Posts

Pakistan’s Strategic Significance Between U.S. and China”,Zabir Saeed Badar

Image
 ا لجزیرہ کے تجزیہ نگار ایرک شاہزار کی رپورٹ — حقیقت سے زیادہ مغالطہ صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر   حال ہی میں بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ پر ایک مضمون شائع ہوا جس کے مصنف محترم ایرک شاہزار صاحب ہیں، جو خود کو یونیورسٹی آف ہرٹفورڈ شائر سے وابستہ ایک اکیڈمک بتاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مضمون میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ حالیہ سفارتی سرگرمیاں کسی "حقیقی تبدیلی" کا مظہر نہیں بلکہ دباؤ کے تحت ایک وقتی "پیوٹ" ہیں۔ میں نے ان کا مضمون بغور پڑھا، اور صاف محسوس کیا کہ یہ تجزیہ زمینی حقائق سے یکسر نابلد اور مغربی نقطۂ نظر سے مرعوب ہے۔ بلکہ کہنا مناسب ہوگا کہ ایرک شاہزار صاحب نے حقائق کو جزوی انداز میں دیکھ کر پوری تصویر بگاڑ دی ہے۔ 🇵🇰 پہلی بات: پاکستان کی جغرافیائی و اسٹریٹجک اہمیت کا اعتراف خود مصنف یہ بات تسلیم کر رہے ہیں کہ پاکستان کی اہمیت امریکہ کے لیے ازسرِنو تسلیم کی جا رہی ہے — خواہ وہ افغانستان کے تناظر میں ہو، یا خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے۔ لیکن پھر وہ اسی حقیقت کو “وقتی” قرار دے کر اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتے ہ...

From Headlines to Hashtags: The Evolution of Journalism,Zabir Saeed Badar

Image
  From Headlines to Hashtags: The Evolution of Journalism   Sahibzada Zabir Saeed Badar The world is changing fast — but perhaps nothing is changing faster than the nature of news itself. Journalism, once called the “fourth pillar of the state,” now seems to be losing its foundation. The old newspapers, whose pages were once the soul of society, are now buried under digital noise. The stories that were once printed on paper now depend on algorithms and screens. This is an age where everyone has become a journalist — yet journalism itself seems lost. In the past, journalists were trained in institutions, made mistakes, faced criticism, and gained credibility through experience. Now, a mobile phone and a few thousand followers are enough to be considered “credible.” Those who were once part of institutions are now trying to become institutions themselves. This new world of journalism carries both opportunity and danger. The opportunity lies in the fact that anyone with talent...

جب ایک برس آئن سٹائن وقت ضائع کرتا رہا,صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
  آئن سٹائن کے نظریہ آضافیت کی کہانی _______________ جب ایک برس آئن سٹائن وقت ضائع کرتا رہا...  مدیر: صاحبزادہ زابر سعید بدر   ترجمہ و معاون: حفصہ زابر سعید بدر   جب البرٹ آئن سٹائن جوان تھا، اُس نے ایک سال کچھ خاص نہیں کیا، بس آرام سے وقت گزارا۔ اکثر والدین یہ بات بھول جاتے ہیں کہ کبھی کبھی “وقت ضائع کرنا” بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔ اُس وقت آئن سٹائن اٹلی کے ایک شہر، پاویا میں رہتا تھا۔ اُس نے جرمنی میں اپنی پڑھائی چھوڑ دی تھی کیونکہ وہاں کے اسکول کے سخت اصول اُسے پسند نہیں آئے۔ اُس کا والد ایک انجینئر تھا اور وہ بجلی کے پلانٹ لگا رہا تھا۔ آئن سٹائن کینٹ نامی فلسفی کی کتابیں پڑھتا اور یونیورسٹی میں کبھی کبھار شوق سے لیکچر سننے چلا جاتا، لیکن وہاں داخلہ نہیں لیا تھا۔ وہ صرف سیکھنے کے لیے پڑھتا تھا، امتحان کے لیے نہیں — اور اسی طرح کے لوگ آگے جا کر بڑے سائنسدان بنتے ہیں۔ کچھ سال بعد، آئن سٹائن نے سوئٹزرلینڈ کے زیورخ شہر کی ایک بڑی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فزکس (طبیعیات) پڑھنے لگا۔ 1905 میں اُس نے ایک مشہور سائنسی رسالے میں تین بڑے مضمون بھیجے۔ ہر مضمون اتنا اہم ت...

انسانی جسم کا حیرت انگیز عمل... جو خودکار طریقے سے بیماریاں ختم کرتا ہے

Image
 آٹو فجی, انسانی جسم کا حیرت انگیز عمل... جو خودکار طریقے سے بیماریاں ختم کرتا ہے صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر  یوشینوری اوسومی (Yoshinori Ohsumi) کو سال 2016 میں نوبیل انعام برائے طب (Nobel Prize in Physiology or Medicine) دیا گیا، کیونکہ انہوں نے انسانی جسم کے اندر ایک حیرت انگیز بقا کے نظام (Survival Mechanism) کو دریافت کیا۔ ان کی یہ تحقیق اس عمل پر مبنی ہے جسے "آٹو فجی" (Autophagy) کہا جاتا ہے — یعنی جب جسم کو خوراک کی کمی محسوس ہوتی ہے تو وہ اپنے ہی پرانے، خراب یا ضائع خلیوں کو "کھا" کر توانائی حاصل کرتا ہے۔ یہ قدرتی سیلولر ری سائیکلنگ (Cellular Recycling) کا نظام جسم کو صحت مند رکھنے، نقصان دہ اجزاء کو ختم کرنے اور بڑھاپے کے عمل کو سست کرنے میں مدد دیتا ہے۔ آٹو فجی ہمارے اعضا کی حفاظت، قوتِ مدافعت (Immunity) کو مضبوط بنانے، اور بیماریوں سے بچاؤ میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نوبیل انعام یافتہ اس تحقیق نے یہ واضح کیا کہ روزہ، خوراک میں کمی (Calorie Restriction) اور متوازن طرزِ زندگی جیسے عوامل کس طرح عمر درازی اور مجموعی صحت پر مثبت اثرات ڈال سکتے ہیں۔ ...

تیسری عا لمگیر جنگ کے گہرے سائے.,صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
تیسری عالم گیر جنگ کے گہرے سائے صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر    چائنیز ڈپلومیسی اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، خاص طور پر اس وقت جب معروف چائنیز ڈپلومیٹ اور اکیڈمک وِکٹر گاؤ نے ایک نہایت سنگین اور غیر معمولی بیان دیا ہے۔ ان کا یہ جملہ — "China will not fire the first shot, but China will not allow you to fire the second shot" — بظاہر ایک سادہ وارننگ نہیں بلکہ ایک سٹریٹیجک سگنل ہے جو چین کی عسکری پالیسی کے حقیقی خدوخال کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی شدید جغرافیائی تناؤ ( Geopolitical Tensions ) سے گزر رہی ہے۔ امریکہ اور چین کے تعلقات میں تلخی بڑھ رہی ہے، جبکہ ہندوستان اپنی فوجی طاقت کے دعووں اور بیانات سے خطے میں مزید اشتعال پیدا کر رہا ہے۔ وکٹر گاؤ کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک، خصوصاً امریکہ، چین کے خلاف جارحیت کا سوچے گا تو چین " devastating consequences " کے ساتھ جواب دے گا۔ انہوں نے واضح طور پر اپنی نیوکلئیر صلاحیتوں اور ہائیڈروجن بم کے ذکر کے ذریعے یہ باور کرایا کہ چین نہ صرف دفاعی لحاظ سے مضبوط ہے بلکہ کسی بھی حملے کے...

غزہ سمٹ میں شہباز شریف,ایک سفارتی زاویہ,صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
  غزہ سمٹ میں شہباز شریف, ایک سفارتی زاویہ صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر   ایک طرف تو پاکستان اور ہندوستان میں کچھ کم ظرف عناصر وزیراعظم شہباز شریف کا مذاق اڑا رہے ہیں، لیکن دوسری طرف حقیقت کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ دنیا کا سب سے طاقتور ملک — امریکہ — اور اس کا موجودہ سربراہ، جو اس وقت دنیا کا سیاسی طور پر سب سے بااثر شخص کہلایا جا سکتا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اور ایک ایسا ملک یعنی پاکستان، جس نے حال ہی میں اپنے سے کہیں زیادہ طاقتور دشمن کے ساتھ ایک جنگ لڑی، اور اُس سے پہلے امریکہ نے صاف کہہ دیا تھا کہ “یہ ہمارا معاملہ نہیں ہے” — ایسے حالات میں جو کچھ ہوا، وہ معمولی بات نہیں۔ اب یہی ٹرمپ، جو دنیا کے طاقتور ترین انسان سمجھے جاتے ہیں، وہی شخص مسلسل اُس رہنما (مودی) پر سفارتی دباؤ ڈال رہا ہے جو خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا، اور اس کے برعکس پاکستان کے وزیراعظم اور اُن کی قیادت کی تعریف کر رہا ہے۔ تو ایسے میں تنقید کرنے والے یقینی طور پر منفی رویّے کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیونکہ یہ دراصل ایک خوبصورت سفارتی اقدام (Diplomatic Move) تھا۔ یہ ایک بہتر فیصلہ اور بہترین سفارتی اشارہ تھا، ...

پاکستانیت بچائیں پاکستان بچ جائے گا,صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
اٹھو کہ حشر نہ ہو گا پھر کبھی افغانوں کا دوغلا پن اور پاکستان کی حکمت عملی   صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر چند روز قبل میں نے اپنے فیس بک صفحے پر افغانوں کی نام نہاد بہادری کے بارے میں ایک تحریر شیئر کی تھی۔ اس مضمون میں میں نے ذکر کیا تھا کہ ان کی قوت ہمیشہ گوریلا جنگ تک محدود رہی ہے، جیسے مرہٹے اورنگزیب کے خلاف لڑا کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی یہ صلاحیت بھی بڑی حد تک ہماری تربیت کا نتیجہ تھی۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ افغان ہمیشہ شکست کھاتے آئے ہیں۔ شکست کی یہ مسلسل داستان ان کے ذہنوں میں ایک نفسیاتی الجھن پیدا کر چکی ہے۔ وقتاً فوقتاً سیاسی فضا کو ٹھنڈا کرنے کے لیے انہیں ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ہمارا سب سے بڑا دشمن، بھارت، پاکستان کے ساتھ ایک طویل سرحد رکھتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک بھارت نے کبھی ہمارے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور آج بھی وہ ہماری فنا کا خواہاں ہے۔ میری ذاتی خواہش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہوں — یہی خواب ہمارے عظیم قائد، قائداعظم محمد علی جناحؒ کا بھی تھا۔ مگر غالب کے الفاظ میں:...