Posts

گودی میڈیا کی خاموشی اور پاکستان کی گونجتی سفارت کاری, زابر سعید بدر

Image
 گودی میڈیا کی خاموشی اور پاکستان کی گونجتی سفارت کاری صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر یہ معاملہ صرف ایک خبر کا نہیں، بلکہ بیانیے کی جنگ کا ہے۔ ایک طرف بھارت کا وہ میڈیا ہے جسے عام زبان میں “گودی میڈیا” کہا جاتا ہے جہاں سچ کو سننے اور ماننے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان کے کردار کا نہ صرف اعتراف نہیں کیا جا رہا بلکہ دانستہ طور پر اسے پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ میں خود دیکھ رہا ہوں کہ بھارت کے کئی نمایاں ٹی وی چینلز اور اخبارات اس پوری سفارتی پیش رفت میں پاکستان کا ذکر تک نہیں کر رہے۔ خبریں اس انداز میں ترتیب دی جا رہی ہیں جیسے ایران نے خود فیصلہ کیا، امریکہ نے خود اعلان کر دیا، اور آبنائے ہرمز خود بخود کھل گئی گویا اس پورے عمل میں پاکستان کہیں موجود ہی نہیں تھا۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے، اور وہ زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ بھارت ہی کے ایک معتبر اخبار The Telegraph India میں سابق سفارت کار T.C.A. Raghavan نے ایک ایسا کالم لکھا ہے جو اس پورے بیانیے کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک، خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے اپنی...

پاکستان ایک نیا پیراڈائم شفٹ, امن کا سفیر, زابر سعید بدر

Image
  پاکستان ایک نیا پیراڈائم شفٹ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   ابھی وہ لمحہ گزرا ہے جس کا ہم حصہ بن گیے. ہم اس تاریخی لمحے کا حصہ تھے اس لیے محسوس نہ کر سکے کہ دنیا کیا سے کیا ہو گئی. پاکستان یک دم آسمان کی وسعتوں کو چھو آیا ہے اس کے نام کے ساتھ 'امن' جڑ گیا ہے  کہاں وہ وقت تھا جب پاکستان کا نام عالمی بیانیے میں ایک ایسے ملک کے طور پر لیا جاتا تھا جس پر دہشت گردی کے الزامات کی گرد جمی ہوئی تھی؛ جہاں پاکستانی پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ایک بوجھ سمجھا جاتا تھا؛ جہاں بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا ذکر آتے ہی شکوک، فاصلے اور احتیاط کی فضا قائم ہو جاتی تھی اور کہاں آج کا لمحہ ہے کہ اسی پاکستان کے نام کے ساتھ “امن” کا استعارہ جوڑا جا رہا ہے، اور عالمی سطح پر اسے مصالحت، توازن اور ذمہ دار سفارت کاری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک حقیقی پیراڈائم شفٹ ہے ایسی فکری، سفارتی اور تزویراتی تبدیلی جس نے نہ صرف عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا بلکہ جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن (Balance of Power) میں بھی ایک نیا زاویہ پیدا کیا ہے۔ یہ وہ مق...

ابو جی! آپ ٹھیک کہتے تھے کہ پاکستان پر کرم ہے, زابر سعید بدر

Image
 ابوجی! آپ ٹھیک کہتے تھے، پاکستان پر اللہ کا خاص کرم ہے صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر بچپن ہی سے میرے اندر ایک عقلی اور تجزیاتی سوچ موجود تھی۔ والدِ گرامی جناب #سعیدبدر صاحب ایک واقعہ  اکثر سنایا کرتے کہ زابر کو ساگ کھانا سخت ناپسند تھا۔ میں ان دنوں شاد باغ کے سینٹ جوزف سکول میں زیرِ تعلیم تھا۔ اگرچہ اس عمر میں سائنسی مضامین کی باقاعدہ تفریق نہیں ہوتی، تاہم فطری طور پر طبیعت مائل بہ عقلیت پسندی تھی۔ ان دنوں میرے پاس ایک لڈو تھی جس کی گوٹس پر مقناطیس تھا.جو لوہے کے بورڈ سے چپک جاتیں اس لیے مجھے یہ معلوم تھا کہ میگنٹ لوہے کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ یہ ایک سادہ سا مشاہدہ میرے ذہن میں ثبت تھا۔   ایک دن جب ہم سب ڈائینگ ٹیبل پر ڈنر کر رہے تھے والد صاحب, والدہ صاحبہ دادی جان (بی بی جان) چھوٹی بہن شمائلہ موجود تھے اور میں نے ساگ کھانے سے انکار کر رہا تھا جو مجھے سخت ناپسند تھا تو والدِ محترم نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ ساگ میں آئرن پایا جاتا ہے، اور آئرن انسان کے جسم کو مضبوط بناتا ہے، ہڈیوں کو طاقت بخشتا ہے۔ میرے ننھے مگر متجسس ذہن نے اس بات کو قبول کر لیا اور میں نے ساگ ...

دربار جہانگیری میں ٹرمپ اور مودی کی طلبی, تبادلہ خیال || زابر سعید بدر

Image
مغل دربار میں دنیا کے راہ نماؤں کی طلبی صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   لاہور کے شاہی قلعے کے دیوانِ خاص میں آج ایک غیر معمول  دربار سجا ہوا ہے۔ سنگِ مرمر کے ستونوں پر سنہری روشنی جھلملا رہی ہے، اور فضا میں ایک عجیب سنجیدگی ہے۔ تختِ شاہی پر شہنشاہِ ہند نورالدین محمد جہانگیر جلال و وقار کے ساتھ جلوہ افروز ہیں۔ ان کے سامنے زنجیرِ عدل آویزاں ہے وہی زنجیر جسے کھینچ کر ایک عام انسان بھی انصاف کی فریاد لے سکتا ہے۔ اسی لیے شہنشاہ کو عادل شہنشاہ کہا جاتا ہے آج دربار میں دنیا کے بڑے رہنماؤں کو طلب کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے آگے بڑھے George Washington انہوں نے سر جھکا کر کہا: “جہاں پناہ! ہم نے آزادی کی بنیاد انصاف اور جمہوریت پر رکھی، مگر آج دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔ اصول کمزور پڑ گئے ہیں، مفادات غالب آ گئے ہیں۔” ان کے بعد Donald Trump نے قدرے سخت لہجے میں کہا: “دنیا ایک مقابلہ ہے، جہاں مضبوط ہی زندہ رہتا ہے۔ اگر ہم اپنے مفادات کا تحفظ نہ کریں تو کوئی اور ہمیں روند دے گا۔” یہ سن کر دربار میں ہلکی سی سرگوشی ہوئی۔ پھر آگے آئے Xi Jinping انہوں نے تحمل سے کہا: “ہم ترقی، استحکام اور اجتم...

امریکہ اور چین: تصادم کے کنارے پر عالمی طاقتیں,زابر سعید بدر

Image
  امریکہ اور چین: تصادم کے کنارے پر عالمی طاقتیں صاحب زادہ  زابر سعید بدر یہ کالم Foreign Affairs میگزین، مارچ/اپریل 2026 میں شائع ہونے والے مضمون "America and China at the Edge of Ruin" پر مبنی ہے، جس میں ڈیویڈ ایم۔ لیمپٹن اور وانگ جیسی نے امریکہ اور چین کے تعلقات کا انتہائی مفصل اور فکری جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف موجودہ بین الاقوامی سیاست کو سمجھنے میں معاون ہے بلکہ عالمی سطح پر طویل المدتی اقتصادی، فوجی اور ثقافتی اثرات پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ مضمون میں اٹھائے گئے نکات ایک ایسے نقطہ نظر فراہم کرتے ہیں جو پالیسی سازوں، محققین اور عام قاری کے لیے غور و فکر کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ مضمون کے مطابق، آج امریکہ اور چین کے درمیان خطرہ کسی جان بوجھ کر ہونے والی جنگ سے زیادہ، حادثاتی تصادم میں مضمر ہے۔ مثال کے طور پر اپریل 2001 میں چین کے فضائی جہاز اور امریکی EP-3 جاسوسی طیارے کا ہانائی جزیرے کے قریب تصادم، یا مئی 1999 میں بیلگرےڈ میں امریکی بمباری جسے امریکہ حادثاتی قرار دیتا ہے، یہ دکھاتے ہیں کہ معمولی غلط فہمی بھی بڑے تنازعات یا یہاں تک کہ ایٹمی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم،...

امریکہ کی شکاری بالادستی کا عروج اور اب زوال کا آغاز؟ زابر سعید بدر

Image
امریکہ کی  شکاری بالادستی کا عروج  اور  اب زوال کا آغاز؟ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر دنیا کی تاریخ میں طاقت ہمیشہ ایک حقیقت رہی ہے، مگر طاقت کا استعمال کس انداز میں کیا جاتا ہے—یہی کسی قوم یا ریاست کے اصل کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی جریدہ Foreign Affairs میں شائع ہونے والی ایک اہم تحریر نے اس بحث کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔ اس میں امریکی خارجہ پالیسی، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کو ایک "شکاری بالادستی" کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔ یہ تصور سادہ ہے مگر خطرناک: ایک ایسی بڑی طاقت جو ہر تعلق کو ایک مقابلہ سمجھتی ہے، جہاں ایک کا فائدہ دوسرے کا نقصان ہو۔ اس سوچ میں دوستی، اتحاد اور عالمی اصول ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں، جبکہ اصل مقصد ہر حال میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں یہی رجحان واضح نظر آتا ہے۔ تجارت کو ہتھیار بنایا گیا، محصولات کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا، اور فوجی تحفظ کو بھی ایک سودے بازی کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ اتحادی ہوں یا مخالفین، سب کے ساتھ ایک جیسا رویہ اختیار کیا گیا—"یا تو مان جاؤ، یا نتائج بھگتو"۔ بظاہر یہ حکمتِ عملی...

Predatory Power: The Rise and Inevitable Reckoning of a New World Order || Zabir Saeed Badar

Image
  Predatory Power: The Rise and Inevitable Reckoning of a New World Order Sahibzada Zabir Saeed Badar When dominance replaces trust, even the strongest powers begin to stand alone . A new doctrine of power is reshaping global politics—one driven by pressure, profit, and unpredictability. Short-term gains are masking long-term fractures in alliances and trust. Rising powers like China are offering alternatives to a once-dominant order. Allies are no longer secure; they are cautious, calculating, and quietly diversifying. History reminds us: power without balance ultimately weakens itself. Power has always shaped the course of history, but the manner in which it is exercised defines the legacy of nations. A recent cover story in Foreign Affairs introduces a striking concept—“predatory hegemony.” It describes a great power that treats every relationship as a zero-sum game, where its gain must come at the expense of others. This framework offers a compelling lens through which to exami...