Posts

جب سچ اور جھوٹ کا فرق ختم ہوتا ہے /صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
جھوٹ کی نفسیات صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر ہنّاآرنٹ (1906-1975) ایک مشہور جرمن نژاد فلسفی تھیں  جنہوں نے سیاست، فکریات، اور کلچر کے بارے میں اہم تصورات پیش کیے۔ وہ نازی حکومت کے دوران جرمنی سے فرار ہو کر امریکہ آئیں اور یہاں انہوں نے فلسفہ اور سیاسی سائنس کی تعلیم دی۔ آرنٹ کی سب سے مشہور کتابوں میں"The Origins of Totalitarianism" (1951) اور The Human Condition" (1958) شامل ہیں، جنہوں  نے بیسویں صدی کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ جھوٹ اور سچائی کے بارے میں ان کے خیالات خاص طور پر ان کی کتاب "Crises of the Republic" (1972) میں نظر آتے ہیں، جہاں انہوں نے "Lying in Politic" نامی مضمون میں جھوٹ اور سیاسی طاقت کے درمیان تعلق کو واضح کیا۔ اس میں وہ اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ کس طرح مسلسل جھوٹ بول کر عوام کو الجھن میں ڈال دیا جاتا ہے، تاکہ آخر کار کوئی بھی کسی بات پر یقین نہ کرے۔ اسی طرح، ان کی دوسری مشہور تصانیف میں "The Life of the Mind" (1978) اور "On Revolution" (1963) بھی شامل ہیں، جن میں انہوں نے انسانی فطرت اور سیاسی اصولوں کا عمیق ت...

اسپیشل بچوں پر ایک پر مغز مکالمہ

Image
مکالمہ : اسپیشل بچوں  پر گفتگو     تحقیق و تدوین صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر معاونت حفصہ زابر سعید یونیورسٹی کیفے کی ایک نکڑ پر ڈاکٹر انوار احمد اور طلباء ایک گول میز کے گرد بیٹھے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب چائے کا کپ اٹھاتے ہیں اور سامنے پلیٹ میں رکھے بسکٹوں میں سے ایک اٹھاتے ہیں۔ حفصہ، امنہ، احمد اور علی بھی چائے کے کپ تھامے ہیں، کیفے میں کچھ اور لوگ بھی موجود ہیں لیکن اس میز پر گہری بات چیت جاری ہے۔ --- ڈاکٹر انوار احمد: (چائے کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے)   "تو، آج ہم ایک بہت اہم موضوع پر بات کریں گے۔ اسپیشل چلڈرن، جنہیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہ وہ بچے ہیں جنہیں ہماری زیادہ توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔" (مسکرا کر) "حفصہ، تمہاری کیا رائے ہے؟ کیا تم نے کبھی اسپیشل چلڈرن کے بارے میں کچھ پڑھا ہے؟" حفصہ: (گہرائی سے سوچتے ہوئے)   "جی سر، تھوڑا بہت پڑھا ہے۔ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ انہیں 'اسپیشل' کیوں کہا جاتا ہے؟" ڈاکٹر انوار احمد:  "اچھا سوال ہے۔ اسپیشل چلڈرن وہ بچے ہوتے ہیں جو جسمانی، ذہنی، یا جذباتی لحاظ سے دیگر بچوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ...

مطالعہ کی اہمیت پر مکالمہ

Image
یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کا لان۔ ستمبر کا آخر ہے، موسم میں ابھی تک حبس موجود ہے لیکن ہلکی سی خنکی بھی محسوس ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر انوار احمد چند طلباء کے ساتھ ایک نشست میں مصروف ہیں۔ ان کے ارد گرد چند طلباء موجود ہیں: اقبال، سعید، رابعہ اور اسماء۔ گفتگو کا آغاز مطالعے کی اہمیت پر ہو چکا ہے، اور آہستہ آہستہ مزید طلباء بھی اس مکالمے کا حصہ بننے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ مطالعہ کی اہمیت پر مکالمہ ڈاکٹر انوار احمد: (مسکراتے ہوئے) "اقبال، سعید، رابعہ، اسماء، مجھے خوشی ہوئی کہ آج آپ لوگ مطالعے پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے میں آپ کو بتاؤں، صاحبزادہ زابر سعید بدر صاحب نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں روزنامہ جنگ میں مطالعے کے بارے میں جو کچھ لکھا، وہ انتہائی متاثر کن تھا۔" اقبال: "سر، وہ مضمون میں نے بھی پڑھا! انھوں نے لکھا تھا کہ مطالعہ محض معلومات جمع کرنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ انسان کی شخصیت اور سوچ کی تشکیل کرتا ہے۔" رابعہ: "بالکل! اور سر، جیو نیوز پر بھی ان کے بارے میں ایک رپورٹ دیکھی تھی جس میں مطالعے کے اصول اور دنیا کے مشہور فلسفیوں کی رائے شامل تھی، چاہے وہ مشرق کے ہوں یا...

کیا ایک پرخلوص شخص بے وقوف ہوتا ہے دوستو فسکی کی دی پرنس کے کردار مشکن پر مکالمہ

Image
  یونیورسٹی کیفے، میز پر خلیفہ کی مشہور نان خطائی رکھی ہے اور چائے کے مگ بھاپ دے رہے ہیں۔ کیفے کا ماحول مودب اور خاموش ہے کیونکہ ڈاکٹر انور احمد کا مکالمہ شروع ہو چکا ہے۔ --- ڈاکٹر انور احمد:  (چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے)   "دوستوفسکی کا ناول 'دی ایڈیٹ' انسانی فطرت کی پیچیدگیوں اور اخلاقی نظام پر ایک بے حد خوبصورت طنز ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار  پرنس_مشکن ایک مخلص، سادہ دل اور معصوم شخص ہے۔ لیکن، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، اس معاشرتی نظام میں اس کی معصومیت کو ناسمجھی اور بیوقوفی سمجھا جاتا ہے۔" حفصہ:  (کچھ الجھن میں)   "سر، کیا واقعی پرنس مشکن جیسا خلوص رکھنے والا شخص بیوقوف ہوتا ہے؟ یعنی جو دوسروں کا خیال رکھتا ہو، اور بدلے میں کچھ نہ مانگے، اسے واقعی بیوقوف کہا جا سکتا ہے؟" ڈاکٹر انور احمد:   (مسکراتے ہوئے)   "یہی تو دوستوفسکی کا نکتہ ہے، حفصہ۔ ہمارے معاشرے میں، جہاں لوگ دھوکہ دہی اور خود غرضی کو ہوشیاری سمجھتے ہیں، وہاں ایک سچے اور خلوص دل انسان کو اکثر بیوقوف کہا جاتا ہے۔ پرنس مشکن کا کردار اس بات کا مظہر ہے کہ سچائی اور معصومیت ک...

صحافت سے ابلاغیات تک استاد اور شاگردوں میں مکالمہ

Image
یونیورسٹی_کیفے_ٹیریا میں پروفیسر ڈاکٹر محمد انوارسعید اپنے چند سٹوڈنٹس کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ گرما گرم چائے کے کپ سامنے رکھے ہیں اور موضوع گفتگو ملک کے نامور صحافی، محقق اور استاد، صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر کی  شخصیت اور کارنامے ہیں۔ ڈاکٹر انوار سعید: "بھئی، آج ہم ایک ایسی شخصیت پر بات کریں گے جو صحافت، ابلاغیات، اور تحقیق میں اپنی خاص پہچان رکھتی ہے۔ جناب زابر سعید بدر صاحب کے کام کو اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو، تو میں کہوں گا 'انسائیکلوپیڈک'۔ ان کا ذہن واقعی ایک علمی خزانہ ہے!" احمد (پر جوش انداز میں): "سر! آپ ان کے کن کاموں کی بات کر رہے ہیں؟ زابر سعید صاحب کے بارے میں تو بہت کچھ سنا ہے، خاص طور پر ان کی کتابوں کے حوالے سے۔" ڈاکٹرانوار سعید:  "بالکل، احمد! ان کی کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی اور صحافتی شعور کا عکس ہیں۔ تم نے 'صحافت سے ابلاغیات تک' پڑھی ہے؟ یہ وہ کتاب ہے جس پر ڈاکٹر انور سدید نے بھی تبصرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ زابر سعید کا ذہن انسائیکلوپیڈیا جیسا ہے۔" حفصہ (مسکراتے ہوئے):   "ہاں، سر! آ...

خلیل جبران کا فلسفہ محبت اور کتاب دی پرافٹ (مکالمہ 3)

Image
  یہ مکالمہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ محبت ایک پاکیزہ اور روحانی جذبہ ہے، اور اس کی قدر و قیمت کو سمجھنا چاہیے، جیسے خلیل جبران نے اپنی کتاب "The Prophet" میں بیان کیا۔ آج کل کے نوجوانوں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محبت محض جسمانی تعلق نہیں بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو خدا، خود، اور دوسروں کے قریب لاتی ہے تحریر و تدوین:  صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر پیشکش: حفصہ زابر سعید یونیورسٹی_کیفے ٹیریا میں ہلکی پھلکی موسیقی چل رہی ہے، موسم خوشگوار ہے۔ ایک جانب چند طالب علم (آمنہ، حفصہ، احمد اور علی) ایک میز کے گرد بیٹھے ہیں۔ استاد محترم ڈاکٹر انوار احمد اپنی گہری سوچوں میں بیٹھے ہیں، ان کے سامنے "#TheProphet" کتاب رکھی ہے۔ آج #حفصہ_کی_سالگرہ ہے، اور میز پر لیموں ٹارٹ کا کیک رکھا ہوا ہے جسے بعد میں کاٹا جائے گا۔ کیفے میں خوشی کا ماحول ہے، لیکن گفتگو کا آغاز ایک سنجیدہ موضوع سے ہوتا ہے۔ --- آمنہ: (استاد کی طرف دیکھتے ہوئے) سر، آج کا لیکچر بہت معلوماتی تھا۔ خاص طور پر جب آپ نے خلیل جبران کا ذکر کیا۔ ہم نے ان کا نام تو سن رکھا ہے، لیکن کیا آپ ہمیں ان کی کتاب "The P...

اسرائیلی اخبارات میں عمران خان کی حمایت کا معاملہ

Image
یونیورسٹی   کیفے میں گرم کافی کا ایک اور  مگ لایا گیا۔ ڈاکٹر انوار احمد نے اپنی سنہری عینک کے اوپر سے طلبا کی جانب دیکھا اور اپنے مخصوص انداز سے مسکراتے ہوئے کہا، "بھئی، بسکٹ ختم نہ ہو جائیں، یہ کافی کا مزہ بسکٹ کے ساتھ ہی ہے!" آمنہ، حفصہ، احمد، اور علی کافی کی چسکیاں لینے میں مصروف تھے، لیکن سیاسی گفتگو کا موضوع کافی سے کہیں زیادہ تلخ تھا۔ "تو ڈاکٹر صاحب، یہ عالمی میڈیا # عمران_خان کی حمایت کیوں کر رہا ہے؟" احمد نے سنجیدہ لہجے میں پوچھا۔ ڈاکٹر انوار نے کافی کا گھونٹ لیا اور کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا، "دیکھو، یہ سب ایک بین الاقوامی کھیل ہے۔ یہ صرف عمران خان کی بات نہیں، بلکہ بین الاقوامی طاقتوں کا کھیل ہے۔ جیسے 30 سال پہلے حکیم محمد سعید اور ڈاکٹر اسرار احمد نے ہمیں خبردار کیا تھا کہ یہ سب نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ ہے۔ اور آج ہم جو دیکھ رہے ہیں، وہ انہی باتوں کا نتیجہ ہے۔" علی نے حیران ہو کر کہا، "لیکن عمران خان تو ہمیشہ اس خاص ملک کے مخالف رہے ہیں، تو یہ باتیں کہاں سے آ رہی ہیں کہ وہ ا س ر ا ئ ی ل کے حمایتی ہیں؟" ڈاکٹر انوار نے سر ہلایا، "ی...