Posts

افغانستان اپنا سب سے بڑا دشمن خود ہے, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
  افغانستان — ایک ملک جو خود ہی اپنا سب سے بڑا دشمن بن  چکا ہے                                          صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر       علاقائی کشیدگی، سرحدی ہلاکتیں، عالمی دباؤ اور داخلی کمزوریاں  افغانستان کو مزید تنہائی کی طرف دھکیل رہی ہیں ایران کی سرحدی جھڑپیں اور اموات علاقائی ریاستوں کا سخت مؤقف اور عالمی دباؤ افغانستان کے گرد ایک بار پھر خطرات کی باڑھ کھڑی ہوتی جا رہی ہے۔ پے در پے ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں افغان سرزمین سے متعلق بے اعتمادی نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ عملی اقدامات تک جا پہنچی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایران کی سرحد پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جہاں فرّاہ کے قریب ایرانی سرحدی اہلکاروں کی فائرنگ سے کم از کم دس افغان شہری ہلاک ہوئے۔ یہ وہ افراد تھے جو غربت، بیروزگاری اور غیر محفوظ معاشی حالات کے باعث ایران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ واقعے کی تصدیق افغان ذرائع او...

فوربز میگزین اور پنجاب کا ستھرا پروگرام, صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 پنجاب کا ستھرا پروگرام    ============ عالمی سطح پر تعریف، ہمارے ہاں تعصب کی عینک _______________ صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر   دنیا بھر میں پاکستان، خاص طور پر پنجاب کے ویسٹ مینجمنٹ کے اس بڑے منصوبے کو کھلے دل سے سراہا جا رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بین الاقوامی ادارے، خصوصاً فوربز میگزین، اسے ایک عظیم مثال، جرأت مندانہ ماڈل اور دنیا کا سب سے بڑا ڈیجیٹل ویسٹ سسٹم قرار دے رہے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہمارے اپنے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو تعصب کی عینک نہیں اتارتا۔ انہیں ہر اچھی چیز میں بھی خامی ڈھونڈنے کا ایک عجیب شوق ہے — نہ وہ زمینی حقیقت دیکھتے ہیں، نہ عالمی تعریف، نہ عملی کوششیں۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو تنقید برائے تنقید کو زندگی کا مقصد بنا لیتی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی ادارے اس پروگرام کو مثال بنا کر پیش کر رہے ہیں، تو ہمیں بھی کم از کم اتنا وسیع ظرف ضرور دکھانا چاہئے کہ اپنی اچھی کارکردگی کو کھلے دل سے قبول کریں۔ #فوربز اپنی رپورٹ میں سب سے پہلے یہ حیرت ظاہر کرتا ہے کہ صرف آٹھ ماہ میں پنجاب جیسے بڑے صوبے میں ایسا تاریخی ویسٹ سسٹم قائم ہوا ...

2026...کیا ہونے جا رہا ہے... صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
 نیا سال 2026 .....کیا ہونے جا رہا ایک جائزہ  صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر میرے زیرِ مطالعہ اس وقت The Economist – The World Ahead 2026 کا تازہ شمارہ ہے۔ اس میں ایڈیٹر نے جو آئندہ سال کے بارے میں پیش گوئیاں کی ہیں، وہ نہ صرف چونکانے والی ہیں بلکہ سوچ کے کئی نئے در وا کرتی ہیں۔ پورا شمارہ اپنی جگہ قابلِ مطالعہ ہے، مگر ایڈیٹر کا مقالہ افتتاحیہ —یعنی اداریہ—خاص طور پر دل کو پکڑ لیتا ہے۔ اسی اداریے کے چند اہم نکات، چند نمایاں زاویے، میں یہاں آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں؛ وہ نکات جو آنے والے سال کے خدوخال کو ایک نئی روشنی میں دکھاتے ہیں۔ ایڈیٹر سب سے پہلے یہ تاثر دیتا ہے کہ دنیا ایک بار پھر طاقتوں کی سرد کشمکش کی طرف لوٹ رہی ہے، مگر یہ سرد جنگ پرانی نہیں، نئی ہے,جہاں نظریات کی جگہ سیمی کنڈکٹرز، ہتھیاروں کی جگہ الگورتھمز، اور جاسوسی کی جگہ ڈیٹا نے لے لی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی اب محض سفارتی بدگمانی نہیں، ایک مکمل حکمتِ عملی ہے جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کی تکنیکی برتری کو روکنے پر اُتر آئے ہیں۔ اور یہ کشمکش 2026 میں مزید تیز ہونے والی ہے۔ ایڈیٹر لکھتا ہے کہ “یہ...

ابراہم لنکن کا اپنے بیٹے کے استاد کے نام خط, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
 “ابراہم لنکن سے منسوب ایک مشہور خط —  (نوٹ: مورخین کے مطابق اس خط کی اصل موجود نہیں، مگر اس کے الفاظ حکمت اور تربیت سے بھرپور ہیں، اسی لیے اسے تعلیمی و اخلاقی پیغام کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔) ________ استادِ محترم! میرا بیٹا آج آپ کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک نیا سفر ہے—ایک ایسا سفر جو دنیا کی کروڑوں حقیقتوں سے اسے روشناس کرائے گا۔ میں جانتا ہوں کہ اسے یہ سیکھنا پڑے گا کہ ہر انسان عادل نہیں ہوتا، ہر شخص سچّا نہیں ہوتا۔ لیکن، مہربانی فرما کر اسے یہ بھی سکھائیے گا کہ ہر بدطینت آدمی کے مقابلے میں ایک نیک دل انسان موجود ہوتا ہے، ہر خود غرض سیاستدان کے سامنے ایک سچّا اور مخلص رہنما بھی کھڑا ہوتا ہے، اور ہر دشمن کے مقابل کسی نہ کسی گوشے میں ایک دوست بھی مل جاتا ہے۔ اسے سکھائیے کہ ہار مان لینا آسان ہے، مگر جینے کا اصل سلیقہ اُن لوگوں کے پاس ہوتا ہے جو مشکلات سے لڑنا جانتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانے کہ دنیا دھوکے بھی دیتی ہے، مگر اسی دنیا میں وہ لوگ بھی ہیں جو دوسروں کے لیے دیوارِ سایہ بن کر کھڑے رہتے ہیں۔ اسے کتابوں کی دنیا سے محبت پیدا کرنا سکھائیے، لیکن ساتھ یہ بھی ضرور سکھائیے کہ قدرت ...

دھرمندر, — بچپن کی یادوں کی فریمنگ کا اہم کردار,زابر سعید بدر

Image
 دھرمندر — بچپن کی یادوں کی فریمنگ کا اہم کردار صاحب زادہ زابرسعیدبدر   ہندی سینما کے آسمان پر کبھی ایک ایسا ستارہ چمکا تھا جس کی چمک میں معصومیت بھی تھی، وقار بھی، ہیرو ازم بھی تھا اور انسان دوستی کی خوشبو بھی۔ یہ ستارہ دھرمندر تھا— وہ شخص جسے عوام نے صرف پردے کا ہیرو نہیں کہا، بلکہ اپنا کہا، اپنوں کا کہا۔ پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے میں استاد کے گھر پیدا ہونے والا یہ لڑکا بڑی آنکھوں میں ایک سادہ سا مگر مضبوط خواب لے کر چلا تھا— فلمی پردے پر وہی کر دکھانے کا جو ایک دور میں دلیپ کمار، دیو آنند اور راج کپور کیا کرتے تھے۔ دنیا نے دیکھا کہ یہ خواب صرف پورا نہیں ہوا، بلکہ ایک ایسی رنگین حقیقت میں ڈھلا کہ دھرمندر نصف صدی تک اسی بڑے پردے کی دھڑکن بنے رہے۔ اس کی آنکھوں میں وہ بھولا پن تھا جو کردار نہیں، شخصیت کی پہچان ہوتا ہے۔ اُن کی مسکراہٹ میں وہ مٹھاس تھی جو کسی آرٹسٹ کی ریہرسل سے نہیں آتی— وہ تو فطرت بطور تحفہ دیتی ہے۔ اور ان کی عاجزی… وہ تو گویا ان کی ذات کا زیور تھی۔ عزت، شہرت، طاقت… سب کچھ مل جانے کے بعد بھی وہ دھرمندر کبھی دھرمندر صاحب نہ بنے— ہمیشہ دھرم پا جی ہی رہے۔ فول اور ...

حالیہ ضمنی انتخابات ایک جائزہ صاحبزادہ زابر سعید بدر

Image
 "حقیقت کی دھند میں مدہم ہوتا سچ    پاکستانی ووٹر کا شعوری المیہ" ـــــــــــــــــ صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر  پاکستان کے حالیہ ضمنی انتخابات نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال زندہ کر دیا ہے کہ سچ کیا ہے، اور سچ کا معیار کون طے کرے؟‎‏‎ سیاست کے منظرنامے پر کھڑی دونوں بڑی جماعتیں—مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف—ہر ایک اپنی اپنی کہانی کو اصل حقیقت قرار دے رہی ہیں، اور عوام دو متوازی بیانیوں کے بیچ معلق ہیں۔‎‏‎ جب واقعات ایک ہوں مگر تعبیرات دو، تو سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ سچ کہاں ہے اور کیا واقعی سچ بھی اضافی (relative) ہو سکتا ہے؟ مسلم لیگ (ن) اپنی جیت کو عوامی اعتماد اور کارکردگی کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔‎‏‎ وہ سمجھتے ہیں کہ ترقیاتی کام، انتظامی گرفت اور سیاسی بیانیہ انہیں کامیابی کی طرف لے گئے۔ ان کے نزدیک یہ نتائج حقیقت کی سیدھی، واضح اور ناقابلِ انکار تصویر ہیں۔‎‏‎ دوسری طرف تحریکِ انصاف ایک ایسی جماعت ہے جو برسوں سے اس یقین میں ڈوبی ہے کہ اسے کبھی عوام نہیں ہراتے، اسے صرف “ہرایا جاتا ہے”۔ چنانچہ ان کی نظر میں یہ انتخابات بھی اسی “منصوبہ بند” ظلم و جبر ...

"لیڈر" کے کردار کی اہمیت, ایک جائزہ, صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
تجزیہ ______ لیڈر کا باکردار ہونا کیا اس کا ذاتی معاملہ ہے؟ صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر   لیڈر کا کردار ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ معاشرے میں جب کوئی شخص غیر معمولی مقناطیسیت رکھتا ہو، خوبصورت ہو، نڈر ہو یا اس کے الفاظ میں ایسا طلسم ہو جو عام آدمی کے دل میں سیدھا اتر جائے، تو لوگ اس کی زندگی کے کچھ پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں؛ انسانی ذہن صدیوں سے اسی کمزوری کا شکار رہا ہے۔ دنیا کے بڑے سماجی مفکر Max Weber نے جسے “Charismatic Authority” کہا، وہی حقیقت آج بھی ہمارے سامنے پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ جب کوئی شخصیت کرزما سے لبریز ہو تو لوگ اس کے اردگرد ایک تقدس کی فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ پھر اس کے الفاظ دلیل مان لیے جاتے ہیں اور اس کے اعمال جواز بن جاتے ہیں۔ شخصیت کا کرزما کردار کے نقائص پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کا دماغ اپنے پسندیدہ رہنما کی غلطیوں کو آسانی سے قبول نہیں کر سکتا۔ جب کسی لیڈر کے بارے میں اخلاقی تنازعات یا ذاتی کمزوریاں سامنے آئیں تو دماغ میں ایک ٹکراو پیدا ہوتا ہے—جسے ماہرین نفسیات “Cognitive Dissonance” کہتے ...