Posts

فیس بک یا ذہنی فضلہ گاہ, یہ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
  وزیر اعلی پنجاب کی سرجری  کی خبر پر سوشل میڈیا کمنٹس کیا ظاہر کرتے ہیں....  ______ فیس بک [ذہنی فضلہ گاہ ]بن چکا ہے.  آپ کا خاندانی تعارف والدین کی تربیت  پاکیزہ نام لیکن تعفن زدہ دماغ بظاہر خوبصورت چہرہ لیکن پیچھے سڑی بوسیدہ نفرت کے زہر سے آلودہ زندہ لاش...  آپ کے کمنٹس یہ سب بتاتے ہیں.. آپ کا نسلی ڈین این اے, آپ کی اوقات, آپ کی تربیت, آپ کا وہ بھیانک چہرہ جو بظاہر خوشبودار جھونکے اچھے کپڑوں اور ڈگریوں کا سہارا لیے ہے....  لیکن یقین مانیے آپ قیامت کا گٹر ہیں جس میں اپ ہمیشہ رہیں گے...

دوسرا رخ /صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
 اختیار اور دولت اکثر “سچ” کی سماجی شکل بدل دیتے ہیں۔ جس کے پاس طاقت ہو، وہ اگر کوا بھی سفید کہہ دے تو بہت سے لوگ حقیقت نہیں، طاقت کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ اور جو بے اختیار ہو، وہ سچ بھی کہے تو اس کی آواز اکثر دب جاتی ہے۔ یہی دنیا کا پرانا اور تلخ اصول ہے: حق سے زیادہ اثر بعض اوقات حیثیت کا چلتا ہے۔ مگر اس حقیقت کا دوسرا رخ بھی ہے: طاقت وقتی طور پر بیانیہ بدل سکتی ہے، حقیقت نہیں۔ کوا سفید نہیں ہو جاتا، صرف کچھ عرصے کے لیے لوگ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ تاریخ بارہا دکھاتی ہے کہ اختیار کا شور وقتی ہوتا ہے، جبکہ سچ کی عمر لمبی ہو سکتی ہے اگرچہ اس کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ اصل دانش شاید یہ ہے کہ دنیا کو دنیا کی طرح سمجھا جائے: یہاں بہت کچھ اصول سے نہیں، مفاد سے چلتا ہے۔ یہ سمجھ انسان کو کم حیران کرتی ہے، کم زخمی کرتی ہے۔ لیکن اگر انسان صرف اسی کو آخری سچ مان لے تو پھر اقدار، ضمیر، اور کردار بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یعنی: دنیا میں کامیابی کے کئی پیمانے طاقت اور پیسہ طے کرتے ہیں، لیکن انسان کی اصل قدر اکثر اس سے طے ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ کے ہجوم میں سچ کو پہچانتا ہے یا نہیں۔ زندگی شاید انہی دو حقیقتو...

پروپیگنڈہ جنگ میں ایران کی امریکہ پر برتری, زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز

Image
  پروپیگنڈا وارفیئر میں ایران کی سبقت [مصنوعی ذہانت کو ہتھیار بنا کر سپر پاور کے بیانیے کو چیلنج ] حالیہ شمارے میں عالمی شہرت یافتہ جریدے The Economist نے ایک غیر معمولی دعویٰ کیا ہے: ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پروپیگنڈا وارفیئر میں ایران، امریکہ پر سبقت لے گیا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک گہرا میڈیا تجزیہ ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک نسبتاً محدود وسائل رکھنے والی ریاست نے جدید ٹیکنالوجی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے عالمی بیانیے کی جنگ میں اثر پیدا کیا۔ 📗ZIMS زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی  اسٹڈیز کی پیشکش میڈیا اسٹوڈنٹس کے لیے رہنمائی زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کی جانب سے یہ تجزیہ میڈیا کے طلبہ کے لیے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ دنیا کا ایک معتبر جریدہ کس طرح امریکی اے آئی ماہرین اور پالیسی سازوں پر تنقید کر رہا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ: کیسے ایران جیسے ملک نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں پروپیگنڈا وارفیئر کے ذریعے ایک بڑی طاقت کے بیانیے کو چیلنج کر دیا؟ 📗ZIMS یہ مطالعہ اس لیے اہم ہے کہ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں ن...

ڈوپامائن دماغ کو فریب کیسے دیتا ہے صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  دور کے ڈھول سہانے کیوں لگتے ہیں؟ [ دماغ ہمیں فریب کیسے دیتا ہے زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز ] 📗ZIMS یہ صرف کہاوت نہیں، انسانی دماغ کا ایک گہرا فریب ہے۔ انسان کو ہمیشہ وہ چیز بہتر لگتی ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی۔ یہ احساس حقیقت نہیں بلکہ ذہنی دھوکہ ہوتا ہے۔  📗ZIMS دماغ میں ایک کیمیائی نظام کام کرتا ہے جسے خوشی کا پیغام رساں کہا جا سکتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے سائنس دان وولفرم شلٹز نے اپنے تجربات میں بتایا کہ یہ کیمیکل اصل خوشی پر نہیں بلکہ “امید” پر زیادہ خارج ہوتا ہے۔ یعنی نئی چیز دیکھ کر دماغ پہلے ہی خوشی کا سگنل دے دیتا ہے، چاہے وہ چیز بعد میں اتنی اچھی نہ نکلے۔  📗ZIMS ایک اور اہم نظریہ برک مین اور کیمبل کا ہے، جسے “عادت کا پہیہ” کہا جاتا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق انسان کسی بھی اچھی چیز کا جلد عادی ہو جاتا ہے۔ گھر کی دال روز ملتی ہے، اس لیے عام لگتی ہے۔ باہر کی مرغی کبھی کبھار ملتی ہے، اس لیے خاص محسوس ہوتی ہے—حالانکہ حقیقت میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔  📗ZIMS سماجی موازنہ بھی ایک بڑا سبب ہے۔ ماہرِ نفسیات لیون فسٹنگر نے اپنے تجربات میں ثابت کیا ...

مغلوں نے آخر ہمارے لیے کیا کیا اکانومسٹ کی رپورٹ, زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز

Image
    مغلوں نے ہمارے لیے آخر کیا کیا؟ مغل سلطنت کے قیام کی سال گرہ کو 500 برس مکمل ہونے  پر  اکانومسٹ کی ہے زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز کی پیشکش   انڈیا کی عظیم ترین مسلم سلطنت نے اس کے طاقتور ترین ہندو سیاسی دھڑے کو کیسے تشکیل دیا تقریروں میں چاہے وہ اپنے حامیوں سے ہوں، پارلیمان میں ہوں یا پوری قوم سے نریندر مودی بارہا بھارت کی صدیوں پر محیط غلامی کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔ ۲۰۱۴ میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ “بارہ سو برس کی غلامی کی ذہنیت آج بھی ہمیں جکڑے ہوئے ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذرا سی بھی بلند حیثیت رکھنے والے شخص سے گفتگو کرتے وقت ہمارے لیے سر اٹھا کر بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔” اس شکوے کا اصل ہدف وہ مسلم سلطنتیں ہیں جو برطانوی نوآبادیاتی دور سے پہلے یہاں قائم رہیں۔ ZIMS📗 ان میں مغل سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والی سلطنت تھی۔ ۲۱ اپریل کو پانی پت کی پہلی جنگ کو ٹھیک پانچ سو برس مکمل ہوئے، جب بابر—جو تیمور اور چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھنے والا ایک وسطی ایشیائی فاتح تھا (اسی نسبت سے “مغل”، جو “منگول” سے ما...

وقت کی بازگشت: آئن سٹائن کا خط, صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 وقت کی بازگشت: آئن سٹائن کا خط صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر  اپریل 1948 کی ایک شام تھی۔ دنیا ابھی دوسری جنگِ عظیم کے زخم سہلا رہی تھی، اور انسانیت اپنی ہی بنائی ہوئی تباہی کے ملبے سے راستہ تلاش کر رہی تھی۔ ایسے میں ایک شخص، جو کائنات کے راز کھولنے میں مصروف رہتا تھا، اچانک زمین کے ایک ٹکڑے کی طرف متوجہ ہوا۔ یہ شخص تھا ڈاکٹر البرٹ آئن سٹائن ۔ اس نے ایک خط لکھا الفاظ کم تھے، مگر وزن بہت تھا۔ یہ خط محض سیاست نہیں تھا، یہ ایک ضمیر کی آواز تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، اور اس بنیاد کے نیچے کچھ ایسے واقعات بھی دفن ہو رہے تھے جن کی بازگشت دور تک سنائی دینی تھی۔ کچھ  واقعات نے حساس ذہنوں کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ ائن سٹائن نے لکھا   “اگر اس نئی ریاست کی بنیاد دہشت اور خوف پر رکھی گئی، اگر اس کے رہنما ایسے عناصر ہوں جو فاشسٹ ذہن رکھتے ہیں، تو یہ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک خطرناک مثال بن جائے گی۔” یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، یہ ایک پیش گوئی تھی یا شاید ایک انتباہ۔ آج، جب ہم کئی دہائیوں بعد اسی خطے کی طرف دیکھتے ہیں، تو سوال خود بخو...

کیا واقعی امریکہ جنگ ہار رہا ہے, زابر سعید بدر

Image
 “جنگ کا شور یا حکمت کا سکوت؟ امریکہ,ایران کشیدگی کا اصل  چہرہ” صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر  امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک عجیب مرحلے میں داخل ہو چکی ہے نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی طاقت،ڈونلڈ ٹرمپ    کی قیادت میں امریکہ ہے، اور دوسری طرف ایران، جو اپنی مزاحمت کو فتح کا نام دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایک “ہاتھی” اور “چیونٹی” کا مقابلہ ہو رہا ہے؟ اور اگر ہو رہا ہے تو پھر یہ مقابلہ ابھی تک فیصلہ کن کیوں نہیں ہوا؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ سیز فائر میں توسیع کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران ایک متحدہ تجویز پیش نہیں کرتا، حملے روکے جائیں گے، مگر بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔ یہ فیصلہ بظاہر نرمی لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک سوچا سمجھا صبر ہے ایک ایسا صبر جس کے پیچھے طاقت بھی ہے اور حساب بھی۔ اس عمل میں پاکستان نے بھی اہم کردار ادا کیا، جہاں وزیر اعظم شہباز شریف اور سپہ سالار سید عاصم منیر نے سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں فریقوں کو وقتی طور پر روکنے میں مدد دی۔ ای ران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیب...