اے آئی دنیا کی نئی حکمران, انسان کا کنٹرول ختم ہو رہا, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر


 انسان کا  دنیا  سے ختم ہوتا کنٹرول ... 

اے آئی دنیا کی نئی حکمران

~~~~~~~~~

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 



مصنوعی ذہانت () کے میدان میں کام کرنے والے عالمی راہ نما اور ماہرین ابھی تک  اس بات پر متفق نہیں ہو سکے  کہ یہ ٹیکنالوجی انسانوں اور معاشرے کو کس سمت لے جائے گی۔ سن 2025 میں سپر انسانی صلاحیتوں کے حصول کے لیے اے آئی سسٹمز کو وسعت دینے پر سیکڑوں ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔ معروف اے آئی کمپنیوں کے سربراہان، جیسے اوپن اے آئی کے سیم آلٹمین اور ایکس اے آئی کے ایلون مسک، کا خیال ہے کہ آئندہ چار برسوں میں اے آئی اتنی ذہین ہو سکتی ہے کہ وہ زیادہ تر ذہنی کام—یعنی وہ تمام کام جو صرف لیپ ٹاپ پر کیے جا سکتے ہیں—انسانوں جتنے یا ان سے بہتر انداز میں انجام دے سکے گی۔


ماہرین اس نکتے پر متفق ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو معاشرہ بنیادی طور پر بدل جائے گا۔ 

_ _ _ _ _ _

گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈیمس ہسابس کے مطابق اے آئی کا اثر موبائل فون یا انٹرنیٹ جیسا نہیں بلکہ آگ یا بجلی جیسی انقلابی ایجاد کے برابر ہو گا۔ اگر یہ پیش گوئی جزوی طور پر بھی درست ثابت ہوئی تو دنیا بہت تیزی سے بدل سکتی ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کو کس طرح سنبھالا جائے—اور اسی نکتے پر شدید اختلاف موجود ہے۔

_ _ _ _ _

ہر ماہ مزید طاقتور اے آئی ماڈلز سامنے آ رہے ہیں اور امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سخت قوانین میں خاص دلچسپی نظر نہیں آتی، اس لیے نجی کمپنیوں کے فیصلے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ لیکن خود ان کمپنیوں کے سربراہ بھی اس بات پر متفق نہیں کہ اصل خطرہ کیا ہے اور اگر کچھ غلط ہو گیا تو نقصان کتنا بڑا ہو سکتا ہے۔


ایلون مسک کا کہنا ہے:

“میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ اے آئی انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین ہو جائے گی اور یہ انسانی وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے—اور اب ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔”

ان کے مطابق اے آئی کی وجہ سے انسانیت کے مکمل خاتمے کا امکان تقریباً 20 فیصد ہے۔


یہ خیال نیا نہیں کہ جدید اے آئی انسانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ سیم آلٹمین نے 2015 میں کہا تھا کہ سپر انسانی مشین ذہانت “انسانی بقا کے لیے سب سے بڑا خطرہ” ہو سکتی ہے۔ بعد ازاں آلٹمین، ڈیمس ہسابس اور انتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈی نے ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے جس میں کہا گیا کہ اے آئی سے انسانی نسل کے خاتمے کے خطرے کو روکنا عالمی ترجیح ہونی چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے وباؤں یا ایٹمی جنگ کے خطرات۔


ہگنگ فیس کی چیف ایتھکس سائنسدان مارگریٹ مچل کہتی ہیں کہ یہ بات عجیب ہے کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں اے آئی اتنی ذہین ہو گی کہ دنیا کے مسائل حل کر دے گی، مگر اتنی ذہین نہیں ہو گی کہ انسانوں کی لگائی ہوئی پابندیوں سے نکل نہ سکے۔ ان کے مطابق جیسے جیسے انسان کنٹرول خودکار اے آئی ایجنٹس کے حوالے کرتے جائیں گے، خطرات بڑھتے جائیں گے۔ ایسے نظام ہمارے بینک اکاؤنٹس خالی کر سکتے ہیں، ہماری نقل بنا کر نقصان دہ باتیں کہہ سکتے ہیں یا مخصوص گروہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔


ایم آئی ٹی کے پروفیسر اور فیوچر آف لائف انسٹیٹیوٹ کے صدر میکس ٹیگمارک کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ اے آئی کو محض ایک نئی ٹیکنالوجی سمجھتے ہیں، جبکہ اصل میں اسے ایک نئی قسم کی مخلوق کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس درجے کی مشینیں بنانے کا فطری نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ انسان آہستہ آہستہ ان پر قابو کھو بیٹھے، جو سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔


ان خدشات کے باوجود، کچھ رہنما اے آئی کے فوائد کو زیادہ نمایاں سمجھتے ہیں۔ گوگل کے سی ای او سندر پچائی کے مطابق تاریخ اس دور کو جدت اور ترقی کے سنہری زمانے کے طور پر یاد رکھے گی، اور اصل خطرہ یہ ہے کہ دنیا اس دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔ اسی طرح مائیکروسافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا کہتے ہیں کہ وہ اے آئی کے ممکنہ نقصانات سے زیادہ اس کے فوائد پر نظر رکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ انقلاب صنعتی انقلاب سے بھی بڑا ہو سکتا ہے اور پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔


یہاں تک کہ وہ ماہرین بھی جو اے آئی کو خطرناک سمجھتے ہیں، یہ مانتے ہیں کہ اگر امریکا نے ترقی کی رفتار کم کی تو دوسرے ممالک آگے نکل جائیں گے۔ مستقبل کی اے آئی نئی قسم کے تباہ کن ہتھیار بنانے کی صلاحیت بھی رکھ سکتی ہے، جو ایک ہی رات میں عالمی طاقت کا توازن بدل دیں۔ میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ کے مطابق حفاظت کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ طاقتور اے آئی کسی ایک ادارے کے مکمل کنٹرول میں نہ ہو، اور اوپن سورس ماڈلز اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔


اگرچہ بیشتر اے آئی کمپنیاں حفاظتی اصولوں اور اخلاقی وعدوں کی بات کرتی ہیں، مگر یہ سب قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔ میکس ٹیگمارک کو امید ہے کہ اگر قومی سلامتی کے ادارے اس خطرے کو سنجیدگی سے لیں تو واضح ضابطے بنائے جا سکتے ہیں۔ ڈیمس ہسابس نے تجویز دی ہے کہ اے آئی کے لیے بھی CERN یا ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے جیسا کوئی بین الاقوامی ادارہ قائم کیا جائے، جو حکومتوں کے ساتھ مل کر نگرانی کرے۔ تاہم یہ راستہ آسان نہیں۔ ستیہ نڈیلا کے مطابق مستقبل کی اے آئی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ قانونی نظام ہو گا، اور اصل مسائل عدالتوں میں سامنے آئیں گے، اس سے پہلے کہ یہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر بے قابو ہو۔


مارگریٹ مچل کے مطابق ہر کمپنی کا سربراہ اپنی سوچ اور خدشات کے ساتھ اس بحث میں شامل ہے، مگر میکس ٹیگمارک کو اندیشہ ہے کہ کچھ لوگ خوش فہمی میں مبتلا ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ سپر ذہانت کو مکمل طور پر قابو میں رکھ سکتے ہیں۔ وہ اسے “اوپن ہائمر لمحہ” قرار دیتے ہیں—یعنی وہ وقت جب سائنسدان یہ احساس کرنے لگتے ہیں کہ ان کی ایجاد اب ان کے ہاتھ سے نکل کر طاقتور اداروں کے قبضے میں جا رہی ہے۔ ان کے خیال میں آج کچھ اے آئی کمپنیوں کے سربراہ بھی اسی کیفیت سے گزرنا شروع ہو چکے ہیں۔


یہ تحریر زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کی جانب سے طلبہ اور مفادِ عامہ کے لیے جاری کی گئی ہے،

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا