کولمبس دور سے 507 برس عمر پانے والا جانور—صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر


 دنیا کا سب سے طویل عمر پانے والا جانور—اور نئی تحقیق کے حیرت انگیز انکشافات

~~~~~~~

زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز 

~~~~~~~

دنیا میں طویل عمر پانے والے انسانوں کی کہانیاں ہم نے بہت سُنیں، مگر جب سائنس نے سمندر کی تہہ میں چھپے ایک خاموش جانور کی عمر کا حساب لگایا تو نتائج حیران کن نکلے۔ ’’اوشن کوہاگ‘‘ نامی یہ بظاہر عام سا کلیم پانچ صدیوں سے بھی زیادہ عمر پا سکتا ہے۔ آئس لینڈ کے پانیوں سے ملنے والا سب سے قدیم نمونہ 507 سال پرانا نکلا، جو کولمبس کے دور میں پیدا ہوا اور جدید دنیا تک زندہ رہا۔ اب نئی تحقیق نے اس جانور کی غیر معمولی عمر کے راز اور بھی کھول دیے ہیں—اور یہ راز انسانوں کے لیے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔



کوہاگ صدیوں تک اس لیے زندہ رہتا ہے کہ اس کے اندر موجود مائٹوکونڈریا عام جانوروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ یہ وہ چھوٹے ’’انرجی پلانٹس‘‘ ہیں جو خوراک کو توانائی میں بدلتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ کوہاگ کے مائٹوکونڈریا کا حفاظتی نظام حیرت انگیز طور پر طاقتور ہے۔ ان میں الیکٹرونز کے بہاؤ میں خرابی بہت کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ ری ایکٹو آکسیجن اسپیشیز جیسے نقصان دہ مادوں سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہی مادے انسانی بوڑھاپے اور بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ کوہاگ کا جسم نہ صرف انہیں کم پیدا کرتا ہے بلکہ ان کی صفائی بھی عام جانوروں سے کئی گنا بہتر کرتا ہے۔


ماہرین کے مطابق کوہاگ کے ماحول میں آکسیجن بہت کم ہوتی ہے، اور یہ جانور ایک ہفتے تک اپنا خول بند کر کے بغیر آکسیجن لیے زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کیفیت کو ’’این آکسیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ صدیوں کے ارتقائی سفر میں اس کے مائٹوکونڈریا نے انتہائی کم آکسیجن کو برداشت کرنے اور اچانک ملنے والی آکسیجن کے دباؤ سے نمٹنے کی حیرت انگیز صلاحیت پیدا کی۔ یہی خصوصیت ننگے مول ریٹ میں بھی پائی جاتی ہے، جو زمین کے اندر آکسیجن کی کمی والے بلوں میں رہتے ہیں اور عام چوہوں سے چھ گنا زیادہ عمر پاتے ہیں۔


سوال یہ ہے کہ کیا انسان بھی اپنے مائٹوکونڈریا کو مضبوط بنا سکتا ہے؟ سائنس نے اس پر تجربات شروع کر دیے ہیں۔ 2005 میں کیلیفورنیا کی ایک ٹیم نے ایسے چوہے تیار کیے جن کے مائٹوکونڈریا میں ایک خاص اینٹی آکسیڈنٹ انزائم زیادہ پیدا ہوتا تھا، اور ان کی عمر واضح طور پر بڑھ گئی۔ انسانوں میں بھی مائٹوکونڈریا کی جینیاتی تبدیلی ممکن ہے، مگر اس کی محفوظ صورت ابھی تک سائنسی جہدوجہد کا حصہ ہے۔


البتہ انسان ایسی قدرتی چیزیں ضرور کر سکتا ہے جو مائٹوکونڈریا کو مضبوط بناتی ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ورزش، سادہ اور متوازن خوراک، اور سرد پانی سے نہانا ان نظاموں کو بہتر کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تبتی شیرپا لوگوں کے مائٹوکونڈریا فطری طور پر زیادہ مضبوط ہیں، کیونکہ وہ اپنی نسلوں سے بلند علاقوں میں کم آکسیجن میں رہتے آئے ہیں—اسی لیے وہ آکسیجن کو ہم جیسے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔


سائنس کا پیغام واضح ہے: اگر صدیوں تک زندہ رہنے والا ایک خاموش سا کلیم لمبی عمر کے راز اپنے مائٹوکونڈریا میں چھپا سکتا ہے تو انسان بھی اپنی زندگی کے معیار اور صحت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ ورزش، مناسب خوراک اور جسم کے قدرتی نظاموں کی مضبوطی—یہی وہ اصول ہیں جو آج سائنس ثابت کر رہی ہے۔


بعض اوقات زندگی کے بڑے سبق سمندر کی ریت میں چھپا کوئی 

چھوٹا سا کلیم بھی دے دیتا ہے۔

#ZSB

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا