Posts

پاکستان افغانستان اور نیو ورلڈ آرڈر, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
_“ علاقائی سیاست کا بدلتا منظرنامہ: پاکستان، افغانستان اور نئی گریٹ گیم___ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر  سن 2000 میں جب صحافی اور تجزیہ نگار Ahmed Rashid نے اپنی کتاب Taliban: Islam, Oil and the New Great Game in Central Asia شائع کی، تب افغانستان ایک غیر یقینی کیفیت میں تھا۔ نہ نائن الیون ہوا تھا، نہ امریکہ نے افغانستان میں طویل مدتی مداخلت کی تھی، اور نہ نیٹو کی جنگ شروع ہوئی تھی۔ احمد رشید نے دو ممکنہ راستے واضح کیے: ایک امن اور اقتصادی ترقی کا راستہ، اور دوسرا مسلسل کشمکش اور عدم استحکام کا راستہ۔ انہوں نے لکھا کہ اگر افغانستان میں قیام امن ممکن ہوا تو پورے خطے کو بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔ اقتصادی تعمیرِ نو کے ذریعے منشیات، دہشت گردی، فرقہ واریت اور کالے دھن کے باعث پیدا شدہ مسائل پر قابو پایا جا سکے گا۔ خطے میں پاکستان کی تنہائی ختم ہوگی، وسطی ایشیائی ریاستوں کو سمندر تک رسائی کے نئے راستے ملیں گے، ایران عالمی برادری میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گا، اور ترکی، چین اور روس اپنے علاقائی و تاریخی مفادات کے تحفظ میں کامیاب ہو سکیں گے۔ احمد رشید نے واضح کیا کہ اگر امن ق...

جنریشن زی کی محبت, ایک نیا تناظر صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
جنریشن زی اور محبت  جب محبت میں ’میں‘ باقی رہ جائے تحریر: ڈاکٹر زابر سعید بدر محبت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی کی قوت رہی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جس نے انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار تک پہنچایا، نفرت کو رحم میں بدلا، اور بکھرے ہوئے انسانوں کو ایک قوم بنا دیا۔ محبت کا اصل سفر "میں" سے "ہم" تک کا سفر ہوتا ہے۔ یہ انسان کو اپنی ذات سے بلند کرتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو پیچھے رکھ کر کسی دوسرے کو آگے لے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت صرف ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور روحانی تربیت بھی ہوتی ہے۔ مگر آج کی جنریشن زی ایک عجیب نفسیاتی کیفیت سے گزر رہی ہے۔ یہ نسل صرف دنیا ہی کے بارے میں نہیں بلکہ محبت کے بارے میں بھی تشکیک کا شکار ہے۔ وہ ہر چیز کو مادیت کی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔ وہ تعلق کو بھی ایک تجربہ سمجھ کر شروع کرتی ہے اور ایک فیصلے کی طرح ختم کر دیتی ہے۔ وہ محبت میں بھی اپنے "میں" کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے، جبکہ محبت تو خود "میں" کی نفی سے شروع ہوتی ہے۔ حال ہی میں BBC News اردو کی ایک تفصیلی رپورٹ نے اسی حقیقت کو نمایاں کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جنریشن زی نے تع...

دنیا کی چند عظیم کتابیں, غازی صلاح الدین کی خوبصورت یادیں / زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا سٹڈیز

