Posts

Saeed Badar & Mian Family of Baghbanpura,Zabir Saeed Badar

Image
  اردو English جسٹس میاں محمد شاہ دین صاحب ہمایوں برطانوی ہندوستان کے پہلے مسلمان جج اور برطانوی پنجاب کے پہلے مسلمان چیف جسٹس۔ مسلم لیگ کے بانیان میں شامل، شملہ وفد 1906 کے رکن اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر بھی رہے۔ علامہ اقبال نے ان کے لیے بانگ درا میں مشہور نظم اے ہمایوں لکھی۔ سر میاں محمد شفیع مسلم لیگ کے بانیان میں سے ایک اور مسلم لیگ کا نام تجویز کرنے والے۔ جداگانہ انتخاب پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے مسلم لیگ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ تحریک پاکستان میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ 1932 میں ان کی اچانک وفات نے تاریخ کا دھارا بدل ڈالا۔ بیگم جہاں آرا شاہنواز سر میاں محمد شفیع کی صاحبزادی اور تحریک پاکستان میں خواتین کی ہراول دستے کی رہنما۔ ان کی کتاب Father and Daughter قیمتی تاریخی دستاویز ہے۔ بیگم گیتی آرا بشیر احمد سر میاں محمد شفیع کی دوسری صاحبزادی، میاں بشیر احمد کی اہلیہ اور جسٹس شاہدین کی بہو۔ خواتین کو متحرک کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا، خصوصاً 1940 کے لاہور اجلاس میں۔ میاں بشیر احمد مسل...

Happy Birthday Abbu Jan Saeed Badar sb

Image
  جنت الفردوس میں سالگرہ مبارک ہو ابو جان جنتِ الفردوس میں سالگرہ مبارک ہو، ابو جان صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر کی طرف سے محترم والدِ گرامی جناب سعید بدر صاحب کو دلی نیک خواہشات ولادت: 1939 سال: 2025 86ویں سالگرہ ابو جان کا مختصر تعارف — Brief Introduction About Mr. Saeed Badr (English) Mr. Saeed Badar was one of Pakistan’s senior journalists, whose life was shaped by the trials of migration and steadfast service to the nation. Born in 1939, he witnessed the trauma of 1947 in Firozpur and later migrated to Pakistan. He earned his M.A. (Urdu) from Punjab University and Oriental College. He worked for WAPDA Khabarnama, served at Roznama Jang, and was editor-in-charge of the Sunday magazine at Roznama Imroze until 1991. He later served as Director Administration at the Pakistan Model Educational Institutions Foundation alongside Dr. Ghulam Murtaza Malik and published hi...

کینسر مریضوں کے لیے امید کی کرن مریم نواز شریف

Image
  Well Done Madam Chief Minister English اردو Well Done Madam Chief Minister Today Truly A Beacon of Hope for Cancer Patients Today Punjab witnessed a historic moment in the field of healthcare. Chief Minister Maryam Nawaz Sharif inaugurated a state-of-the-art cancer treatment initiative by installing a machine imported from China worth 250 million rupees. Already, five patients have been successfully treated and cured through this facility. This marks the beginning of a new era in public health. Governance and Public Service But the vision of the Chief Minister goes far beyond this. Her government has actively worked on flood management, cracked down on black marketing, controlled prices, and taken historic action against land grabbers and encroachments. These measures have restored public trust and set an example for other provinces. Women Empowerment and Environment Another bold s...

WELL DONE, MADAM CHIEF MINISTER, Today Truly, Zabir Saeed Badar

Image
  WELL DONE, MADAM CHIEF MINISTER, Today Truly — Editorial EDITORIAL WELL DONE, MADAM CHIEF MINISTER, Today Truly By Sahibzada Zabir Saeed Badar — Editorial reflection on leadership and public service There are moments in public life that make one pause and say: this is leadership in action. Today was one such moment. Punjab’s Chief Minister has inaugurated a modern cancer-treatment facility at a major Lahore hospital — an act that brings hope where hope was badly needed. The launch is more than a medical milestone: it is a moral one. For patients and families who have felt left behind, this is the arrival of dignity and renewed courage. Leadership is ultimately judged by deeds, not by speeches. That quiet, grinding work of turning resources into relief, of translating policy into comfort for the vulnerable — that is where public office proves its worth. The Chief Minister’s de...

Role of Mian Bashir Ahmad in Pak-Turk Relations. Zabir Saeed Badar

Image
  پاک ترکی تعلقات میں میاں بشیر احمد کا کردار پاک ترکی تعلقات میں میاں بشیر احمد کا کردار تحقیق و ادارت: صاحب زادہ زابر سعید بدر   |   شائع شدہ: 19 ستمبر 2025 تحقیقی مضمون تاریخی، ادبی، سفارتی تجزیہ یہ مضمون میاں بشیر احمد کے ۱۹۴۹ میں ترکی میں تقرر سے لے کر ان کے دورِ قیام تک کی سفارتی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا تحقیقی جائزہ پیش کرتا ہے۔ دستاویزی حوالہ جات (سفارتی کتابچے، معاصر پریس اور ادبی رسائل) کی روشنی میں ان کی کوششوں کو پاک-ترک تعلقات کی تہذیبی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔ تمہید پاکستان کے قیام کے بعد ترکی کے ساتھ تعلقات کو بروقت اور معنوی اہمیت دی گئی۔ میاں بشیر احمد، جو پہلے ادبی اور قانونی پس منظر رکھتے تھے، کو ۱۵ جون ۱۹۴۹ میں پہلی پاکستانی سفارت نمائندگی کے طور پر انقرہ بھیجا گیا۔ اُن کا دورِ کار سفارتی سے بڑھ کر ثقافتی سفارتکاری کا دور تھا، جس میں انہوں نے اردو ادب خاص طور پر اقبالؒ کے پیغام کو ترکی حلقوں میں متعارف کروانے کی کوشش کی۔ آمد اور پروٹوکول دست...

میڈیا کریسی, میڈیا کیسے سطحیت کو فروغ دیتا ہے, صاحبزادہ زابر سعید بدر

Image
  بک ریویو: Mediocracy Book Review: "Mediocracy" by Alain Deneault ریویو نگار: صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر (Zabir Saeed Institute of Media Studies کے زیر اہتمام شائع شدہ) فہرستِ مضامین (Table of Contents) ابتدائیہ کتاب کا مرکزی خیال میڈیا کا کردار سرمایہ داری کا اثر سطحیت کا فروغ تخلیقی صلاحیت میں کمی نتیجہ ابتدائیہ دنیا جس برق رفتاری سے بدل رہی ہے، وہاں علم، دانش اور مہارت کے اصل معیارات بھی ہل کر رہ گئے ہیں۔ آج ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگ زیادہ تر پاپ کلچر، میڈیا اور سرمایہ دارانہ سوچ کے زیر اثر اپنی اقدار اور معیار طے کرتے ہیں۔ Alain Deneault کی کتاب "Mediocracy" اسی تضاد کو سامنے لاتی ہے۔ کتاب کا مرکزی خیال مصنف کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ جدید دنیا میں اوسط درجے کی سوچ اور معیار کو ہی اصل معیار بنا دیا گیا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو نہ تو زیادہ علم رکھتے ہیں نہ تخلیقی صلاحیت، وہی مرکزی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سماج میں اعلیٰ اقدار...

A Comparative Lens: Mughal India vs. Contemporary Europe, Zabir Saeed Badar

Image
A Comparative Lens: Mughal India vs. Contemporary Europe 𝗔 𝗰𝗼𝗺𝗽𝗮𝗿𝗮𝘁𝗶𝘃𝗲 𝗹𝗲𝗻𝘀: 𝘄𝗼𝗺𝗲𝗻’𝘀 𝘀𝘂𝗯𝗷𝘂𝗴𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻 𝗶𝗻 𝗠𝘂𝗴𝗵𝗮𝗹 𝗜𝗻𝗱𝗶𝗮 𝗮𝗻𝗱 𝗰𝗼𝗻𝘁𝗲𝗺𝗽𝗼𝗿𝗮𝗿𝘆 𝗘𝘂𝗿𝗼𝗽𝗲. — A historical counter-analysis of oppression beyond borders Zabir Saeed Badar ابھی حال ہی میں میں نے ایک تحریر دیکھی جس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ مغلیہ دور کے سماج میں عورتوں سے متعلق کچھ ایسی رسومات موجود تھیں جنہیں آج کے نقطۂ نظر سے افسوسناک کہا جا سکتا ہے۔ اس دعوے پر غور کرتے ہوئے مجھے سب سے پہلے ابوالفضل کا آئینِ اکبری یاد آیا۔ ابوالفضل نے اس کتاب میں لکھا ہے: "ہندوستان کے معاشرے میں بعض رسوم ایسی ہیں جو عقلِ سلیم کے خلاف ہیں اور جن پر غور کرنے والا ہر شخص افسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔" اسی سلسلے میں خود مغل شہنشاہ ہند جہانگیر نے اپنی خودنوشت تزکِ جہانگیری میں معاشرتی بگاڑ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے لکھا: "بعض ایسی عادتیں رعایا میں جاری ہیں جو سلطنت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ میں نے بارہا چاہا کہ انہیں ختم کر دوں مگر ی...