ہوش اڑانے, دل دہلانے, آنکھیں چندھیا نے, رونگٹے کھڑے کر دینے والے کائناتی راز,زابر سعید بدر


 ہوش اڑانے, دل دہلانے, آنکھیں چندھیا نے, رونگٹے کھڑے کر دینے والے کائناتی راز

°°°°°°

صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر



کائنات ہمیشہ سے انسان کے لیے حیرت، سوال اور اُلجھن کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ رہی ہے۔ ہم جتنی جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی آلات بھی بنا لیں، آسمان کی وسعتیں ہر روز کوئی نہ کوئی نیا راز کھول دیتی ہیں۔ حال ہی میں ماہرینِ فلکیات نے ایک ایسی دریافت پیش کی ہے جس نے ہر طالب علم اور محقق کے سامنے ایک حیران کن حقیقت رکھ دی ہے—ایک ایسا دیوہیکل پانی کا بادل جس کا حجم انسانی ذہن کی گرفت سے باہر ہے۔


سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ ہم سے تقریباً 12 ارب نوری سال کے فاصلے پر ایک طاقتور بلیک ہول کے گرد پانی کے بخارات کا ایک غیر معمولی بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ عام زبان میں یہ کوئی دریا یا سمندر نہیں، بلکہ پانی کا ایک ’’بادل‘‘ ہے جسے سائنس کی زبان میں Water Vapor Cloud کہا جاتا ہے۔ اس بادل میں موجود پانی کی مقدار زمین کے تمام سمندروں کے مقابلے میں تقریباً 140 ٹریلین (140 کھرب) گنا زیادہ ہے۔ یہ مقدار اتنی بڑی ہے کہ انسان اسے کسی زمینی مثال سے پوری طرح سمجھ ہی نہیں سکتا۔


یہ دریافت اس لیے بھی حیرت انگیز ہے کہ یہ پانی کائنات کی پیدائش کے زیادہ دیر بعد نہیں پیدا ہوا بلکہ ابتدائی دور سے موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی جیسے بنیادی مالیکیول کائنات کے آغاز ہی میں بننا شروع ہو گئے تھے۔ جدید آلات—ریڈیو، مائیکرو ویو اور سب ملی میٹر ٹیلی اسکوپس—نے یہ بخارات واضح طور پر detect کیے ہیں۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ یہ پانی زمین کے پانی جیسا مائع نہیں بلکہ گرم، پھیلا ہوا واٹر ویپر (Water Vapor) ہے۔


اس بادل کے مرکز کے قریب وہ طاقتور بلیک ہول ہے جسے سائنسی زبان میں Quasar کہا جاتا ہے۔ یہ بلیک ہول ہماری کہکشاں کے مرکزی بلیک ہول سے تقریباً 20 ارب گنا زیادہ طاقتور ہے۔ یہی قوت اپنے اردگرد موجود مادّے کو کھینچتی ہے اور شدید حرارت پیدا کرتی ہے۔ اسی ماحول میں پانی کے بخارات کے نشانات واضح طور پر ملتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ایک ہی بادل میں ہماری ملکی وے کہکشاں میں موجود کل پانی سے چار ہزار گنا زیادہ پانی موجود ہے—چاہے وہ بخارات ہوں یا برف کی شکل میں۔


یہ دریافت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ موجودہ سائنس جتنی بھی ترقی کرلے، کائنات ہم سے کہیں زیادہ عظیم، پیچیدہ اور غیر متوقع ہے۔ جہاں ہم زمین پر ایک معمولی سیلاب کو کنٹرول کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، وہیں خدا اپنی وسیع کائنات میں پانی کے اتنے بڑے ذخائر کو خاموشی سے کنٹرول کر رہا ہے۔ یہی حقیقت انسان کو عاجزی، حیرت اور سائنسی جستجو کی طرف مائل کرتی ہے۔

~~~~~~~~

زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کے طلبہ، محققین اور قارئین کے لیے یہ معلومات اس لیے اہم ہیں کہ وہ سائنسی تحقیق کو درست سیاق و سباق میں سمجھیں۔ کائنات کا مطالعہ صرف حیرت کا دروازہ نہیں کھولتا، بلکہ وہ تحقیق، سوچ اور علم کے نئے در کھولتا ہے۔ نئی دریافتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہمارے علم کی سرحدیں ہمیشہ وسیع ہو سکتی ہیں—بس کوشش اور سوال کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا