ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
اب بھی دنیا بھر میں لاکھوں لڑکیوں کو اسکول جانے کا موقع نہیں ملتا، بہت سے مقامات پر اب بھی خواتین کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں، کارکن خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم اُجرت دی جاتی ہے اور اب بھی بے شمار خواتین زچگی کے دوران مر جاتی ہیں،اب نئی صدی آئی ہے تو اس میں تو خواتین کو مساوی حقوق اور زندگی کی سہولتیں ملنی چاہئیں۔
یہ بات اہم ہے کہ خواتین کے لیے وہ تشدد زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے جو ان کے محبوب ان پر کرتے ہیں، دنیا بھر میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کے حالات زیادہ کٹھن ہیں، یتیم اور بیوہ خواتین کیلئے زندگی عذاب بن جاتی ہے، امریکا میں بھی خواتین مساوی اُجرتوں اور حقوق کے علاوہ اپنے اور اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے مظاہرے کر رہی ہیں۔
اب بھی دنیا بھر میں لڑکی کی پیدائش کو منحوس سمجھا جاتا ہے، جہیز نہ لانے پر لڑکی کو زندہ جلا دیا جاتا ہے، کمسن بچیوں کو کم غذا دی جاتی ہے، بعض اوقات ہلاک کر دیا جاتا ہے، لڑکیوں کو اغواء کیا جاتا ہے، انہیں جنسی غلامی پر مجبور کیا جاتا ہے۔
بھارت میں صورتحال بہت ابتر ہے، دہلی شہر میں دن دہاڑے بسوں میں پارکوں میں خوتین کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعات عام ہیں، دیہاتوں کی بات کیا کرنی ہے جہاں لاکھوں بچیوں کو پیدائش سے پہلے ہی قتل کر دیا جاتا ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ خواتین میں ایڈز کی بیماری کا ہے، یہ بیماری اس وقت تھائی لینڈ، یوگنڈا اور سینی گال کی خواتین میں زیادہ ہے، مگر اس کے انسداد کیلئے حقیقی کوششیں نہیں کی جا رہیں، اس وقت دنیا بھر میں ہر سال بیس لاکھ خواتین کو زبردستی جسم فروشی پر مجبور کر دیا جاتا ہے، ان کی حالت پنجروں میں قید پرندوں جیسی ہے جنہیں رہا کرنے کی ضرورت ہے۔
.................................
نوٹ: یہ آرٹیکل 05 دسمبر 2016 کو #جیونیوزاردو پر شائع ہوا۔ گزشتہ نو سال (2016–2025) میں دنیا میں خواتین کے حقوق، تشدد اور انکے خلاف قوانین کے ماحول میں نمایاں تبدیلیاں آئیں
میں نے مناسب سمجھا کہ اس کو مناسب اپڈیٹ کر دیا جائے
————————————————————————
#پاکستان
تازہ ترین قومی رپورٹ اور غیر سرکاری سروے دکھاتے ہیں کہ جی بی وی (Gender-Based Violence) کی رپورٹس ادائیگی کے حساب سے بلند ہیں؛ 2024 میں مختلف ذرائع کے مطابق پاکستان میں 32,617 کے قریب رپورٹس درج ہوئیں جن میں ریپ، اغواء، گھریلو تشدد اور ’عزت کے نام‘ قتل شامل ہیں۔ حکومت اور سول سوسائٹی دونوں نے تحفظ کے مراکز، ہاٹس لائنز اور صوبائی قوانین پر کام کیا ہے مگر رپورٹنگ، انصاف کی دستیابی اور خدمت رسانی میں واضح خلاء برقرار ہے۔
#بھارت
ڈیٹا (NCRB اور میڈیا رپورٹس) دکھاتے ہیں کہ جرائم برائے خواتین کی شرح بلند رہی ہے — 2019–2023 کے اعداد میں ریپ، اغواء اور خاندانی تشدد کی رپورٹس قابلِ ذکر ہیں۔ قانون سازی (مثلاً کچھ سزاؤں/پالیسیوں کی سختی) ہوئی مگر کنوینشنل مسائل — کم قید/ثبوت، کم کنویکشن ریٹس اور جان پہچان کے مجرموں کی کثرت — برقرار ہیں؛ عوامی احتجاج اور آوازیں 2012 اور بعد کے مشہور واقعات کے بعد مزید شدت اختیار کرتی رہیں۔
#امریکہ (USA)
قومی سرویز (CDC / NISVS) بتاتے ہیں کہ زندگی بھر کے دوران ایک بڑی تعداد خواتین نے جسمانی یا جنسی تشدد یا اسٹاکنگ کا تجربہ کیا ہے؛ انسٹی ٹیوٹِیونل اور مالی اثرات (ہسپتال، ورک لسنس وغیرہ) بھی بہت بڑے ہیں۔ پالیسی سطح پر مختلف ریاستیں اور وفاقی ادارے روک تھام، سرونگ سپورٹ اور مجرموں کے تعاقب پر مختلف پروگرام چلا رہے ہیں۔
#برطانیہ (انگلینڈ، ویلز)
ONS اور دیگر رپورٹس کے مطابق گھریلو تشدد اور جنسی جرائم کی تعداد نمایاں ہے (سالانہ لاکھوں واقعات کا اندازہ اور پولیس میں بڑی تعداد کی شکایات)؛ حالیہ انکوائری رپورٹس پولیس کی کارکردگی اور روک تھام پر تنقید کر رہی ہیں اور عدالتی اصلاحات تجویز کی جارہی ہیں۔ حکومت نے متاثرین کے لیے فنڈنگ اور قانونی اصلاحات پر وعدے کیے ہیں۔
#فرانس
فرانس میں بھی گھریلو تشدد اور femicide کی رپورٹنگ وسیع ہوئی — سرکاری اعداد اور مطالعات نے 2023-24 میں femicide کے واقعات کی نشان دہی کی ہے۔ ریاستی ادارے اور سول سوسائٹی اقدامات کر رہے ہیں مگر متاثرین کی شکایت درج کرنے کی شرح کم رہتی ہے۔
#نیدرلینڈز (Netherlands)
یورپی اداروں کی رپورٹس اور نیشنل اعداد دکھاتے ہیں کہ رشتوں میں تشدد اور femicide کے واقعات موجود ہیں؛ نفاذِ قانون اور تحفظ کے نظام پر توجہ دی جا رہی ہے مگر بجٹ اور پالیسی عمل درآمد میں مزید بہتری درکار ہے۔
#تھائی لینڈ
انسانی حقوق کی رپورٹس اور ملک رپورٹیں بتاتی ہیں کہ SGBV (جنسی و جنسیتی بنیاد پر تشدد) بدستور مسئلہ ہے؛ کچھ قانونی اور سرکاری اقدامات موجود ہیں مگر نفاذ و تحفظ، خصوصاً کمزور گروہوں کے لیے، ناکافی ہیں۔
#چین
2016 کے بعد چین نے گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی کی مگر تازہ جائزوں (HRW اور بین الاقوامی تنقید) میں کہا گیا ہے کہ عملی نفاذ، نوکری/معاشی امتیاز، اور جنسی ہراسانی کے معاملات ابھی اہم رہیں — بعض جگہوں پر تشدد کی رپورٹنگ اور عوامی بحث میں اضافہ ہوا ہے لیکن سسٹمک تبدیلیاں محدود رہی ہیں۔
#ایران
2022 کے بعد "Woman-Life-Freedom" احتجاجات نے خواتین کے حقوق کو عالمی توجہ دی؛ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ نے 2022–2024 کے دوران عملی کریک ڈاؤن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نوٹس دیا — حکومت نے کچھ قوانین سخت کیے اور احتجاج کے بعد صورتِ حال میں جبر جاری رہا۔ انصاف اور احتساب کی فراہمی کمزور رہی ہے۔
فلسطین (غزہ) — مخصوص نوٹ برائے غذا / ہائی جین
جنگی اور انسان دوستانہ بحران کے دوران غزہ میں خوراک، پینے کا پانی، صفائی کی حالت اور مینسٹروئل آئٹمز کی قلت نے خواتین اور لڑکیوں کو طبی، حفظانِ صحت اور جان-بحق خطرات میں ڈالا؛ UN OCHA اور UN Women کی جنڈر-الرٹ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ غذائی قلت نے GBV کے خطرات بڑھا دیے ہیں اور متاثرہ خواتین کو صحتی و حفاظتی خدمات تک رسائی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
افریقی ممالک — مثالیں (جنوبی افریقہ، نائیجیریا وغیرہ)
جنوبی افریقہ: femicide کی شرح دنیا میں اعلیٰ رہتی ہے؛ قومی و بین الاقوامی رپورٹس اور کمیشن برائے جنس برابری نے قوانین، پریکٹسز اور پولیسنگ میں اصلاح کی ضرورت بار بار دہرائی ہے۔
نائیجیریا: دہشت گرد گروہوں (Boko Haram) اور مسلح تنازعات میں خواتین و بچیوں پر جنسی تشدد، اغوا اور جبری شادی کے واقعے دستاویزی ہیں؛ حالیہ رپورٹس میں یہ مسائل واضح کیے گئے اور جنگ زدہ علاقوں میں بچاؤ/ریہیب کے چیلنجز اجاگر ہوئے ہیں۔
#انڈونیشیا
بچوں کی شادی، آن لائن ہراسمنٹ اور انتخابی/سیاسی منظرنامے میں خواتین کے خلاف نفرت انگیز مہمات مقامی سطح پر مسئلہ رہی ہیں؛ حالیہ اصلاحات میں کچھ جرائم کی تعریف نو کی گئی اور کوڈ میں ترامیم زیرِ غور رہی ہیں مگر مکمل تحفظ کیلئے مزید اقدامات درکار ہیں۔
#کینیڈا
حکومتی اعداد و شمار (Statistics Canada) اور وفاقی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ گھریلو تشدد اور طفیلی/انٹیمیٹ پارٹنر وائلنس متاثرین میں خواتین کا تناسب بہت زیادہ ہے؛ ریاستی سطح پر منصوبے، فنانسنگ اور پالیسی پیکجز موجود ہیں مگر نیا ڈیٹا مسلسل نگرانی کا مطالبہ کرتا ہے۔
قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور عالمی سطح پر رجحان
اقوامِ متحدہ، UN Women اور سیکورٹی کونسل/جنرل اسمبلی نے خواتین کے خلاف تشدد کو روکنے کے مختلف رپورٹس، قراردادیں اور سفارشات جاری کیں؛ مثال کے طور پر جنرل اسمبلی کی ایک حالیہ قراردادنے femicide اور خواتین کے خلاف تشدد پر توجہ دلائی (A/RES/79/152) اور UN کی رپورٹس 2023-2024 میں جنگ و بحران میں خواتین کو درپیش مخصوص خطرات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ عالمی سطح پر قانونی فریم ورک مضبوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مگر نفاذ اور حقیقی رسائی میں فرق باقی ہے۔
اس سے ہم یہ نتائج آخذ کر سکتے ہیں
1. بہت سے ممالک میں رپورٹس/شماریہ بتاتے ہیں کہ خواتین کا تناسب GBV کے متاثرین میں بلند ہے؛ متاثرین اکثر اپنے جاننے والوں (شریکِ حیات، رشتہ دار) کی طرف سے تشدد بتاتے ہیں۔
2. تنازعات/جنگی صورتحال (مثلاً غزہ، شمالی نائیجیریا وغیرہ) میں خوراک/سہولتوں کی قلت نے خواتین پر براہِ راست اثر ڈالا اور GBV-risks کو بڑھایا۔
3. قانون سازی اور بین الاقوامی قراردادیں تو موجود ہیں، مگر اصل چیلنج نفاذ، سہولتوں تک رسائی، رپورٹنگ-ثقافت اور متاثرین کو فوری حفاظتی اقدام کروانا ہے۔
>>>>>>>>>>
حوالہ جات
UN Women — National Report on the Status of Women in Pakistan (2023).
Dawn / Sustainable Social Development Organisation — Pakistan GBV اعداد (2024–2025 خلاصہ).
Reuters / NCRB پر مبنی رپورٹس — بھارت میں ریپ و دیگر جرائم (2024–2025 خلاصہ).
CDC / NISVS — امریکہ میں Intimate Partner & Sexual Violence سرویز۔
UN General Assembly — A/RES/79/152 اور UN-sector رپورٹس برائے خاتمِ تشدد۔
UN OCHA / UN Women gender-alerts — Gaza میں خوراک، WASH اور GBV کے اثرات۔
Human Rights Watch / Amnesty / دیگر علاقائی رپورٹس — چین، ایران، جنوبی افریقہ، نائیجیریا وغیرہ کے متعلق مخصوص نوٹس۔
#خواتین #عورتیں #خواتین_کے_حقوق #صنفی_تشدد #گھریلو_تشدد #ریپ_کے_خلاف #عالمی_برابری #Femicide #جنسی_تشدد #UNWomen #تحفظ_براۓ_خواتین #برابری_حقوق #خاندانی_تشدد #عورت_زندگی_آزادی #خواتین_کی_حفاظت

Comments