فوربز میگزین اور پنجاب کا ستھرا پروگرام, صاحب زادہ زابر سعید بدر

 پنجاب کا ستھرا پروگرام 

 ============

عالمی سطح پر تعریف، ہمارے ہاں تعصب کی عینک

_______________


صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر 




دنیا بھر میں پاکستان، خاص طور پر پنجاب کے ویسٹ مینجمنٹ کے اس بڑے منصوبے کو کھلے دل سے سراہا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے، خصوصاً فوربز میگزین، اسے ایک عظیم مثال، جرأت مندانہ ماڈل اور دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ویسٹ سسٹم قرار دے رہے ہیں۔

مگر افسوس کہ ہمارے اپنے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو تعصب کی عینک نہیں اتارتا۔

انہیں ہر اچھی چیز میں بھی خامی ڈھونڈنے کا ایک عجیب شوق ہے — نہ وہ زمینی حقیقت دیکھتے ہیں، نہ عالمی تعریف، نہ عملی کوششیں۔

یہی وہ ذہنیت ہے جو تنقید برائے تنقید کو زندگی کا مقصد بنا لیتی ہے۔

اور حقیقت یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی ادارے اس پروگرام کو مثال بنا کر پیش کر رہے ہیں، تو ہمیں بھی کم از کم اتنا وسیع ظرف ضرور دکھانا چاہئے کہ اپنی اچھی کارکردگی کو کھلے دل سے قبول کریں۔


#فوربز اپنی رپورٹ میں سب سے پہلے یہ حیرت ظاہر کرتا ہے کہ صرف آٹھ ماہ میں پنجاب جیسے بڑے صوبے میں ایسا تاریخی ویسٹ سسٹم قائم ہوا جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔

فوربز کہتا ہے کہ:


“یہ محض ایک میونسپلٹی کی اصلاح نہیں تھی — یہ پورے سسٹم کی دوبارہ تعمیر تھی۔”


فوربز کا پہلا نکتہ — 75 سال کا مسئلہ، آٹھ ماہ میں حل کا آغاز


فوربز بتاتا ہے کہ پنجاب کی 13 کروڑ آبادی میں سے تقریباً 7 کروڑ لوگ دیہی علاقوں میں رہتے تھے جہاں کچرے کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں تھا۔

شہری علاقوں کی حالت بھی کوئی بہتر نہ تھی۔ نالیاں بند، کوڑے کے ڈھیر اور ناقص نظام روزمرہ کا حصہ بن چکے تھے۔

فوربز کے مطابق:

  “اگر فوری اقدامات نہ کیے جاتے تو یہ ماحولیاتی بحران ایک بڑی صحت عامہ کی تباہی میں بدل سکتا تھا۔”


فوربز کا دوسرا نکتہ — ایک مربوط صوبائی نظام کا جرات مندانہ فیصلہ


فوربز لکھتا ہے کہ پنجاب کی قیادت نے وہ قدم اٹھایا جسے اکثر ریاستیں لینے سے گھبراتی ہیں:

پورے صوبے کو ایک ہی نظام میں لانا۔


لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) کے سی ای او بابر صاحب دین کے مطابق، جسے فوربز نے بھی quote کیا:


“ہم سے کہا گیا کہ صرف لاہور نہیں، پورے پنجاب کا نظام ٹھیک کرنا ہے — اور وہ بھی چند ماہ میں۔”


فوربز اس فیصلے کو audacious impact یعنی جرأت مندانہ عملی اقدام کہتا ہے۔


فوربز کا تیسرا نکتہ — آٹھ ماہ میں انقلاب


فوربز حیرت کے ساتھ لکھتا ہے کہ:


پورے پنجاب کو ایک مشترکہ اتھارٹی میں لایا گیا


200,000 مربع کلومیٹر کے علاقے میں جدید نظام بچھایا گیا


ہر شہر اور ہر گاؤں تک ویسٹ کلیکشن اور مانیٹرنگ پہنچ گئی


یہ سب کچھ محض آٹھ ماہ میں ہوا


فوربز کے مطابق:


“یہ رفتار دنیا بھر کے سرکاری نظاموں کیلئے حیران کن مثال ہے۔”


فوربز کا چوتھا نکتہ — دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ویسٹ سسٹم


فوربز تفصیل سے لکھتا ہے کہ پنجاب اب روزانہ:


50 ہزار ٹن کچرا جمع کرتا ہے


ہر گاڑی میں GPS، RFID، IoT سینسرز نصب ہیں


ہر حرکت سسٹم کے ریئل ٹائم ڈیش بورڈ پر نظر آتی ہے


ادائیگیاں کارکردگی کی بنیاد پر ہوتی ہیں


AI بہتر ترین روٹس تجویز کرتی ہے


فوربز کہتا ہے کہ:


> “یہ نظام ایک ٹوٹا پھوٹا میونسپل نظام نہیں رہا — یہ ایک ہائی ٹیک کلائمٹ ایکشن پلیٹ فارم بن گیا ہے۔”


فوربز کا پانچواں نکتہ — مالیاتی ماڈل جو خود کفالت لائے گا


فوربز کہتا ہے کہ پنجاب نے تین حصوں پر مبنی ایسا ماڈل دیا ہے جو آنے والے برسوں میں اس نظام کو آزاد اور مضبوط بنا دے گا:


1. صارف فیس


2. حکومتی سپورٹ


3. ویسٹ ٹو انرجی اور کاربن کریڈٹ سے آمدن


فوربز کا چھٹا نکتہ — کچرے سے توانائی، روزگار اور معیشت


فوربز لکھتا ہے کہ پنجاب اب:


ری سائیکلنگ صنعت کو منظم کر رہا ہے


کمپوسٹنگ پلانٹس لگا رہا ہے


میتھین گیس سے بائیو گیس بنا رہا ہے


اور ویسٹ ٹو الیکٹریسٹی کا ایک بڑا نیٹ ورک تیار کر رہا ہے


فوربز خوشی سے نوٹ کرتا ہے کہ:


“لاہور کا 25 میگاواٹ پلانٹ 50 ہزار گھروں کو بجلی دے سکتا ہے۔ یہ پاکستان میں پہلی بار ہو رہا ہے۔”


فوربز کا ساتواں نکتہ — عالمی اعتراف اور COP30 میں پذیرائی


فوربز لکھتا ہے کہ برازیل میں ہونے والی COP30 کانفرنس میں اس منصوبے کو ایک lead example کے طور پر سراہا گیا۔

نیروبی، جکارتہ اور کئی دیگر شہر “ستھرا پنجاب” ماڈل سیکھنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔


فوربز کا نتیجہ — پاکستان نے دنیا کو حیران کر دیا


فوربز آخر میں لکھتا ہے:


 “یہ منصوبہ ثابت کرتا ہے کہ بڑے مسائل کو چھوٹے پائلٹ حل نہیں کرتے — بڑے فیصلے کرتے ہیں۔

پنجاب نے وہ فیصلہ کر دکھایا۔”

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا