افغانستان اپنا سب سے بڑا دشمن خود ہے, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

 


افغانستان — ایک ملک جو خود ہی اپنا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے

                                         صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر      




علاقائی کشیدگی، سرحدی ہلاکتیں، عالمی دباؤ اور داخلی کمزوریاں افغانستان کو مزید تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں

ایران کی سرحدی جھڑپیں اور اموات
علاقائی ریاستوں کا سخت مؤقف اور عالمی دباؤ

افغانستان کے گرد ایک بار پھر خطرات کی باڑھ کھڑی ہوتی جا رہی ہے۔ پے در پے ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں افغان سرزمین سے متعلق بے اعتمادی نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ عملی اقدامات تک جا پہنچی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران کی سرحد پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جہاں فرّاہ کے قریب ایرانی سرحدی اہلکاروں کی فائرنگ سے کم از کم دس افغان شہری ہلاک ہوئے۔ یہ وہ افراد تھے جو غربت، بیروزگاری اور غیر محفوظ معاشی حالات کے باعث ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ واقعے کی تصدیق افغان ذرائع اور بین الاقوامی ایجنسیوں نے کی، جبکہ ایران نے اسے غیرقانونی سرحدی تجاوزات کا ردعمل قرار دیا ہے۔

اسی دوران وسطی ایشیا میں بھی افغان سرحد سے جڑے تحفظاتی خدشات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ پڑوسی تاجکستان نے افغانستان کی جانب سے ممکنہ خطرات اور عسکری نیٹ ورکس کی نقل و حرکت کے پیش نظر روس سے باضابطہ سرحدی تعاون حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماسکو اور دوشنبے کے درمیان سیکیورٹی شراکت داری پر پیش رفت تیزی سے جاری ہے۔ اس اقدام کو خطے میں افغانستان سے متعلق بڑھتی ہوئی بے اعتمادی اور غیر یقینی صورتحال کا واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

یورپی محاذ پر بھی افغان شہریوں کے لیے صورتحال سازگار نہیں رہی۔ متعدد یورپی ممالک نے سرکاری طور پر افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے غیرقانونی یا غیر رجسٹرڈ شہریوں کی وطن واپسی کے لیے راستہ ہموار کرے۔ بعض یورپی ریاستیں سیاسی سطح پر یہ مؤقف اختیار کر رہی ہیں کہ افغان باشندوں کی ایک نمایاں تعداد وہاں پناہ گزین قوانین کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں افغانستان سے واپس بھیجے جانے والے شہریوں کے لیے بین الاقوامی ادارے بھی سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ واپسی محفوظ ہو اور انسانی تحفظات کو ملحوظ رکھا جائے۔

ادھر پاکستان میں ایک پارلیمانی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برسوں میں تقریباً پانچ لاکھ افغان شہری پاکستانی شناختی دستاویزات کے ذریعے بیرونِ ملک روانہ ہوئے۔ حکام کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور سفری و شناختی نظام کو ازسرِنو مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ خطے کے ممالک افغانستان کے ساتھ اپنے تعلقات میں شدید عدم اعتماد محسوس کر رہے ہیں۔

افغانستان کے لیے یہ تمام پیش رفتیں معمولی نوعیت کی نہیں۔ ایک طرف پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدی کشیدگیاں اور فائرنگ جیسے واقعات، دوسری طرف وسطی ایشیا اور یورپ کا دباؤ، اور پھر غیرقانونی دستاویزات کا بحران — یہ سب اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ افغان حکومت داخلی استحکام اور بیرونی اعتماد بحال کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔


یہ صورت حال ایک بنیادی سچ سامنے لاتی ہے: افغانستان کو خارجی دشمنوں کی چنداں ضرورت نہیں، کیونکہ اس کی پالیسیوں، داخلی انتشار اور ناقص حکمرانی نے خود ہی دنیا بھر میں مخالفت اور بداعتمادی کو جنم دیا ہے۔ وہ ریاستیں جنہوں نے افغان عوام کی مدد کی، پناہ فراہم کی، یا سخت وقت میں اُن کا ساتھ دیا — آج وہی ممالک افغانستان کی پالیسیوں سے سب سے زیادہ متاثر اور نالاں ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی تنہائی اور سخت ہوتی سرحدیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ افغان ریجیم اپنے عوام کے ساتھ بھی مخلص دکھائی نہیں دیتی اور اپنی ہی غلطیوں کے بوجھ

تلے روز بروز مزید دب رہی ہے۔



Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا