Posts

دربار جہانگیری میں ٹرمپ اور مودی کی طلبی, تبادلہ خیال || زابر سعید بدر

Image
مغل دربار میں دنیا کے راہ نماؤں کی طلبی صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   لاہور کے شاہی قلعے کے دیوانِ خاص میں آج ایک غیر معمول  دربار سجا ہوا ہے۔ سنگِ مرمر کے ستونوں پر سنہری روشنی جھلملا رہی ہے، اور فضا میں ایک عجیب سنجیدگی ہے۔ تختِ شاہی پر شہنشاہِ ہند نورالدین محمد جہانگیر جلال و وقار کے ساتھ جلوہ افروز ہیں۔ ان کے سامنے زنجیرِ عدل آویزاں ہے وہی زنجیر جسے کھینچ کر ایک عام انسان بھی انصاف کی فریاد لے سکتا ہے۔ اسی لیے شہنشاہ کو عادل شہنشاہ کہا جاتا ہے آج دربار میں دنیا کے بڑے رہنماؤں کو طلب کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے آگے بڑھے George Washington انہوں نے سر جھکا کر کہا: “جہاں پناہ! ہم نے آزادی کی بنیاد انصاف اور جمہوریت پر رکھی، مگر آج دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔ اصول کمزور پڑ گئے ہیں، مفادات غالب آ گئے ہیں۔” ان کے بعد Donald Trump نے قدرے سخت لہجے میں کہا: “دنیا ایک مقابلہ ہے، جہاں مضبوط ہی زندہ رہتا ہے۔ اگر ہم اپنے مفادات کا تحفظ نہ کریں تو کوئی اور ہمیں روند دے گا۔” یہ سن کر دربار میں ہلکی سی سرگوشی ہوئی۔ پھر آگے آئے Xi Jinping انہوں نے تحمل سے کہا: “ہم ترقی، استحکام اور اجتم...

امریکہ اور چین: تصادم کے کنارے پر عالمی طاقتیں,زابر سعید بدر

Image
  امریکہ اور چین: تصادم کے کنارے پر عالمی طاقتیں صاحب زادہ  زابر سعید بدر یہ کالم Foreign Affairs میگزین، مارچ/اپریل 2026 میں شائع ہونے والے مضمون "America and China at the Edge of Ruin" پر مبنی ہے، جس میں ڈیویڈ ایم۔ لیمپٹن اور وانگ جیسی نے امریکہ اور چین کے تعلقات کا انتہائی مفصل اور فکری جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف موجودہ بین الاقوامی سیاست کو سمجھنے میں معاون ہے بلکہ عالمی سطح پر طویل المدتی اقتصادی، فوجی اور ثقافتی اثرات پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ مضمون میں اٹھائے گئے نکات ایک ایسے نقطہ نظر فراہم کرتے ہیں جو پالیسی سازوں، محققین اور عام قاری کے لیے غور و فکر کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ مضمون کے مطابق، آج امریکہ اور چین کے درمیان خطرہ کسی جان بوجھ کر ہونے والی جنگ سے زیادہ، حادثاتی تصادم میں مضمر ہے۔ مثال کے طور پر اپریل 2001 میں چین کے فضائی جہاز اور امریکی EP-3 جاسوسی طیارے کا ہانائی جزیرے کے قریب تصادم، یا مئی 1999 میں بیلگرےڈ میں امریکی بمباری جسے امریکہ حادثاتی قرار دیتا ہے، یہ دکھاتے ہیں کہ معمولی غلط فہمی بھی بڑے تنازعات یا یہاں تک کہ ایٹمی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم،...

امریکہ کی شکاری بالادستی کا عروج اور اب زوال کا آغاز؟ زابر سعید بدر

Image
امریکہ کی  شکاری بالادستی کا عروج  اور  اب زوال کا آغاز؟ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر دنیا کی تاریخ میں طاقت ہمیشہ ایک حقیقت رہی ہے، مگر طاقت کا استعمال کس انداز میں کیا جاتا ہے—یہی کسی قوم یا ریاست کے اصل کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی جریدہ Foreign Affairs میں شائع ہونے والی ایک اہم تحریر نے اس بحث کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔ اس میں امریکی خارجہ پالیسی، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کو ایک "شکاری بالادستی" کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ یہ تصور سادہ ہے مگر خطرناک: ایک ایسی بڑی طاقت جو ہر تعلق کو ایک مقابلہ سمجھتی ہے، جہاں ایک کا فائدہ دوسرے کا نقصان ہو۔ اس سوچ میں دوستی، اتحاد اور عالمی اصول ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں، جبکہ اصل مقصد ہر حال میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں یہی رجحان واضح نظر آتا ہے۔ تجارت کو ہتھیار بنایا گیا، محصولات کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا، اور فوجی تحفظ کو بھی ایک سودے بازی کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ اتحادی ہوں یا مخالفین، سب کے ساتھ ایک جیسا رویہ اختیار کیا گیا—"یا تو مان جاؤ، یا نتائج بھگتو"۔ بظاہر یہ حکمتِ عملی...

Predatory Power: The Rise and Inevitable Reckoning of a New World Order || Zabir Saeed Badar

Image
  Predatory Power: The Rise and Inevitable Reckoning of a New World Order Sahibzada Zabir Saeed Badar When dominance replaces trust, even the strongest powers begin to stand alone . A new doctrine of power is reshaping global politics—one driven by pressure, profit, and unpredictability. Short-term gains are masking long-term fractures in alliances and trust. Rising powers like China are offering alternatives to a once-dominant order. Allies are no longer secure; they are cautious, calculating, and quietly diversifying. History reminds us: power without balance ultimately weakens itself. Power has always shaped the course of history, but the manner in which it is exercised defines the legacy of nations. A recent cover story in Foreign Affairs introduces a striking concept—“predatory hegemony.” It describes a great power that treats every relationship as a zero-sum game, where its gain must come at the expense of others. This framework offers a compelling lens through which to exami...

جذبات کے غبار میں سچ کہیں گم ہے, صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  جذبات کے غبار میں سچ کہیں گم ہے صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   سہیل وڑائچ صاحب  جو ہمارے سینئر بھی ہیں اور دوست بھی  نے حال ہی میں ہمارے ایک دوست کے ساتھ گفتگو میں ایک ایسا متوازن تجزیہ پیش کیا جو شاید کچھ لوگوں کو غیر مقبول لگے، مگر تاریخ کے حوالے سے اور منطق کے ساتھ بہت واضح تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ جذبات میں بہہ کر ہم حقیقت سے دور چلے جاتے ہیں، جبکہ سچ تو وہی ہے جو سامنے ہے۔ ایران نے جو بھی "قلعے" بنائے تھے، وہ ایک ایک کر کے گر چکے ہیں۔ غزہ میں ٹوٹ گئے، لبنان میں ٹوٹ گئے، لیبیا میں، شام میں، عراق میں اور اب ایران خود میں بھی۔ آخری طاقت کے طور پر صرف امریکہ ہی کھڑا نظر آ رہا ہے۔ سعودی عرب اگر کھڑا ہوا تو شاید اس کا مقابلہ کر سکے، ورنہ باقی سب منظر سے غائب۔ امریکہ کو اب نہ اقوام متحدہ کی ضرورت ہے، نہ نیٹو کی۔ وہ جب چاہتا تھا ان اداروں کو بناتا تھا، مگر اب سمجھتا ہے کہ انہیں "پالنے" کا کوئی فائدہ نہیں۔ یورپ مدد نہیں کر رہا تو پھر امریکہ کیوں انہیں کھلاتا پھرے؟ یہ اس کی سپریم پاور کی نشانی ہے۔ بغداد کے سقوط کی مثال دیکھیں — چنگیز خان کے دور سے لے کر تاتاریوں کے زم...

اسلام آباد اکارڈ || امریکہ ایران جنگ کا خاتمہ پاکستان کا کردار, زابر سعید بدر

Image
 دنیا کو جنگ سے بچانے کے لیے پاکستان کا مخلصانہ کردار ||   اسلام آباد اکارڈ  صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔#رائٹرز,#جیونیوز  #بزنس_ریکارڈر اور دیگر نیوز ذرائع  کے مطابق، پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، حالیہ دنوں میں پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں مصروف رہے۔ اس پیش رفت کا بنیادی مقصد فوری جنگ بندی کو ممکن بنانا اور خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچانا ہے۔ یہ تمام کوششیں ایک مجوزہ فریم ورک، جسے “#اسلام_آباداکارڈ” کا نام دیا جا رہا ہے، کے تحت سامنے آئی ہیں۔  پاکستان نے ایک دو مرحلہ جاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں پہلے فوری جنگ بندی اور پھر چند ہفتوں کے اندر ایک باضابطہ معاہدہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ جیسے ہی جنگ بندی پر اتفاق ہو، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے...

عزت بے حسی اور تربیت, ایک ذاتی تجربہ || صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  عزت، بے حسی اور تربیت صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر کچھ دن پہلے میں نے پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کا ایک لیکچر سنا۔ موضوع تھا عزت اور بے عزتی۔ وہ ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک تقریب میں مدعو تھے، مگر گیٹ پر موجود گارڈ نے نہ صرف روکا بلکہ سخت لہجے میں بات کی۔ ایک لمحے کے لیے دل کو ٹھیس پہنچی، لیکن پھر انہوں نے خود کو روکا اور سوچا کہ جو مجھے جانتا ہی نہیں، اس کے رویے کو اپنی بے عزتی کیوں سمجھوں۔ وہ خاموشی سے پیچھے ہٹ گئے۔ یہ ایک چھوٹا واقعہ نہیں بلکہ زندگی کا بڑا اصول ہے۔ یہ لیکچر سن کر میں کافی دیر اپنے بچپن کے ایک دوست کا رویہ یاد کرتا رہا۔ ہم نے ایک دوسرے کو بھائی سمجھا، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیا، لیکن ایک خلا ہمیشہ رہا۔ میں اسے فون کرتا تھا، وہ بہت کم ہی کرتا تھا۔ میں حال پوچھتا، وہ اکثر غائب رہتا۔ میں نے کئی بار خود کو آزمایا چند دن نہیں بلکہ کئی دنوں تک فون نہ کیا، مگر اس نے پلٹ کر کبھی نہیں پوچھا کہ تم خیریت سے ہو یا نہیں۔ یہ خاموشی اور یہ ...