Image
دنیا کی چند عظیم کتابیں ___ __________ لیجنڈ ری صحافی غازی صلاح الدین کی خوبصورت یادیں   ~~~~~~~~ زابر سعید بدر انسٹیٹیوٹ آف میڈیا ا سٹڈیز    لیجنڈری صحافی اور کتابوں سے محبت رکھنے والے خوبصورت انسان غازی صلاح الدین بہترین کتابوں اور کتاب دوست معاشروں کے بارے اپنی یادوں کو ہمارے ساتھ شیئر کرتے ہیں جسے زابر سعید انسٹیٹیوٹ اف میڈیا سٹڈیز اپ کے لیے پیش کرتا ہے. ___________ کتابوں کے بارے میں گفتگو ہو تو مجھے کچھ ایسی کتابیں یاد آتی ہیں جن کے ساتھ واقعات جڑے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب دی برج آن دی ڈرینا ہے۔ 1960 کی دہائی میں، میں کراچی کے اخبار لیڈر میں ایک نوجوان رپورٹر تھا۔ وہاں یوگوسلاویہ کی ایمبیسی نے ایک کتاب بھیجی، کیونکہ اس کتاب کے مصنف کو ادب کا نوبیل انعام ملا تھا۔ میں نے وہ کتاب پڑھی — دی برج آن دی ڈرینا — اور مجھے یوں لگا جیسے کسی طلسماتی دنیا کی کہانی ہو۔ ایک دریا پر ایک پل بن رہا ہے، اور جہاں وہ پل بن رہا ہے وہاں کیسی سیاسی کشمکش ہے، کیسے لوگ رہتے ہیں۔ پل بنتا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے لوگوں کی کہانیاں بھی بیان ہوتی جاتی ہیں۔ میں بہت متاثر ہوا اور...

سائیں حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی, تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما بارے صاحب زادہ زابر سعید بدر کی تحریر

Image
 تحریک پاکستان کے ممتاز راہ نما  پیر سائیں حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما اور صوفی بزرگ پیر سائیں حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی قادری 1914ء کے لگ بھگ فیروز پور ( انڈیا ) کے قریب واقع صوبہ قدیم نامی بستی میں پیر کے دن دنیا میں تشریف لائے۔ ابتدائی تعلیم فیروز پور میں ہی حاصل کی تاہم حضرت کی والدہ ماجدہ جو بے حد جہاندیدہ اور نیک خاتون تھیں نے ان کو روحانی تعلیم کے لئے کھریپڑ شریف سائیں محمد عظیم پاک قادری کے پاس بھجوا دیا، جو صاحب کرامت بزرگ تھے سائیں عظیم قادری نے یہاں دینی درس گاہ قائم کر رکھی تھی جہاں درجنوں طلباء اپنی روحانی پیاس کی تسکین کا ساماں کرتے ۔ نوجوان سائیں محمد یعقوب نے جب اپنی تعلیم اس دینی درس گاہ سے مکمل کر لی تو فیروز پور واپس جا کر ممتاز حکیم احمد علی سے طب کی تعلیم حاصل کی ، چند برس بعد دہلی چلے گئے اور طبیہ کالج سے زبدۃ الحکماء کی سند حاصل کی ۔ حکیم محمد یعقوب کو اردو، فارسی، عربی اور پنجابی زبانوں پر مکمل عبور حاصل تھا ۔ انہوں نے اپنی پنجابی شاعری میں جگہ جگہ عربی اور فارسی کا بھر پور استعمال کیا ہے ۔ دہلی ...

کیا مرد بھی ہراسمنٹ کا شکار ہیں, ایک سنجیدہ سماجی سوال | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
کیا مرد بھی ہراسمنٹ کا شکار ہیں — ایک سنجیدہ سماجی سوال   صاحب زادہ محمد زابرسعیدبدر حال ہی میں برطانیہ کے ایک مقدمے نے دنیا کو چونکا دیا۔ چیشائر کی ایک خاتون نے ایک نیک نیتی سے مدد کرنے والے شخص پر ریپ کا جھوٹا الزام لگا دیا۔ بعد ازاں عدالت میں سچ سامنے آیا، خاتون نے اعتراف کیا اور اسے دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جج نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایسے جھوٹے الزامات کے بعد مرد یہ سوچ سکتے ہیں کہ وہ آئندہ کسی اکیلی عورت کی مدد کے لیے نہیں رکیں گے — اور یہ معاشرے کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ یہ واقعہ ہمیں ایک بڑے سوال کی طرف لے جاتا ہے: کیا ہر الزام فوراً سچ مان لیا جانا چاہیے؟ چند برس قبل پاکستان میں بھی اس حوالے سے بحث ہوئی تھی۔ سابق چیئرپرسن نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کشمالہ طارق نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہراسمنٹ کے کئی کیسز تحقیقات کے بعد غلط یا مبالغہ آمیز ثابت ہوئے۔ اسی تناظر میں حالیہ دنوں ایک کالج پروفیسر کی خودکشی کا واقعہ بھی زیر بحث آیا، جہاں ان پر لگنے والے الزام کو بعد میں متنازع قرار دیا گیا۔ ایسے واقعات محض خبریں نہیں ہوتے، یہ انسانی زندگیاں ہوتی ہیں۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگ...

کیا انسان موت کو شکست دینے والا ہے؟؟؟ایلون مسک کیا کہتے ہیں.. صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز  __________ ایلون مسک کے خیالات: انسان، مشین اور مستقبل کی دنیا صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر  حفصہ زابر سعید بدر  :::::::::::::::::: ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایلون مسک کا نام صرف ایک صنعت کار یا ارب پتی کا نہیں، بلکہ ایک ایسے شخص کا ہے جو مستقبل کو موجودہ آنکھ سے دیکھنے کے بجائے آنے والی صدیوں کے زاویے سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ حال ہی میں معروف جریدے Fortune کو دیے گئے انٹرویو میں ایلون مسک نے انسانی زندگی، صحت، مشینوں اور مصنوعی ذہانت (AI) کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کیا ہے جو نہ صرف سائنسی حلقوں بلکہ سماجی اور اخلاقی مباحث میں بھی ہلچل پیدا کر رہے ہیں۔ ایلون مسک کے مطابق انسان قدرتی طور پر نہیں بلکہ حیاتیاتی طور پر “مرنے کے لیے پروگرام” کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انسانی جسم میں موجود اس پروگرام یا نظام کو سمجھ لیا جائے اور اس میں تبدیلی کی جا سکے، تو انسانی عمر کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔ مسک کے نزدیک بڑھاپا کوئی ناقابلِ تغیر تقدیر نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے سائنس اور انجینئرنگ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ...

کیا واقعی سب ختم ہو چکا, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
 کیا واقعی سب کچھ ختم ہو چکا ہے؟ زابریافت | صاحبزادہ  زابر سعید بدر   جنریشن زی کے بیانیے، تاریخ اور فکری فلٹریشن کا سوال زورین نظامانی اپنے مضمون “It Is Over” میں پورے وثوق سے لکھتے ہیں کہ “For the older men and women in power, it’s over. The young generation isn’t buying any of what you’re trying to sell.” یہ جملہ صرف ایک رائے نہیں، بلکہ ایک تاریخی دعویٰ ہے — اور یہی وہ مقام ہے جہاں سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی یہ پہلا دور ہے جب نوجوان یہ سمجھ رہے ہوں کہ سب کچھ اب انہیں سمجھ آ گیا ہے اور اس سے پہلے سب ناکام تھے؟ اگر انسانیت کی ہزاروں سالہ تاریخ کو دیکھا جائے تو یہ احساسِ برتری ہر دور کی نوجوان نسل کا المیہ رہا ہے۔ جنریشن گیپ کوئی نئی بیماری نہیں۔ ہم خود اپنے بچپن میں یہی سنتے اور کہتے رہے کہ پچھلی نسل ہمیں نہیں سمجھتی، اور اب وہی مکالمہ نئے الفاظ میں دہرایا جا رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج کی جنریشن زی سوشل میڈیا ایج میں پیدا ہوئی ہے۔ نظامانی صاحب لکھتے ہیں:  “Thanks to the internet… you have failed to tell people what to think; they are thinking for themselves.” یہ ...